88

سرکار دو عالم ﷺ! نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا!/تحریر/اعجاز خاں میو آف پسرور

میو ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ظہور سرکار دو عالم ﷺسے پہلے کا ئنا ت میں کچھ بھی نہ تھا۔ سب سے پہلے جس چیز کی تخلیق عمل میں آئی وہ نور محمدی ﷺ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے محبوب سرکار دو عالم احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی تخلیق فرمائی۔ اس کے بعد ہی لوح وقلم ، عر ش و کرسی ،فرشتے ، جن و انس ، زمین و آسمان ، آب و ہوا و دیگر مخلوقات کو پیدا فرمایا۔ ایک مر تبہ حضرت سید نا جبر ئل امین علیہ السلام با رگاہ رسالت مآب ﷺ میں حا ضری کا شر ف حا صل کیا اور یو ں عر ض گزار ہو ئے کہ آپ ﷺ کا رب ارشادفر ما تا ہے: ’’ یعنی بے شک میں نے دنیااور اہل دنیا کو اس لئے پیدا فر ما یا ہے کہ اے محبوب ! آپ کی قدرو منزلت جو میرے نز دیک ہے وہ انہیں بتا ئو ں اور اگر آ پ نہ ہو تے تو میں دنیا کو پیدا نہ فر ما تا۔‘‘ (خصائص کبریٰ ) حضرت جابر بن عبد اﷲ؄سے مروی ہے : ’’ میں نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں عرض کیا : یا رسول اﷲﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس شے کو پیدا کیا؟ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ اے جابر! بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوق (کو پیدا کرنے) سے پہلے تمہارے نبی (محمد مصطفیﷺ) کا نور اپنے نور (کے فیض ) سے پیدا فرمایا۔ یہ نور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جہاں اس نے چاہا سير کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ (کوئی) فرشتہ تھا نہ آسمان تھا، نہ زمین، نہ سورج تھا، نہ چاند، نہ جن تھے اور نہ انسان۔جب اﷲ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ مخلوق کو پیدا کرے تو اس نے اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلے حصہ سے قلم بنایا، دوسرے حصہ سے لوح اور تیسرے حصہ سے عرش بنایا۔ پھر چوتھے حصہ کو (مزید) چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصہ سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنائے اور دوسرے حصہ سے کرسی اور تیسرے حصہ سے باقی فرشتے پیدا کئے۔ پھر چوتھے حصہ کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصہ سے آسمان بنائے، دوسرے حصہ سے زمین اور تیسرے حصہ سے جنت اور دوزخ بنائی ( طویل حديث بیان ہوئی ہے)۔‘‘ حضرت عرباض بن ساریہ ؄ بیان کرتے ہیں : ’’ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اﷲ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اس کے ہاں اس وقت سے خاتم النبیین (آخری نبی) لکھا جا چکا تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی خمیر سے پہلے مٹی میں تھے اور میں تمہیں اس کی تاویل بتاتا ہوں کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا (کا نتیجہ) ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا اور انبیاء کرام کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی ہیں۔‘‘ حضرت امام احمد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں ہے : ’’آپ ﷺ نے فرمایا : میں اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور خاتم النبیین ہوں پس سابقہ حديث کی طرح حديث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی والدہ ماجدہ نے جب آپﷺ کو جنم دیا تو انہوں نے ایک نور (اپنے بدن سے نکلتے ہوئے) دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔‘‘ حضرت عمر بن الخطاب ؄ سے روایت ہے: ’’ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے : (یا اﷲ!) میں (تیرے محبوب) محمد مصطفیٰ ﷺکے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ یہ محمد ﷺ کون ہیں؟ پس حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا، وہاں میں نے ’’لا اله الا الله محمد رسول الله‘‘ لکھا ہوا دیکھا لہٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی ہستی ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی : ’’اے آدم! وہ (محمدﷺ ) تیری نسل میں سے آخری نبی ہیں اور ان کی امت بھی تیری نسل کی آخری امت ہو گی اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ حضرت عبد اﷲ بن عباس ؄ سے روایت ہے: ’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی : اے عیسیٰ! محمد ( ﷺ ) پر ایمان لے آؤ اور اپنی امت کو بھی حکم دو کہ جو بھی ان کا زمانہ پائے تو (ضرور) ان پر ایمان لائے (جان لو!) اگر محمد مصطفیٰ ( ﷺ) نہ ہوتے تو میں آدم (علیہ السلام) کو بھی پیدا نہ کرتا اور اگر محمد مصطفیٰ ( ﷺ ) نہ ہوتے تو میں نہ جنت پیدا کرتا اور نہ دوزخ، جب میں نے پانی پر عرش بنایا تو اس میں لرزش پیدا ہو گئی۔ لہٰذا میں نے اس پرلَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ لکھ دیا تو وہ ٹھہر گیا۔‘‘ حضرت خریم بن اوس بن حارثہ بن لام ؄ کرتے ہیں: ’’ ہم حضور نبی اکرم ﷺکے خدمتِ اقدس میں موجود تھے۔ حضرت عباس بن عبد المطلب ؄ نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اﷲﷺ! میں آپ کی مدح و نعت پڑھنا چاہتا ہوں تو حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا : لاؤ مجھے سناؤ اﷲ تعالیٰ تمہارے دانت صحيح و سالم رکھے (یعنی تم اسی طرح کا عمدہ کلام پڑھتے رہو) تو حضرت عباس ؄ نے یہ پڑھنا شروع کیا : ’’ اور آپ ﷺ وہ ذات ہیں کہ جب آپﷺ کی ولادت ہوئی تو ساری زمین چمک اٹھی اور آپﷺ کے نور سے اُفق عالم روشن ہو گیا پس ہم ہیں اور ہدایت کے راستے ہیں اور ہم آپ ﷺ کی عطا کردہ روشنی اور آپﷺ ہی کے نور میں ان (ہدایت کی راہوں) پر گامزن ہیں۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ ؄ بیان کرتے ہیں : ’’ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ہند میں نازل ہوئے اور (نازل ہونے کے بعد) انہوں نے وحشت (و تنہائی) محسوس کی تو (ان کی وحشت دور کرنے کے لئے) جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور اذان دی : ’’اﷲُ أَکْبَرُ، اﷲُ أَکْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ‘‘ دو مرتبہ پڑھا، ’’أَشْهَدُ أَنَّ مُحْمَدًا رَسُوْلُ اﷲِ‘‘ دو مرتبہ پڑھا تو حضرت آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : (اے جبریل!) محمد ( ﷺ ) کون ہیں؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : یہ آپ کی اولاد میں سے آخری نبی ﷺ ہیں۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ ؄ حضور نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں : ’’ آپﷺ نے فرمایا : جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں ان کے بیٹوں کی خبر دی۔ پس آدم علیہ السلام ان میں سے بعض کی بعض پر فضیلت دیکھنے لگے۔ پس انہوں نے مجھے سب سے نیچے ایک چمکتے ہوئے نور کی شکل میں دیکھا (یعنی باعتبار بعثت سب سے آخر میں دیکھا) اور عرض کیا : اے میرے اﷲ! یہ کون ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیرا بیٹا احمد ہے جو کہ اول بھی ہے اور آخر بھی اور (روزِ قیامت) سب سے پہلے شفاعت کرنے والا بھی یہی ہے۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ ؄ بیان فرماتے ہیں: ’’ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے بھی نور تھا۔‘‘ حضرت ابو یزید المدینی ؄ سے مروی ہے : ’’ بیشک حضور نبی اکرم ﷺکے والد گرامی حضرت عبد اللہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان (یعنی پیشانی پر) آسمان تک پھیلا ہوا ایک نور دیکھا۔ تواس نے آپ سے کہا : کیا آپ کو میرے ساتھ (نکاح کرنے میں) دلچسپی ہے؟ آپ نے فرمایا : ہاں، لیکن پہلے مقام جمرہ پر کنکریاں مارنے سے فارغ ہو جاؤں۔ سو وہ تشریف لے گئے اور مقام جمرہ پر کنکریاں ماریں۔ پھر آپ اپنی زوجہ حضرت آمنہ بنت وہب کے پاس تشریف لے گئے پھر آپ کو وہ قبیلہ خثعم کی عورت یاد آئی۔ تو آپ اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کہا : کیا آپ میرے (پاس سے جانے کے) بعد کسی عورت سے ملے ہیں؟ انہوں نے فرمایا : ہاں، میں اپنی بیوی آمنہ بنت وہب سے ملا ہوں تو اس نے کہا : اب مجھے آپ سے کوئی حاجت (و دلچسپی) نہیں۔ جب آپ گزرے تھے تو آپ کی پیشانی پر آسمان تک بلند ایک نور تھا۔ جب آپ اپنی بیوی سے ملے (یعنی صحبت کی) تو وہ نور (اس کی طرف) منتقل ہو گیا۔ سو اسے بتا دیں کہ اس نے تمام اہلِ زمین سے افضل ہستی کو (اپنے بطنِ اقدس میں) اٹھایا ہوا ہے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؄ سے مروی ہے : ’’ بے شک مخلوقات کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل قبیلہ قریش اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک نور (کی شکل میں) تھا۔ یہ نور (اللہ تعالیٰ کی) تسبیح بیان کرتا اور فرشتے بھی اس کی تسبیح بیان کرتے۔سو جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اس نور کو ان کی پشت میں منتقل کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں مجھے زمین پر اتار دیا۔ اور مجھے حضرت نوح علیہ السلام کی پشت میں ڈالا گیا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے مکرم پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل کیا یہاں تک کہ مجھے اپنے والدین سے پیدا فرمایا۔ وہ دونوں بدکاری پر کبھی بھی نہیں ملے۔‘‘ حضرت کعب احبار ؄ بیان کرتے ہیں : ’’ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : اے میرے بیٹے، تو جب کبھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو اس کے ساتھ محمد مصطفی ﷺکے نام کا بھی ذکر کیا کرو۔پس بے شک میں نے ان کا نام عرش کے پایوں پر لکھا ہوا پایا۔درآن حالیکہ میں روح اور مٹی کے درمیانی مرحلہ میں تھا۔جیسا کہ میں نے تمام آسمانوں کا طواف کیا اور کوئی جگہ ان آسمانوں میں ایسی نہ پائی جس میں، میں نے اسم محمدﷺ لکھا ہوا نہ دیکھا ہو۔بے شک میں نے حور عین کے گلوں پر، جنت کے محلات کے بانسوں کے پتوں پر، طوبی درخت کے پتوں پر، سدرۃ المنتھی کے پتوں پر، (جنت کے) دربانوں کی آنکھوں پر اور فرشتوں کی آنکھوں کے درمیان اسم محمد ﷺ لکھا ہوا دیکھا۔پس تم کثرت سے ان کا ذکر کیا کرو بے شک ملائکہ (بھی) ہر گھڑی انہیں یاد کرتے رہتے ہیں۔‘‘ حضرت عبد اﷲ بن عباس ؄ روایت کرتے ہیں: ’’ میں نے حضور نبی اکرمﷺ سے عرض کیا : (یا رسول اﷲﷺ!) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ اس وقت کہاں تھے جب حضرت آدم علیہ السلام جنت میں تھے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے تبسم کناں ہوئے یہاں تک کہ آپﷺ کے دندان مبارک نظر آنے لگے پھر فرمایا : میں ان (یعنی حضرت آدم علیہ السلام) کی پشت میں تھا اور اپنے باپ حضرت نوح علیہ السلام کی پشت میں مجھے کشتی پر سوار کیا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پشت میں (میرا نور) ڈالا گیا۔ میرے والدین (آباء و اجداد) کبھی بھی بغیر نکاح کے نہیں ملے۔ اﷲ تعالیٰ مجھے ہمیشہ پاک صلبوں سے پاک رحموں میں منتقل فرماتا رہا۔ تورات و انجیل میں میرے ذکر کی خوشخبری سنائی گئی۔ ہر نبی نے میری صفات بیان کیں۔ میرے نور کی وجہ سے صبح روشن ہوئی اور بادل میری وجہ سے سایہ فگن ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنے اسماء حسنیٰ میں سے نام عطا کیا سو وہ عرش والا محمود ہے اور میں محمد ہوں اور (اﷲ تعالیٰ نے) حوض کوثر کا میرے لئے وعدہ فرمایا اور یہ کہ مجھے سب سے پہلے شفاعت کرنے والا بنایا اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پھر یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنی امت کے بہترین زمانے میں پیدا فرمایا، میری امت کے لوگ اﷲ کی ثناء بیان کرنے والے ہیں۔ وہ نیکی کا حکم اور بدی سے روکنے والے ہیں۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ ؄ سے مروی ہے : ’’ حضور نبی اکرم ﷺ سے اس آیہ کریمہ کے بارے میں پوچھا گیا : ’’اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصًا) آپ سے اور نوح سے۔‘‘ آپ ﷺنے فرمایا : میں ان سب میں خلقت کے لحاظ سے پہلا اور بعثت کے لحاظ سے آخری نبی ہوں۔‘‘ حضرت امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا : ’’ آپﷺ ( اس وقت بھی نبی تھے) جب آپﷺ حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ ؄ سے مروی ہے : ’’ جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں ان کی اولاد دکھائی انہوں نے ان میں سے بعض کی بعض پر فضیلت دیکھی، پھر انہوں نے ان کے نیچے ایک نور پھیلا ہوا دیکھا تو عرض کیا : اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیرا (قابلِ فخر) بیٹا احمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔ یہ (خلقت میں) سب سے پہلے ہیں اور (بعثت میں) سب سے آخری ہوں گے اور یہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؄ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نماز اور سجدہ میں یہ دعا مانگتے تھے : ’’اے اللہ! میرے دل میں نور کر دے، میرے کانوں میں نور کر دے، میرے دائیں نور کر دے، میرے بائیں نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے، میرے لئے نور کر دے یا فرمایا مجھے (سر تا پا) نور بنا دے۔‘‘ ( مسلم)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں