“قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
یہ شعر واقعۂ کربلا کے اخلاقی اور فکری اثرات کو بیان کرتا ہے۔ اگرچہ یہ حدیث یا قرآنی آیت نہیں، لیکن اس میں ایک حقیقت کی طرف اشارہ ضرور موجود ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی نے امتِ مسلمہ کو حق، عدل، صبر اور استقامت کا ایسا درس دیا جو قیامت تک تازہ رہے گا۔
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا نہایت دردناک اور سبق آموز باب ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں تھی بلکہ اصول، حق، عدل اور دینی غیرت کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر تھے، انہوں نے امت کو یہ پیغام دیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا، خواہ اس کی قیمت اپنی جان اور اپنے اہل و عیال کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت سے انکار کسی ذاتی مفاد یا اقتدار کی خواہش میں نہیں کیا بلکہ اس لیے کہ وہ امت کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ جب دین کی بنیادی اقدار خطرے میں ہوں تو ایک مسلمان کو حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا مقصد اصلاحِ امت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا۔
کربلا کی سرزمین پر امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے بے مثال صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا مظاہرہ کیا۔ پانی کی شدید قلت، اہلِ خانہ کی تکالیف اور دشمن کی کثیر تعداد کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ بالآخر آپ اور آپ کے رفقاء نے جامِ شہادت نوش کیا، مگر باطل کے سامنے جھکنے کو قبول نہ کیا۔
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور تمام اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہلِ بیت سے محبت کی تلقین فرمائی ہے، اسی لیے ہر مسلمان ان کے مقام و مرتبے کا احترام کرتا ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظاہری قوت ہمیشہ کامیابی کی علامت نہیں ہوتی۔ بسا اوقات حق کے علمبردار دنیاوی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخ انہی کو سرخرو قرار دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ثابت قدم رہتے ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، حضرت رباب رضی اللہ عنہا اور اہلِ بیت کی دیگر عظیم خواتین نے بھی صبر، حوصلے اور ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کا کردار اس بات کی دلیل ہے کہ دین کی سربلندی میں خواتین کا صبر اور استقامت بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مسلمان ہر دور میں ظلم، ناانصافی اور باطل کے مقابلے میں حق، انصاف اور دیانت داری کا ساتھ دے۔ اختلافات کے باوجود امت میں اتحاد، محبت اور احترام باقی رکھنا بھی اسی پیغام کا حصہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعۂ کربلا کو محض جذباتی انداز سے یاد کرنے کے بجائے اس کے حقیقی اسباق پر عمل کیا جائے۔ سچائی، عدل، تقویٰ، صبر، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، کیونکہ یہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کا اصل پیغام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام صالحین سے محبت رکھنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔