“بابا… میں یہ شادی نہیں کروں گی۔”
ماہین کے ہونٹ خوف سے لرز رہے تھے، جبکہ آنکھوں میں اتری نمی اب آنسوؤں کی صورت اختیار کرنے لگی تھی۔
“کیوں نہیں کرو گی؟” بابا کی آواز غصے سے گونج اٹھی۔
ماہین نے ہمت جمع کی اور دھیمی مگر واضح آواز میں کہا:
“بابا، مجھے وہ لڑکا پسند نہیں ہے۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
“پسند نہیں ہے؟” وہ طنزیہ انداز میں ہنسے۔ “اچھا… پھر کون پسند ہے تمہیں؟”
ماہین خاموش کھڑی رہی۔ اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر خوف نے جیسے اس کی آواز چھین لی تھی۔
اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔
ماہین لڑکھڑائی اور گرتے گرتے سنبھلی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، جبکہ تھپڑ کا سرخ نشان اس کے گال پر ابھر آیا تھا۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی، جیسے ماہین کے ساتھ اس کی آواز بھی تھپڑ کی گونج میں کہیں دفن ہو گئی ہو۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟”
ماہین کی والدہ فوراً آگے بڑھیں اور اسے سہارا دیتے ہوئے اپنے قریب کر لیا۔
“ادھر آؤ، بیٹا…”
مرتسم غصے سے ماہین کو دیکھتے رہے۔ ان کے چہرے پر غصہ اب بھی نمایاں تھا۔
“یہ شادی ہو کر رہے گی!” انہوں نے سخت لہجے میں کہا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
ماہین کی والدہ نے اسے اپنے قریب کیا۔
“بیٹا، چپ… بس، چپ ہو جاؤ۔”
مگر ماہین کے آنسو جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ وہ سسکیاں لیتی ہوئی وہاں سے اٹھی اور خاموش قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ماں اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہیں، پھر بے بسی سے مرتسم کے پیچھے دیکھ کر رہ گئیں۔
—
اگلی صبح
ناشتے کی میز پر جبران نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔
“امی، ماہین کہاں ہے؟”
اس کی والدہ نے نظریں جھکا کر جواب دیا:
“وہ اپنے کمرے میں ہے، شاید۔ اس کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں تھی۔”
جبران نے فکر مندی سے پوچھا:
“کیا ہوا ہے اسے؟”
“کچھ نہیں… بس طبیعت خراب ہے۔”
جبران نے خاموشی سے اپنی والدہ کے چہرے کو دیکھا، جیسے ان کے الفاظ کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
پھر اس کی نظر مرتسم پر پڑی۔
“آپ کو اسے یوں نہیں مارنا چاہیے تھا، بابا۔”
مرتسم خاموش رہے۔
جبران نے حیرت سے پوچھا:
“لیکن… آپ نے اسے کیوں مارا تھا؟ کیا ہوا تھا؟”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
ماہین کی والدہ نے آہستہ سے کہا:
“وہ شادی نہیں کرنا چاہتی…”
جبران نے چونک کر پوچھا:
“کیوں؟”
“کہتی ہے، اسے وہ لڑکا پسند نہیں ہے۔”
جبران کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے غصہ ابھرا، مگر اس نے فوراً خود کو قابو کر لیا۔
“لیکن امی، اب تو بات ہو چکی ہے۔ شادی کے سارے انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔”
اس کی والدہ خاموش رہیں۔
جبران نے گہری سانس لی اور دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں کہا:
“امی، اسے سمجھائیں۔ اتنے سارے انتظامات کے بعد اب یہ سب کیسے بدل سکتا ہے؟”
مرتسم اپنی جگہ سے اٹھے اور خاموشی سے باہر کی جانب چل دیے۔
دروازے تک پہنچ کر رکے اور پلٹ کر بولے:
“اسے سمجھاؤ، قائل کرو… جلد سے جلد۔ ورنہ…”
وہ ایک لمحے کو رکے، پھر سخت لہجے میں بولے:
“باقی تم خود سمجھدار ہو۔”
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے۔
جبران نے حیرت سے اپنی والدہ کی طرف دیکھا۔
“لیکن امی… وہ یہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ اگر اسے لڑکا پسند نہیں ہے تو مطلب…”
“مجھے نہیں پتا، بیٹا۔”
وہ یہ کہہ کر اٹھیں اور ماہین کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔
جبران وہیں بیٹھا رہ گیا۔ اس کے ذہن میں کئی سوال گردش کر رہے تھے۔
“ماہین… نہیں، یہ نہیں کر سکتی تم۔ ہم سب کو کیا جواب دیں گے؟ آخر ہم لوگوں کو کیا کہیں گے؟”
وہ دل ہی دل میں سوچتا رہا۔
—
ماہین اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی تھی۔ آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔
دروازہ کھلا اور اس کی والدہ اندر داخل ہوئیں۔
“بیٹا… آؤ، ناشتہ کر لو۔”
ماہین نے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“امی، بھوک نہیں ہے۔”
اس کی والدہ اس کے قریب بیٹھ گئیں۔
“بیٹا، دیکھو… تمہارے ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ شادی کر لو۔ اب تو بات ہو چکی ہے، سب سے بات بھی ہو چکی ہے، اتنے سارے انتظامات بھی ہو چکے ہیں۔”
ماہین نے نم آنکھوں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
“تو امی… آپ سب کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا نا کہ میں راضی بھی ہوں یا نہیں؟ یوں بغیر پوچھے میرا رشتہ کیوں طے کر دیا؟”
اس کی آنکھوں میں ایک بے بسی بھری التجا تھی۔
“دیکھو بیٹا، اب تو بات ہو چکی ہے…”
“نہیں امی!” ماہین نے فوراً سر ہلایا۔ “میں یہ شادی نہیں کروں گی۔”
اس کی والدہ کچھ لمحے خاموش رہیں، پھر آہستہ سے پوچھا:
“اچھا… تمہیں کون پسند ہے؟ کس سے شادی کرنا چاہتی ہو؟”
ماہین نے دھیمی آواز میں کہا:
“سارم سے۔”
یہ کہتے ہی وہ نظریں جھکا گئی۔
اس کی والدہ چونک اٹھیں۔
“کیا یہ وہی ہے نا، جو تمہارے ساتھ پڑھتا تھا؟”
ماہین نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“ہاں، امی۔”
اسی لمحے دروازہ کھلا اور جبران اندر داخل ہوا۔
“کیا؟”
وہ چند لمحوں تک ماہین کو دیکھتا رہا، پھر غصے سے اس کی طرف بڑھا۔
“بکواس بند کرو! چپ ہو جاؤ!”
ماہین سہم کر پیچھے ہٹ گئی۔
“ہماری عزت کا جنازہ نکالنے کے لیے تیار بیٹھی ہو تم؟”
جبران غصے میں اس کے قریب آیا اور اس کا منہ سختی سے پکڑ لیا۔
“آئندہ ایسی کوئی بات اپنی زبان سے مت نکالنا۔”
پھر غصے سے بولا:
“بابا کو آنے دو، بتاتا ہوں تمہیں! کیسے نہیں کرو گی یہ شادی؟”
“بھائی… چھوڑیں!”
ماہین کی آواز آنسوؤں میں ڈوب گئی۔
وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے پیچھے ہوئی اور اپنے ہاتھوں سے جبران کو دھکیل دیا۔
اگلے ہی لمحے ایک اور زوردار تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔
ماہین کی آنکھیں پل بھر کو بند ہو گئیں۔
جبران نے غصے سے اپنی والدہ کی طرف دیکھا۔
“امی، اسے سمجھا دیں۔”
اتنا کہہ کر وہ غصے میں کمرے سے باہر نکل گیا۔
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
ماہین کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو آخرکار اپنی حدوں کو توڑتے ہوئے اس کے رخسار پر بہنے لگے۔
—
“دیکھو ماہین، شادی کر لو… اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ تم تو اپنے بابا کے مزاج کو جانتی ہو، وہ اب کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
ماہین خاموش رہی۔ اس کی نظریں فرش پر جمی تھیں، جیسے اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو مگر الفاظ کہیں کھو گئے ہوں۔
سارا بے بسی سے اسے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
شام ڈھل چکی تھی۔ گھر کی خاموش فضا میں اچانک دروازے کی گھنٹی کی آواز گونجی۔
مرتسم واپس آ چکے تھے۔
وہ اندر آئے اور خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئے۔
“یہ لیجیے، پانی۔”
سارا پانی کا گلاس لیے ان کے قریب آئی۔
مرتسم نے گلاس تھاما اور بےتاثر لہجے میں پوچھا:
“کیا بنا؟ کیا کہہ رہی ہے؟”
سارا نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا:
“وہ… ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ مان ہی نہیں رہی۔”
یہ سنتے ہی مرتسم کے چہرے پر ایک بار پھر غصے کے آثار ابھر آئے۔
“شادی میں صرف چند دن باقی ہیں۔”
وہ اچانک اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“کہاں ہے یہ؟”
“مرتسم… کیا کر رہے ہیں؟ رکیں!”
مگر وہ رکنے والے نہیں تھے۔
اتنے میں جبران بھی ان کی طرف آ گیا۔
مرتسم نے اسے دیکھتے ہی کہا:
“اپنی بہن کو سمجھاؤ۔”
جبران چند لمحوں کے لیے خاموش رہا، پھر دھیمی آواز میں بولا:
“بابا… وہ کہہ رہی تھی کہ اسے کسی اور لڑکے سے شادی کرنی ہے۔”
“کیا؟”
مرتسم کی آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
وہ تیزی سے ماہین کے کمرے کی طرف بڑھے۔
“باہر آؤ! ادھر آؤ!”
ماہین کے آنسو ابھی تھمے ہی تھے، مگر اس کی سرخ اور سوجی ہوئی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ کن حالات سے گزری ہے۔
وہ کانپتے ہوئے قدموں سے کمرے سے باہر آئی۔
مرتسم نے اسے گھورا۔
“کس سے کرنی ہے تمہیں شادی؟ کیا کہہ رہی تھی تم؟”
ماہین خاموش رہی۔
مرتسم ایک قدم اور اس کے قریب آئے۔
“میں تم سے پوچھ رہا ہوں! کس سے کرنی ہے شادی؟”
ماہین کی نظریں جھکی رہیں۔ اس کے ہونٹ لرز رہے تھے۔
مرتسم نے سخت لہجے میں کہا:
“شادی میں صرف تین دن باقی ہیں۔ اگر کل تک تم راضی نہ ہوئی تو…”
وہ اچانک رک گئے۔
ماہین نے خوف کے باوجود ایک بار پھر ہمت جمع کی۔
“بابا…”
مرتسم نے اسے گھورا۔
ماہین کی آواز کانپ رہی تھی۔
“تو آپ سب کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا نا… کہ میں راضی بھی ہوں یا نہیں؟”
“چپ ہو جاؤ!”
مرتسم نے غصے میں اس کا گلا پکڑ لیا۔
“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں ہوتی یہ شادی!”
ماہین کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔
اس کی والدہ سارا آگے بڑھیں، مگر مرتسم کے غصے کے سامنے ایک لمحے کو رک گئیں۔
مرتسم نے ماہین کو زور سے پیچھے دھکیل دیا۔
ماہین لڑکھڑاتی ہوئی پیچھے گئی اور اس کا سر صوفے کے سخت کنارے سے جا ٹکرایا۔
“آہ!”
اس کی درد بھری چیخ پورے کمرے میں گونج گئی۔
چند لمحوں کے لیے سب کچھ جیسے ساکت ہو گیا۔
ماہین کے سر سے خون کی ایک باریک دھار بہتی ہوئی اس کے ماتھے سے ہوتی گال تک آ گئی۔
سارا گھبرا کر فوراً اس کی طرف لپکیں۔
“ماہین!”
انہوں نے اسے سہارا دیا اور جلدی سے اپنے ساتھ اندر لے گئیں۔
“اندر آؤ، بیٹا…”
ماہین کو اندر لے جا کر سارا نے اس کے زخم پر پٹی باندھی، پھر ایک بار مرتسم کی طرف دیکھا اور خاموشی سے واپس باہر چلی گئیں۔
کمرے میں ماہین اکیلی رہ گئی۔
اس کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں تھے۔
شاید اتنا رو چکی تھی کہ آنسو بھی تھک کر خشک ہو گئے تھے۔
وہ خاموشی سے بیٹھی رہی، جبکہ سر پر لگا زخم اب بھی درد کی ہلکی ہلکی ٹیسیں دے رہا تھا۔
—
اگلی صبح
سورج کی نرم روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ گھر میں مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی۔
وہی مہمان تھے جو شادی کے سلسلے میں آئے تھے۔ گھر میں چہل پہل تھی، مگر اس ہلچل کے درمیان ایک شخص غائب تھا۔
ماہین۔
سارا، مرتسم اور جبران سب وہیں موجود تھے۔ مہمانوں سے رسمی گفتگو جاری تھی کہ اچانک سارا کی نظر ادھر اُدھر دوڑنے لگی۔
“ماہین کہاں ہے؟ نظر نہیں آ رہی۔”
مرتسم نے ایک لمحے کو سارا کی طرف دیکھا، پھر فوراً بات سنبھالتے ہوئے بولے:
“وہ… اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ سو رہی ہے ابھی۔”
“اچھا، ٹھیک ہے۔”
مہمان نے سر ہلا دیا۔
کچھ دیر تک شادی کی تیاریوں، رشتہ داروں اور آنے والے دنوں کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔
پھر ایک شخص نے مرتسم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
“اچھا مرتسم صاحب، کل منگنی کا انتظام تو مکمل ہے نا؟”
مرتسم نے فوراً جواب دیا:
“ہاں، ہاں… سب ٹھیک ہے۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔”
مگر یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک بار پھر غصے کی ہلکی سی جھلک نمایاں ہو گئی۔
جیسے “کل” کا ذکر انہیں کسی ایسی بات کی یاد دلا گیا ہو جسے وہ ہر حال میں اپنی مرضی کے مطابق انجام دینا چاہتے تھے۔
—
مہمان واپس جا چکے تھے۔
گھر میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی، مگر مرتسم کے اندر کا غصہ جیسے مزید بھڑک اٹھا تھا۔ وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک بار پھر اسی کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
سارا اور جبران بھی ان کے پیچھے چل دیے۔
دروازہ کھلا اور وہ سب ماہین کے کمرے میں داخل ہوئے۔
جبران نے ماہین کے قریب جاتے ہوئے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا:
“ماہین، دیکھو… یہ شادی کر لو۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔”
ماہین خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جبران نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر ماہین کی خاموشی برقرار رہی۔
مرتسم کے چہرے کا رنگ غصے سے سرخ ہونے لگا۔
“یہ ایسے نہیں مانے گی…”
وہ ماہین کی طرف بڑھنے ہی والے تھے کہ اچانک ماہین نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
“بابا…”
مرتسم رک گئے۔
ماہین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“میں نے کیا غلط کیا ہے؟ میری غلطی کیا ہے؟”
اس کی آواز روتے روتے ٹوٹنے لگی۔
“بابا… آپ سب میرے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کر رہے ہیں؟ میں نے آخر کیا کیا ہے؟”
کمرے میں موجود سب خاموش تھے۔
ماہین نے اپنے آنسو پونچھنے کی کوشش کی، مگر وہ مسلسل بہتے رہے۔
“وہ لڑکا بھی تو، بابا… آپ کے پاس رشتہ لے کر آنا چاہتا تھا۔ لیکن آپ نے اسے آنے ہی نہیں دیا۔”
یہ کہتے کہتے اس کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
“بابا… میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ میری مرضی بھی پوچھ لی جاتی…”
مرتسم کا چہرہ سخت ہو گیا۔
انہوں نے سارا کی طرف دیکھ کر غصے سے کہا:
“اس کا منہ بند کرو!”
سارا نے گھبرا کر ماہین کی طرف دیکھا۔
“ماہین، بس بیٹا…”
مگر مرتسم ایک بار پھر اس کی طرف بڑھنے لگے۔
“کل منگنی ہے۔”
وہ چند قدم چل کر اس کے سامنے جا رکے۔
“تیار ہو کر جانا… اور طریقے سے۔ ورنہ…”
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے، پھر سرد لہجے میں بولے:
“تم جانتی ہو، پھر کیا ہوگا۔”
ماہین نے نم آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوف بھی تھا اور اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی آخری امید بھی۔
—
یہ دن بھی یوں ہی گزر چکا تھا، مگر ماہین اب بھی اسی کمرے میں بیٹھی تھی۔
اس کے چہرے کے خدوخال، اس کی سوجی ہوئی آنکھیں اور خاموشی… سب گواہی دے رہے تھے کہ گزشتہ دنوں میں اس کے ساتھ کیا گزرا تھا۔
شاید کوئی غیر اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتا تو ماہین کو اتنی تکلیف نہ ہوتی۔ شاید وہ خود کو سنبھال بھی لیتی…
مگر اسے توڑنے والے کوئی غیر نہیں تھے۔
وہ اس کا اپنا باپ تھا… اور اس کا اپنا بھائی۔
یہ خیال آتے ہی ماہین ایک بار پھر رونے لگی۔
اس نے بےاختیار اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔
“یا اللہ…”
اس کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی۔
“تو تو دیکھ رہا ہے نا سب… یا اللہ، یہ سب میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ تو تو جانتا ہے نا میرے دل کے بارے میں…”
کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔
اچانک اس کی نظر پاس پڑی ایک کتاب پر پڑی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کتاب اٹھائی اور اسے کھولا۔
ایک حدیث پر اس کی نظر جا ٹھہری:
“بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔”
صحابہؓ نے عرض کیا:
“اس کی اجازت کیسے ہوگی؟”
فرمایا:
“اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔”
اس کی نظر ان الفاظ پر جم گئی۔
کچھ لمحوں کے لیے اس کے دل میں ایک ننھی سی امید جاگی۔
شاید بابا یہ پڑھ کر مان جائیں… شاید انہیں احساس ہو جائے کہ میری مرضی بھی ضروری ہے۔
مگر ماہین اس حقیقت سے بےخبر تھی کہ جس شخص سے وہ رحم کی امید لگا بیٹھی تھی، وہ اس کی مرضی کو نظرانداز کرنے پر تلا ہوا تھا۔
—
منگنی کا وقت ہو چکا تھا
گھر میں لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو چکی تھی، مگر ماہین اب بھی اپنے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
اچانک دروازہ کھلا۔
جبران، سارا اور مرتسم اندر داخل ہوئے۔
مرتسم نے اسے دیکھتے ہی سخت لہجے میں پوچھا:
“اب تک تیار کیوں نہیں ہوئی؟”
ماہین گھبرا کر اٹھنے لگی۔
“بابا، میں…”
وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ جبران نے اسے سختی سے پکڑ لیا۔
“جانا ہے یا نہیں؟”
ماہین پیچھے ہٹ گئی۔
مرتسم نے اسے گھورتے ہوئے کہا:
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں۔”
ماہین کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے، مگر اس بار اس کی آواز میں عجیب سا حوصلہ تھا۔
“بابا… میں نے یہ شادی نہیں کرنی۔”
اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر پڑا۔
مگر اس بار یہ صرف ایک تھپڑ تک محدود نہیں رہا۔
غصے میں اندھے مرتسم ماہین پر ہاتھ اٹھاتے رہے، اور وہ بے بسی سے خود کو بچانے کی کوشش کرتی رہی۔
“یا اللہ…”
اس کی ٹوٹی ہوئی آواز نکلی۔
“میں اپنا فیصلہ تجھ پر چھوڑتی ہوں…”
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئی، پھر آنسوؤں کے درمیان صرف اتنا کہہ سکی:
“میں یہ شادی نہیں کروں گی۔”
مرتسم اسے مارتے مارتے خود بھی تھک چکے تھے۔ وہ چند قدم پیچھے ہٹے، مگر ان کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔
وہ کمرے سے باہر نکلے۔
سارا اور جبران وہیں کھڑے رہ گئے۔
چند لمحوں بعد مرتسم واپس آئے۔
ان کے ہاتھ میں پستول تھی۔
سارا کی آواز خوف سے کانپ اٹھی:
“مرتسم… یہ کیا کر رہے ہیں؟”
مرتسم نے ماہین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“شادی کرو گی یا نہیں؟”
ماہین کی نظریں اس ہتھیار پر جم گئیں۔
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں!”
کمرے میں خوفناک خاموشی چھا گئی۔
پھر ماہین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
“نہیں… بابا، میں نے یہ شادی نہیں کرنی۔”
اگلے ہی لمحے گولی چلنے کی آواز پورے گھر میں گونج اٹھی۔
ماہین لڑکھڑائی اور زمین پر جا گری۔
اس کے سر سے خون بہنے لگا۔
اس کے ہاتھ میں موجود حدیث کا کاغذ بھی چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔
وہی الفاظ…
جنہیں وہ اپنی مدد اور امید سمجھ کر پڑھ رہی تھی۔
کاغذ فرش پر خاموش پڑا تھا۔
“بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔”
صحیح بخاری: 5136، صحیح مسلم: 1419
مرتسم کی نظریں فرش پر پڑے اس کاغذ پر جم گئیں۔
ایک لمحے کے لیے جیسے وقت رک گیا۔
ان کے ذہن میں ماہین کا بچپن گھوم گیا… وہی بیٹی جسے کبھی انہوں نے اپنی جان کہا تھا، آج انہی کے ہاتھوں ان سے ہمیشہ کے لیے چھن گئی تھی۔
ان کے ہونٹ کانپے۔
“میں نے… یہ کیا کر دیا؟”
مگر اب اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
سارا ماہین کے بےجان وجود سے لپٹی رو رہی تھیں، جبران ایک طرف سر جھکائے کھڑا تھا، اور مرتسم خاموشی سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
مگر اب پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
ماہین تو چلی گئی…
ایک طرف ایک لڑکی کی مرضی کو روند کر اس سے شادی کروانے کی کوشش کی گئی، اور دوسری طرف “غیرت” اور “عزت” کے نام پر ایک معصوم جان ہی چھین لی گئی۔
ماہین کی مرضی صرف اتنی تھی کہ اس کی زندگی کا فیصلہ بھی اس سے پوچھ کر کیا جائے۔
مگر اس گھر میں اس کی آواز سے زیادہ لوگوں کی عزت اہم سمجھی گئی۔
اور یوں، ایک معصوم لڑکی کی خاموش چیخیں ان دیواروں میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئیں۔
مگر سوال یہ تھا کہ آخر عزت کس کی بچی؟
ایک باپ کی، جس نے اپنی بیٹی کی مرضی کو اپنے اختیار سے کچل دیا؟
ایک خاندان کی، جس نے لوگوں کے خوف سے اپنی ہی بیٹی کی آواز چھین لی؟
یا ان رسموں کی، جنہیں نبھاتے نبھاتے انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی؟
ماہین تو چلی گئی… مگر اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گئی۔
کیا بیٹی کی زندگی بھی اس کی اپنی نہیں ہوتی؟
صدیوں پہلے بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔
آج زمانہ بدل گیا، طریقے بدل گئے… مگر کیا سوچ واقعی بدل گئی ہے؟
تب بیٹی کے وجود کو مٹا دیا جاتا تھا، آج کبھی اس کی مرضی، اس کی آواز اور اس کے حق کو دفن کر دیا جاتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ قبر زمین میں نہیں بنتی…
کبھی کبھی ایک بیٹی کو زندہ رکھتے ہوئے بھی دفن کر دیا جاتا ہے۔
نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، سزا نہیں۔
اور بیٹی باپ کی ملکیت نہیں، اللہ کی امانت ہے۔
اس کی مرضی پوچھ لینا محبت نہیں، اس کا حق ہے۔
کیونکہ جس نکاح کی بنیاد ایک دل کی رضامندی کے بجائے خوف، جبر اور دھمکی پر رکھی جائے، وہاں صرف ایک رشتہ قائم نہیں ہوتا…
کسی کی پوری زندگی قید کر دی جاتی ہے۔
اور شاید سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ انسان اپنی نام نہاد عزت بچاتے بچاتے،
اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی عزت کا جنازہ اٹھا دیتا ہے۔