Ume Umar 0

میدان کربلا میں امام عالی مقام کے خطبات/تحریر/عذرا خالد

نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جن کو نبی ﷺ جنت کے نوجوانوں کے سردار کہتے تھے۔آپ ﷺ کی چہیتی اور لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا کربلا کے مقام پر متعدد خطبات ارشاد فرمائے جن میں سے کچھ اہم خطبات اور ان کے موضوعات تاریخ اسلام میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
امام احمد ابن جریر طبری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ نے نماز عصر کے بعد رب العزت کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں سے فرمایا: اللّٰہ کا خوف رکھو، حقداروں کے حق کو پہچانو،تمہارے اس عمل سے اللّٰہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوگی۔یہ لوگ تم پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ان کی نسبت حکومت کے ہم ذیادہ حقدار ہیں ۔فرمایا کہ تم ہم کو پسند نہیں کرتے تو جو پیغامات اور ذبانی رائے جو آپ ہمارے بارے میں رکھتے ہیں وہ تبدیل ہوگئی ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔آپ رضی اللہ عنہ کی بات سن کر خربن یزید نے کہا ہم ان باتوں سے واقف نہیں ہیں،ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ اپ کو جہاں پائیں ابن ذیاد کے پاس لے ائیں ۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تیرے اگے سر نہیں جھکاؤں گا اور یزید کی ناانصافیوں اور ظلم وستم کو بے نقاب کروں گا۔
امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو شہادت کے لیے تیار کیا۔فرمایا لوگو! رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھتا ہو، اللہ کے عہد کو توڑتا ہو، رسول ﷺ کی سنتوں کی خلاف ورزی کرتا ہو، بندگانِ خدا کے ساتھ ظلم و سرکشی کے ساتھ پیش آتا ہو اور پھر عملی یا زبانی طور یہ شخص ایسے حاکم پر اعتراض نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی اس حاکم کے اعمال میں شریک فرمائے گا۔ آگاہ ہو جاؤ! ان حاکموں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی ہے اور خدا کی اطاعت کو ترک کر دیا ہے، فساد کو ظاہر اور حدود شرع کو معطل کر دیا ہے، مال غنیمت کو غصب، حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر رکھا ہے۔
امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدی لشکر کو حق اور باطل کو سمجھنے اور عمل کرنے کی تاکید فرمائی اس کے ساتھ ساتھ ظلم و زیادتی سے باذ رہنے کی تلقین کی۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن کو چائیے کہ اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیاری کر لے کیونکہ دنیا صرف ایک چراگاہ ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خطاب میں یزیدی لشکر کو اپنے نسب کا بتایا کہ میں اہل بیت میں سے ہوں،اپنی نسل کا بتاتے ہوئے یزیدی لشکر کو شرم و حیا کا احساس دلانے کی کوشش کی ۔
اپنے ساتھیوں ،اصحاب اور مدینہ منورہ کے انصار سے فرمایا کہ اب وقت شہادت قریب ہے اس لیے ہر صورت میں صبر واستقامت کے مظاہرے کی تلقین فرمائی ۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ قضا و قدر کے معاملات رب العزت کی طرف سے اتے ہیں جو وہ چاہتا ہے وہ کرتا ہے ہر کام اللہ کے دست قدرت میں ہے اگر اللہ نے قضا طے کر دی ہے تو ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی مدد کے طالب ہیں۔
امام عالی مقام نے فرمایا یاد رکھو امید کے راستے میں اگر قضا ہے تو جس کی نیت حق پر ہو اور باطن تقوی پر ہو تو اس کو کسی کی پروا نہیں ہوتی۔
ان خطبات سے امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے فلسفے اور تعلیمات کا پتہ چلتا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کے خطبات آج بھی مسلمانوں کی ہدایت اور رہنمائی کا زریعہ ہیں۔ یہ خطبات مظلوموں کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہیں آپ رضی اللہ عنہ کے خطبات سے یہ درس ملتا ہے کہ ظلم وستم اور حق وباطل کی جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے یہ خطبات آج بھی رہنمائی کا زریعہ ہیں۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کے دعوے تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن ان کے فلسفہ اور تعلیمات کو سمجھنے والے اور ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا:
قافلہ حجاز میں،ایک حسین بھی نہیں
گرچہ تابعدار ہے،اب بھی گیسوئے دجلہ و فرات

امام حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں