سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے فروغ کی ایک قابلِ تقلید کاوش
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے ۔ ترجمہ ! البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول الله (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے(سورۃ احزاب آیت 21)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے بہترین نمونہ اور کامل راہنمائی کا سر چشمہ ہے۔ سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ انسان کی فکر، کردار، عبادات، معاملات ، معاشرت اور اخلاق بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں مثبت انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے اکابرین ہمیشہ سیرتِ طیبہ کے مطالعے کو ایمان کی تقویت ، کردار سازی اور کامیاب زندگی کا بہترین ذریعہ قرار دیتے رہے ہیں ۔ جو فرد یا قوم اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سیرت سے وابستہ رہتی ہے وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اور سر بلندی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مطالعہ سب سے پہلے انسان کے دل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرتا ہے۔ جب ایک مسلمان آپ کے اخلاقِ کریمانه، عفو و در گزر، عدل و انصاف ، رحم دلی اور انسان دوستی کے واقعات پڑھتا ہے تو اس کے دل میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن ہو جاتی ہے ۔ یہی محبت اسے سنتِ نبوی پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ انسان کے کردار کی تعمیر میں بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ سچائی امانت، دیانت، صبر، تحمل، برداشت اور خدمتِ خلق جیسی صفات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کا نمایاں حصہ ہیں ۔ جب کوئی شخص ان اوصاف کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ سیرتِ طیبہ انسان کو مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔ مکہ مکرمہ کی سختیوں ، طائف کے مصائب ، شعب ابی طالب کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صبر و استقامت کے واقعات پڑھ کر انسان کو یہ سبق ملتا ہے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں اور ان کا مقابلہ ہمت صبر اور اللہ پر توکل کے ساتھ کرنا چاہیے ۔ سیرتِ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مطالعہ محض تاریخی واقعات جاننے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی روحانی، اخلاقی اور عملی تربیت ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اردو کے ذخیرہ” سیرت نگاری ” میں کتابوں کی تعداد کا ” شمار ” انسانی طاقت سے باہر ہے ۔ لاکھوں کروڑوں عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شبنمی محبت میں لپٹی دل آرا اور دلکش تحریروں سے اپنے اپنے انداز میں سیرت کی کتابیں لکھیں ۔ جہانِ سیرت نگاری ایک حیرت کدہ ہے یہ حُب رسول اور عشقِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی وہ وادی ہے ۔ جس میں ، عرش کی عظمتیں ، ثریا کی بلندیاں اور نور کی جلوہ سامانیاں شعر و سخن میں ڈھل کر نظم و نثر کی صورت سیرتِ النبی صلی اللہ علیہ سلم کے روپ میں سامنے آتی ہیں۔ عاشقانِ مصطفٰی نے سیرت نگاری کے لیے جو لفظ تراشے ، کمال کے تراشے جو پھول چنا لاجواب چنا۔ اپنے قلم کو عطر کی خوشبو میں بسا کر مدحتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میں شہد کی بوندوں کی مانِند طشتِ قرطاس پر ٹپکایا ۔ اور یوں سیرت نگاری کی لاکھوں کروڑوں کتب شاہکار کی صورت ڈھل گئیں۔ انہی کتابوں میں ایک ماہ پارہ “سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ” کے عنوان سے رائے منظور ناصر صاحب نے تخلیق کیا ہے ۔ ان کی یہ کتاب سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ کی ایک قابل تقلید کاوش ہے ۔
جناب رائے منظور ناصر حکومت پنجاب کے سیکرٹری اور کمشنر ہیں، جواں سال ہیں ۔صاحب ایمان اور عاشقِ رسول ہیں۔ ان کے قلمِ گوہر بار نے سیرت طیبہ پر جو کتاب لکھی ہے۔ اس کے لکھنے کا مقصد وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔
” اس کتاب کو لکھنے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے کہ مسلمانوں کی کردار سازی کی جا سکے۔
موجودہ دور میں جب نوجوان نسل مختلف فکری، اخلاقی اور تہذیبی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں سیرتِ طیبہ کے مطالعے اور اس سے وابستگی کو فروغ دینا ایک عظیم دینی اور قومی خدمت ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ بعض اہلِ علم اور درد دل رکھنے والی شخصیات اس میدان میں نہایت اخلاص اور محنت کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ انھی میں ایک نمایاں نام رائے منظور ناصر صاحب کا ہے انھوں نے زیر تذکرہ اپنی کتاب ” سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ” کے مطالعے کو عام کرنے اور سیرتِ طیبہ کے مطالعے کو فروغ دینے کے لیے ایک منفرد اور موثر طریقہ اختیار کیا ہے ۔
رائے منظور ناصر صاحب نے محض کتاب لکھنے پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ قارئین کو اس کے مطالعے ، فہم اور یادداشت کی طرف راغب کرنے کے لیے کوئز مقابلوں کا اہتمام بھی کیا ہے ۔ اس مقابلے میں شرکت کے خواہش مند افراد کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنی معلومات کی بنیاد پر مقابلے میں حصہ لیتے ہیں ۔ جس کے بعد کامیاب شرکا کو لاکھوں کے انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
یہ اقدام اس اعتبار سے نہایت اہم ہے کہ مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے ترغیب اور حوصلہ افزائی کا عنصر ہمیشہ موثر ثابت ہوتا ہے ۔ جب نوجوان یا دیگر افراد کسی علمی اور دینی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی محنت کو سراہا جاتا ہے تو ان کے اندر مزید سیکھنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یوں ایک کتاب کے مطالعے سے شروع ہونے والا سفر سیرتِ نبوی سے محبت ، دینی شعور اور عملی زندگی میں اسوۂ حسنہ کی پیروی تک جا پہنچتا ہے ۔
سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دراصل انسانیت کے لیے کامل راہنمائی کا سر چشمہ ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر یہ امت اور خصوصاً بماری نوجوان نسل سیرتِ نبوی سے واقف ہو جائے تو اس کے کردار میں دیانت، امانت ، عدل، رحم دلی ، برداشت اور خدمتِ خلق جیسی صفات پروان چڑھ سکتی ہیں۔ رائے منظور ناصر کا یہ منصوبہ اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی قابل ستائش بات ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے کتاب بینی کی روایت کو فروغ مل رہا ہے ۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں مطالعے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ایسے مقابلے نوجوانوں کو کتاب کے ساتھ جوڑتے ہیں اور انھیں تحقیق و مطالعہ کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ جب مطالعے کا مرکز سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا مبارک موضوع ہو تو اس کی برکات اور اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے ، دینی تنظیمیں اور سماجی ادارے بھی اس طرز کی سرگرمیوں کی سر پرستی کریں ، اگر ملک بھر میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوئز مقابلوں کی روایت عام ہو جائے تو نہ صرف علمی ماحول پروان چڑھے گا بلکہ نئی نسل کے اخلاق و کردار کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی ۔
رائے منظور ناصر کے اس منفرد کوئز پروگرام کی طرح اس پروگرام میں حصہ لینے کی شرائط ،
قواعد و ضوابط اور طریقہ کار بھی منفرد اور بہت آسان ہے ۔ یہ کتاب (ہارڈ کاپی کی صورت) صرف سات سو روپے میں دستیاب ہے۔ کتاب پی ڈی ایف ( pdf ) اور آڈیو میں بالکل مفت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ کوئز پروگرام میں داخلہ بھی فری ہے ۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ کسی بھی شکل میں کتاب تک رسائی حاصل کریں ۔ 485 صفحات کی یہ کتاب نہایت آسان اور عام فہم اردو زبان میں لکھی گئی ہے۔ اسے یاد کرنے کے لیے آپ کا بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری نہیں ۔ آپ واٹس آپ نمبر 11 11822 -0344 پر ایک تحریری یا صوتی پیغام بھیج کر تمام معلومات منٹوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔ مقابلے میں ہر مسلمان حصہ لے سکتا ہے عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں ۔ کروڑوں کے انعامات میں بڑا انعام بیسں لاکھ روپے کا ہے ۔ لاہور کے الحمرا آرٹ کونسل میں کوئز مقابلوں میں لوگ یہ انعام جیت بھی چکے ہیں ۔ سب سے اہم اور خوبصورت بات یہ ہے کہ اس پروگرام کے لیے کوئی چندہ یا فیس نہیں لی جاتی ۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر کرم سے رائے منظور ناصر صاحب اپنے ذرائع سے اور اپنی پراپرٹی سے ان لاکھوں کروڑوں کا انتظام فرماتے ہیں اور پھر یہ انعامات جیتنے والوں کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا ۔ بس ایک ہی دُھن ، ایک ہی تمنا کہ بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چلیں، قوم کے نوجوانوں کو سیرتِ النبی کے رنگ میں رنگ دیں ۔-اللہ کریم انھیں اس کاوش و کوشش کا اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔ اور اپنی ہزاروں رحمتوں اور لاکھوں نعمتوں سے ان کا دامن بھر دے ۔ رائے منظور ناصر صاحب کی یہ کاوش یقیناً لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے ۔ انھوں نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ایک موثر عملی اور نتیجہ خیز راستہ اختیار کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ان کی اس خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے ۔ اسے مزید وسعت دے اور اس کے ذریعے نوجوان نسل کے دلوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباعِ سنت کی شمعیں روشن فرمائے ۔ آمین