دین و دنیا کا توازن — خاندانی استحکام کی بنیادتحریر/ام عبدالرحمن
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور والدین کے سپرد ایک مقدس امانت ہے۔ اسلام نے والدین کو اولاد کی صرف ظاہری پرورش اور جسمانی نگہداشت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ یوں تربیتِ اولاد محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسا دینی فریضہ ہے جس کا اثر دنیا اور آخرت دونوں پر پڑتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔”(التحریم:6)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ والدین کی اصل ذمہ داری صرف دنیاوی آسائش نہیں بلکہ اہلِ خانہ کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی جدوجہد ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا؛ آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے۔”
(صحیح بخاری: 893، صحیح مسلم: 1829)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ والدین کی ذمہ داری روزمرہ کی دیکھ بھال تک محدود نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی تربیت تک بھی محیط ہے۔
والدین کا عملی نمونہ بچوں کی تربیت میں سب سے مؤثر ذریعہ ہوتا ہے، کیونکہ بچے زیادہ تر دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اسلام میں والدین دونوں کو تربیتِ اولاد کا شریک بنایا گیا ہے تاکہ بچے کو متوازن تربیت حاصل ہو۔ باپ کو قرآن میں “قوام” قرار دیا گیا ہے، یعنی وہ گھر کے نظام، کفالت، نگرانی اور رہنمائی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کی سچائی، دیانت داری، عبادت اور معاملات میں اخلاص بچوں کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اسی طرح ماں کو گھر کا سکون اور محبت کا سرچشمہ کہا گیا ہے، اور اس کی گود بچے کی ابتدائی شخصیت کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں وہ محبت، اعتماد، اخلاق اور دین داری کا ذائقہ پاتا ہے۔ یوں اگر باپ نظم و ضبط اور رہنمائی فراہم کرتا ہے تو ماں سکون اور اخلاقی رنگ عطا کرتی ہے۔ دونوں کی مشترکہ محنت ہی ایک صالح اور نیک نسل کی بنیاد ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نیک اولاد کو والدین کے لیے موت کے بعد بھی صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔
تربیتِ اولاد کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا فرد تیار ہو جو دین پر مضبوطی سے قائم رہے، نیک اور باکردار ہو، معاشرے کی تعمیر و اصلاح کا ذریعہ بنے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے۔ اسلام میں بیٹے اور بیٹی دونوں کی تربیت یکساں اہمیت رکھتی ہے اور دونوں کا مقام برابر ہے، فرق صرف فطرت اور ذمہ داریوں کا ہے۔
بیٹے کو جسمانی قوت، قیادت اور کفالت کی صلاحیت دی گئی ہے تاکہ وہ گھر اور خاندان کا محافظ اور عادل رہنما بن سکے، جبکہ بیٹی کو نرم دلی، اخلاقی حسن اور نسل کی تربیت کا کمال عطا کیا گیا ہے تاکہ وہ ایک نیک بیوی اور ماں بن سکے۔ دونوں کی تربیت میں بنیادی اصول یکساں ہیں: ایمان، عبادات، اخلاق، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری۔ والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی فطرت کے مطابق رہنمائی فراہم کریں تاکہ دونوں دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔
بچوں کو تعلیم، محنت، اخلاقی قائدانہ صلاحیتیں، معاشرتی تعلقات، تعاون اور ہنر سکھانا بھی والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ یہ عملی تربیت بچوں کو مضبوط، خودمختار اور ذمہ دار انسان بناتی ہے جو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفید ہو۔
جدید دور میں عورت اور مرد کے درمیان مساوات کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ بیٹی بھی بیٹے کی طرح تعلیم، ہنر اور خود کفالت میں آگے بڑھے اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکے۔ یہ ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ اسلام نے بھی عورت کو علم اور تعمیرِ کردار میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد کے تعلق کو صرف مساوات کے پیمانے پر نہیں پرکھا بلکہ انہیں ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”(الروم:21)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ میاں بیوی کا تعلق محبت، رحمت اور تکمیل پر قائم ہے، نہ کہ مقابلہ یا برابری کے دعوے پر۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو ترقی اور خود کفالت کے مواقع ضرور ملنے چاہئیں، مگر اس انداز میں کہ دونوں کی فطری صلاحیتیں اور دین کے بتائے ہوئے کردار ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کا بدل بنیں۔ اسی میں خاندان، معاشرے اور نسلِ انسانی کی بھلائی پوشیدہ ہے۔
اسلامی تاریخ میں ہمیں ایسی روشن مثالیں ملتی ہیں جہاں مرد و عورت نے اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ذریعے ایک دوسرے کی تکمیل کی۔ حضرت خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ معاشی میدان میں مدد فراہم کی، جبکہ آپ ﷺ نے نبوت، قیادت اور امت کی رہنمائی کا بوجھ اٹھایا۔ دونوں نے اپنی ذمہ داریوں کے ذریعے ایک دوسرے کو سہارا دیا۔
اسی طرح قرآنِ کریم میں حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں کا واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔ سورۃ القصص میں بیان ہے کہ:
“انہوں نے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانور روک رہی تھیں۔ موسیٰؑ نے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک چرواہے واپس نہ چلے جائیں، اور ہمارے والد ضعیف ہیں۔”
یہ جواب ان کی حیا اور عفت کی دلیل تھا کہ وہ مردوں کے ہجوم میں اختلاط کے بجائے کنارہ اختیار کر رہی تھیں۔ یہاں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ عورت اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ عملی کردار ادا کر سکتی ہے، مگر اس کا انداز وقار اور حیا سے مزین ہونا چاہیے۔
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ دینی اصول اور معاشرتی ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں، یعنی اسلام عورت و مرد کو مقابل نہیں بلکہ معاون سمجھتا ہے۔ یوں اسلام میں مرد اور عورت ایک دوسرے کا بدل نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ لہٰذا والدین پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو دینی اصولوں اور جدید مہارتوں میں ایسا امتزاج سکھائیں جو مذہبی اور معاشرتی تعلیم و تربیت کے درمیان پل کا کام دے۔
آج کے معاشرے میں مرد اور عورت تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور معاشرتی سرگرمیوں میں ترقی کر رہے ہیں، جو قابلِ تحسین ہے۔ تاہم بعض اوقات یہ ترقی مقابلہ بازی یا بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس سے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور گھریلو سکون متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ترقی اور ذمہ داریوں کو ایک دوسرے کی تکمیل کے اصول کے مطابق انجام دیں، تاکہ خاندان مضبوط رہے اور نسلیں دینی و اخلاقی تعلیم کے ساتھ آگے بڑھیں۔
آج کے پُرفتن دور میں، جب خاندانی نظام مختلف نظریات کے طوفانوں سے دوچار ہے، والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایسی متوازن تربیت دیں جس میں دین کی روشنی اور دنیا کی سمجھ ہم آہنگ ہو۔ جب مرد و عورت اپنی فطری ذمہ داریوں اور کرداروں کو اپناتے ہیں تو خاندان استحکام پاتا ہے، محبت اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنی حدود سے تجاوز کر کے ایک دوسرے کی جگہ لینے لگتے ہیں تو نظامِ زندگی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ مغربی معاشرے اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام کا راستہ اعتدال اور توازن کا راستہ ہے — ایک ایسا راستہ جس میں دین و دنیا، روایت و ترقی، تضاد نہیں رکھتے بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ یہی وہ سنہرا اصول ہے جو نسلوں کو محفوظ رکھتا ہے اور کامیابی و کامرانی کی ضمانت بنتا ہے۔