جہانیاں/ایک سیاسی یتیم تحصیل کا نوحہ/تحریر/ماجد اسلم/نمائندہ جہانیاں 0

جہانیاں/ایک سیاسی یتیم تحصیل کا نوحہ/تحریر/ماجد اسلم/نمائندہ جہانیاں

جہانیاں/ایک سیاسی یتیم تحصیل کا نوحہ/تحریر/ماجد اسلم/نمائندہ جہانیاں

جنوبی پنجاب کے نقشے پر اگر کوئی بستی اپنی خاموشی میں چیخ رہی ہے تو وہ جہانیاں ہے ایک تحصیل جو محنت میں امیر مگر سیاست میں غریب ہے یہ زمین سرسبز کھیتوں اور محنت کشوں سے بھری پڑی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کا نام شاید ہی کسی اجلاس کے ایجنڈے پر لکھا گیا ہو۔
یہ شہر اور اس کے گرد و نواح کے دیہات وہ جگہ ہیں جہاں کسان آج بھی ہاتھ سے زمین ناپتے ہیں، مزدور اپنی اجرت کے انتظار میں شام کرتے ہیں اور نوجوان روزگار کے دروازوں پر ناکام ٹھوکریں کھاتے ہیں مگر یہاں کے لوگوں کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ ترقیاتی منصوبے کم ہیں بلکہ یہ ہے کہ کوئی پائیدار سیاسی نمائندگی ہے ہی نہیں جس نے بھی جہانیاں سے ووٹ لیا وہ اقتدار کی دہلیز پار کرتے ہی بیگانہ ہو گیا۔
حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی تحصیل جہانیاں آمد ہوئی تھی مگر عوام کو کوئی ٹھوس اعلان ملنے کی بجائے صرف وعدے سننے کو ملے اس واقعے پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید ہوئی کہ آنے والا مہمان آیا تصویر بنائی اور چلا گیا اس کے بعد تبدیلی کی راہ ابھی تک نہیں دکھائی دی اس آمد نے عوامی توقعات کو بیدار تو کیا مگر عمل کی کمی نے مایوسی کو مزید تقویت دی۔
اس کے علاوہ ایک نیا سیاسی چہرہ ابھرا ہے چودھری خالد جاوید آرائیں (جو حلقہ پی پی 210 سے منتخب ہیں) نے اسمبلی میں اپنی آواز اٹھائی ہے اور مقامی سطح پر یہ امید پیدا کر رہے ہیں کہ شاید وہ اس تحصیل کی یتیمی کا خاتمہ کریں گے۔
جہانیاں کے مسائل اتنے بنیادی ہیں کہ ان پر خاموش رہنا خود ایک جرم ہے دیہی علاقوں کی سڑکیں برسوں سے مرمت کی منتظر ہیں ،تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال کے باہر کی بھیڑ اندر کی خاموشی سے زیادہ خوفناک منظر پیش کرتی ہے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کی مرمت و تزئین و آرائش کے لیے کچھ منصوبے تو تیار کیے گئے ہیں مگر عملدرآمد کچھ خاص نہیں لوگ ایمبولینس سہولت، ہنگامی یونٹ کی بہتر فراہمی اور بنیادی طبی سہولیات کے تقاضے دہراتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرکاری پی سی-1 منصوبوں میں ہسپتال کی اپ گریڈیشن کی دستاویزات دکھائی دیتی ہیں مگر زمینی حقیقت ابھی بھی بہت دور نظر آتی ہے۔
زراعت جو جہانیاں کی پہچان تھی پانی اور زرعی مسائل اس تحصیل کی زندگی کی رگوں میں پھنسے ہوئے ہیں تحقیقی مطالعات نے یہاں نمکین پانی (saline intrusion) اور پانی کی کوالٹی کے مسائل کی نشاندہی کی ہے کسان کھیتوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی نمکیات کے باعث پیداوار کی کمی اور زمین کی صحت کے مسائل کا شکار ہیں یہ چیز نہ صرف روزگار کو متاثر کرتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی زراعتی بنیادوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے کسان اب پیداوار سے زیادہ نقصان گنتے ہیں مگر ان کے لیے کوئی پالیسی، کوئی سبسڈی، کوئی منصوبہ بندی اور مستقل بنیادوں پر حل موجود نہیں۔
جہانیاں کی اصل بدقسمتی یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں بلکہ یہ ہے کہ کوئی ان وسائل کا دفاع کرنے والا نہیں یہاں کوئی ایسا رہنما نہیں جو پانچ سال بعد دوبارہ انہی گلیوں میں لوٹے عوام سے نظریں ملا کر کہہ سکے کہ وعدے نبھائے سیاسی جماعتوں کے منشور میں جہانیاں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ جہانیاں کے لوگ اپنی سیاسی یتیمی کے احساس کو بدلیں ووٹ کو نعرہ نہیں سوال بنائیں امیدواروں سے صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج مانگیں اس تحصیل کو کسی مسیحا کی نہیں بلکہ بیداری عوام کی ضرورت ہے عوام اگر اجتماعی شعور کے ساتھ فیصلہ کریں تو جہانیاں کے زخموں پر مرہم رکھنا ممکن ہے۔
جہانیاں کی عوام ابھی بھی امید رکھتی ہے، اس کے بچے اب بھی خواب دیکھتے ہیں، اس کے کھیتوں میں فصل اگانے والے اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ شاید ایک دن یہ تحصیل بھی سیاست کی یتیمی سے نکل کر ترقی کے سفر پر گامزن ہو مگر وہ دن تب آئے گا جب یہاں کے لوگ یہ طے کر لیں گے کہ ان کے ووٹ کا مول صرف وعدے نہیں بلکہ عمل ہوگا۔جہانیاں/ایک سیاسی یتیم تحصیل کا نوحہ/تحریر/ماجد اسلم/نمائندہ جہانیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں