مضمون نگار/محب اللہ ہمدرد
والدین سبب وجود ہیں جیسے اللّٰہ تعالٰی وجود مادہ کا سبب ہے علت وجود اللّٰہ ہے پہلے گویا کہ تمھاری پیدائش میں والدین کو بہت بڑا دخل ہے اللّٰہ نہ ہوتے تو بھی پیدا نہ ہوتے اور والدین نہ ہوتے تو تب بھی پیدا نہ ہوتے یہ چیز کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔
والدین میں اس صفت میں ممتاز ہیں ماں باپ اولاد کے جو کچھ احسان کرتے ہیں وہ کسی غرض اور عوض کے لئے نہیں اولاد کی تربیت سے ماں باپ کسی وقت ملول نہیں ہوتے اولاد کے لئے جو کمال ممکن ہو والدین دل وجان سے اس کی آرزو کرتے ہیں اولاد کی ترقی اور عروج پر کبھی حسد نہیں کرتے ہمیشہ اپنے سے زیادہ اولاد کی ترقی اور عروج پر دیکھنے کے خواہشمند اور آرزومند رہتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے عبادت کے بعد تعظیم والدین کا حکم دیا اور انہی وجوہ کی بناء پر والدین کی تعظیم تمام شریعتوں میں واجب رہی اور چونکہ یہ حق محض ماں باپ ہونے کی وجہ سے ہے اس لیئے وبالوالدین میں ایمان کی قید نہیں لگائی گئی اشارہ اس طرف ہے کہ والدین کی تعظیم والدین ہونے کی حیثیت سے ہر حال میں واجب اور لازم ہے والدین خواہ کافر وفاجر ہوں یا منافق وفاسق ہوں اسی وجہ سے ابراھیم علیہ السلام نے آزر کی دعوت اور تلقین میں ہمیشہ تلطف اور نرمی کو ملحوظ رکھا جیساکہ سورہ مریم میں مفصل قصہ مذکور ہے۔
اور قرآن اور حدیث میں جابجا کافر اور مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی سلوک اور احسان کا حکم دیا گیا ہے گویا اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے وبالوالدین احساناً وان کانا کافرین۔ یعنی ماں باپ سے حسن سلوک کرو اگر چہ وہ کافر کیوں نہ ہوں۔
وقضى ربك الا تعبدا الا اياه وبالوالدین احساناً
اس آیت میں اول والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور پھر اس کے بعد پانچ باتوں کا حکم دیا۔
(1) لاتقل لھما اف ، انکے سامنے اف مت کرو۔
(2) ولا تنھرھما، ان کو جھڑ کو مت اور انکے سامنے آواز بلند نہ کرو۔
(3) والا لھما قولا کریما ،ان سامنے ادب سے بات کرو۔
(4) واخفض لھما جناح الذل من الرحمة ، یعنی کمال تواضع اور کمال شفقت کے ساتھ ان سے برتاؤ کرو۔
(5) وقل ارب رحمھا کما ربینی صغیرا ، یعنی انکے لئے دعائے مغفرت و رحمت کرو۔
مطلب یہ ہے کہ خالی آدب اور تواضع اور شفقت پر اکتفا نہ کرو کیونکہ یہ سب چیزویں فانی ہیں بلکہ دعا کرو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت باقیہ اور دائمیہ سے ان کی دستگیری کرے اور رحمت آخرت کی دعا مسلمان والدین کے لئے مخصوص ہے۔
ایک فلسفیانہ وسوسہ اور اس کا جواب
وسوسہ یہ کہ اگر چہ والدین اولاد کے وجود کا سبب ظاہری ہیں لیکن اس میں انکی نفسانی خواہش کو بھی دخل ہے جس سے ایک فرزند تولد ہوا اور پیدا ہو کر عالم آفات میں آپہنچا اور طرح طرح کی مشقتوں اور مصیبتوں میں آپہنچا تو والدین کا اولاد پر کیا احسان ہوا جس کا شکر واجب ہوا اور اس احسان کے صلہ میں انکی اطاعت اور خدمت فرض ہو حتیٰ کہ ایک فلسفی اپنے باپ کو مارا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اسی نے مجھ کو عالم کون فساد میں داخل کیا۔
اسی نے مجھ کو موت کا نشانہ بنایا اور فقر وفاقہ اور طرح طرح کے امراض وآلام کے دہانہ پر کر مجھے کھڑا کردیا۔
اسی قسم کا ایک فلسفی ابو العلاء گزرا ہے اس سے پوچھا گیا کہ ہم تیری قبر کیا لکھیں اس نے کہا کہ میری قبر پر یہ شعر لکھ دینا ۔
ھذا جناہ ابی علی
یہ اس کی باپ کا اس پر ظلم ہے
وما جنیت علی احد
اور میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا۔
یعنی میں نے نکاح نہیں کیا اور کوئی بچہ نہیں جنوایا بلکہ سب کو پردہ عدم میں رہنے دیا تاکہ میری وجہ سے پردہ عدم سے نکل کر اس دارفانی کے آفات اور مصائب میں مبتلا نہ ہو پردہ عدم میں رہنے کی وجہ سے آگر چہ اس دنیا کے عیش وآرام سے متمتع نہ ہوا تو اس دنیا کی آفات اور مصیبتوں سے محفوظ رہا۔
اسی طرح اسکندر سے پوچھا گیا کہ تجھ پر تیرے والد کا حق زیادہ ہے یا ترے استاد کا اسکندر نے جواب دیاکہ استاد کا حق زیادہ ہے اس نے میری تعلیم و تربیت میں طرح طرح کی سختیاں برداشت کےکے مجھے علم کی روشنی میں داخل کیا اور رہا والد تو اس کو اپنے لیے لذت جماع کی خواہش تھی اس نے مجھ کو عالم کون وفساد میں نکالا۔
اس فلسفیانہ طویل تقریر سراپا تزویر کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ اول امر میں والدین کا مقصود لذت نفسانی ہو مگر جب بچہ پیدا ہوگیا تو اس وقت سے لے کر آخر تک دیکھو کہ ماں باپ نے اس فرزند کے ساتھ کیا معاملہ کیا اسکو اپنے لخت جگر جانا اور اسکی ولادتِ پر خوشیاں منائیں ۔
اسکی تربیت میں طرح طرح کی مشقتیں اٹھائیں اور اسکی تعلیم و تادیب میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور ضروریات میں اسکو اپنے سے مقدم رکھا اور اپنے آکر تنگی برداشت کرکے دل وجان سے اسکے مصارف زندگی اور مصارف تعلیم پورے کیے اور اس بات کا پورا پورا اہتمام کیا طرح طرح کی خوبیاں اور بھلائیاں جو اس کو پہنچا سکتے تھے وہ اس کو پہنچا ڈالیں اور جس بلا اور آفت کو اس سے ہٹاسکتے ہوں۔وہ اس دورکردیں اور دن رات اس کوشش میں لگے رہے کہ مولود کو ہم سے ہزار درجہ بڑھ کر نعمتیں اور عزتیں اور راحتیں مل جائیں اور اس راہ میں جو مشقتیں پیش آئیں وہ والدین نے اپنے اوپر اٹھائیں یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچا اور جوان ہوگیا کیا اس والہانہ شفقت ومحبت اور بے غرضانہ تربیت سراپا رحمت کا کوئی معمولی سا شمہ یا ادنی سا نمونہ سوائے والدین کے کسی اور جگہ بھی دکھلایا جاسکتا ہے دیکھنا تو در کنار ایسی محبت اور شفقت کے تصور سے عقل بھی قاصر ہے
خلاصہ کلام یہ کہ عالم، عالم اسباب ہے جس میں اللّٰہ نے اپنی قدرت اور مشیت سے ایک شئی کو ایک شئی کا سبب بنایا، نسل انسانی اور حیوانی کے بقاء کا ذریعہ اور سبب اس نفسانی خواہش کو بنایا ہے اگر یہ نفسانی خواہش درمیان میں نہ ہوتی تو نسل انسانی اور حیوانی کا وجود نہ ہوتا
دنیا کی تمام لذائذ طیبات مرغوبات اور مطعومات اور مشروبات بلا شبہ حق جل شانہ کی نعمتیں ہیں حالانکہ ان میں طبیعت کی رغبت اور نفس کی شہوت اور لذت ساتھ ساتھ ہے اور اسی طبعی رغبت کی آمیزش کی وجہ سے انکے نعمت ہونے انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس طبعی رغبت کی وجہ سے نعمت کی لذت دوبالا ہو جاتی ہے اور جس ہاتھ سے یہ نعمتیں کسی کو میسر آجاتی ہیں تو وہ شخص اس ہاتھ کا ممنون اور احسان مند ہوتا اور فرط محبت سے اس ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے۔
جس ماں نے اسکو نو(9)مہینہ اپنے پیٹ میں رکھا اور دو(2)برس تک دودھ پلایا اور تین،چار ,(3,4) سال تک ماں باپ اسکو ازراہ شفقت ومحبت اور بطور لذت ومسرت گود میں اٹھائے پھرے اور راتوں اسکے لئے جاگئے اور اسکی راحت کے لیے طرح طرح کی مشقتیں اٹھاتے رہے اور یہاں تک کہ جوان ہوگیا اب یہ نادان کہتا کہ ماں باپ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔