اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے اور حقیقت کے بھی چاہے مطابق ہو کہ رافضیت ناصبیت سے بڑا فتنہ ہے تو کیا بڑے فتنے کی موجودگی میں چھوٹے فتنوں سے پہلو تہی کی جاسکتی ہے؟ الحاد کا فتنہ عالمی فتنہ ہے اور دن بدن بڑھ رہا ہے قادیانیت کا فتنہ موجود ہے لا مذہبیت دجل و فریب کا فتنہ موجود ہے این جی اوز مختلف انداز میں خلافِ اسلام تحریکات و تشویشات میں مشغول و منہمک ہیں کیا ان سب کی وجہ سے بریلویت ، مودودیت وغیرہ فتنوں سے صرفِ نظر کیا گیا ہے؟ فتنہ فتنہ ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کی تردید اور ابطال کے لیے اس کے بڑا ہونے کا انتظار نہیں کیا جائے گا ، محمود احمد عباسی ابتدا میں ایک فرد تھا اور ایک کتاب تھی لیکن اکابر علماء نے اس کے خارجی عظیم الجثہ جلیل الحصہ ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس کی برملا تردید کی ، منکر حدیث پرویز فرد واحد تھا مگر اس کی تردید آج تک کی جارہی ہے اور اس کے جراثیم آج بھی موجود ہیں مودودی صاحب ایک فرد تھے اور ایک کتاب لکھی تھی خلافتِ ملوکیت ، آپ کے ہی حلقہ نے مودودی صاحب کو گالی بنا دیا ، اکابر تا اصاغر سبھی نے ان کی رسوائے زمانہ کتاب خلافت و ملوکیت کی تردید کی اور آج تک ان کے باطل خیالات کی تردید کی جارہی ہے اور ناصبیت تو اس حد تک پھیل چکی ہے کہ دس محرم الحرام کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشی میں کیک کاٹا جارہا ہے، تحقیر و تمسخر کی تمام حدود پھلاندی جارہی ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مولا جٹ کہہ کر برملا مخاطب کیا جارہا ہے اس سب کے باوصف بھی اگر آپ ناصبیوں کی لسٹ کی تلاش میں ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں کہ بڑا فتنہ کون سا ہے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ اس فتنہ اور اس کی زہر ناکی و سازش سے بے خبر و ناواقف ہیں
نیاز مند
عبدالصمد ساجد
26 جمادی الاولی 1448 ھ
7 نومبر 2026 ء بروز ہفتہ
0