Umm-E-Abdur-Rehman 0

گرمیوں کی چھٹیاں اور مشن امپوسیبل/تحری/ام عبدالرحمن

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی ہر گھر میں ایک قسم کی ایمرجنسی نافذ ہو جاتی ہے۔۔۔۔

ایک طرف بچے آزادی کا جشن منا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف والدین اس سوچ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ آخر ان چھٹیوں میں ان بچوں کا کیا کیا جائے کہ نہ صرف گھر بھی سلامت رہے، ان کا مستقبل بھی سنورے، موڈ بھی خوشگوار رہے اور گھر میں سکون بھی قائم رہے۔

ویسے تو ہم نے بھی گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہوتے تھے۔۔۔۔

مگر جیسے ہی بچوں کے سامنے ان منصوبوں کا ذکر چھیڑتے، وہ فوراً احتجاجی تحریک چلا دیتے:

“اماں! چھٹیاں تو آزادی اور مرضی سے گزارنے دیں۔۔۔ ورنہ سارا سال تو آپ کا اور اسکول والوں کا ڈنڈا سر پر لٹکتا رہتا ہے۔۔۔!”

یعنی کسی مثبت خاندانی سرگرمی کے لیے بچوں کو راضی کرنا کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے چرواہا بکھرے ہوئے ریوڑ کو ایک ہی سمت ہانکنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔ ادھر ایک نکلا، اُدھر دوسرا پھسل گیا، اور تیسرا پہلے ہی کسی اور مہم پر روانہ ہو چکا ہوتا ہے۔۔۔۔

ایسے میں قرآن گروپ ڈسکشن میں ایک رائے پیش کی گئی کہ کیوں نہ اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کے ساتھ سیرتِ نبی ﷺ پڑھی جائے۔

خیال تو بڑا خوبصورت تھا۔۔۔ مگر جیسے ہی عملی میدان میں اترنے کے لیے عقل کے گھوڑے دوڑانے شروع کیے کہ آخر یہ کام ہوگا کیسے۔۔۔۔

تو چند ہی لمحوں میں اندازہ ہو گیا کہ عقل کے اصطبل میں موجود کوئی بھی گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں۔۔۔ کچھ سست اور کچھ مکمل طور پر ریٹائرڈ نکلے۔۔۔۔

پہلا خیال یہی تھا کہ روز بچوں کو سیرت کی کتاب پڑھ کر سنائی جائے۔۔۔ مگر بچوں کے ساتھ کتاب پڑھنے کا پرانا تجربہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔۔۔ جو کسی مشن امپوسیبل کی فلم سے کم نہیں تھا۔۔۔۔

کسی بھی بک ریڈنگ کی سرگرمی کے دوران بچے ایسے چہرے بناتے جیسے ہم کسی انتہائی پرانی اور مشکل زبان میں لکھی گئی تہذیب کا نقشہ سمجھانے بیٹھ گئے ہوں۔

اور پھر اس نقشے کو سمجھنے کے بجائے اردو پر ایسی شکایات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی جیسے یہ ہماری اپنی زبان نہیں بلکہ کسی اور ہی دنیا کی زبان ہو۔۔۔۔

“اف امی! یہ اتنی مشکل اردو کیوں ہے؟”

“مجھے تو آدھا بھی سمجھ نہیں آیا۔”

“تم آدھے کی بات کرتے ہو، مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا!”

اور یوں لگتا تھا جیسے بک ریڈنگ نہیں ہو رہی بلکہ اردو زبان کے خلاف باقاعدہ محاذ کھل چکا ہو۔۔۔ 😄

شاید یہ “اردو مخالف محاذ” کہیں نہ کہیں ہمارے اپنے رویوں کی بھی ایک ہلکی سی جھلک تھا۔۔۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم نے خود بھی وقت کے ساتھ اردو کو وہ توجہ نہیں دی جو اسے دینی چاہیے تھی، اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ نئی نسل کے لیے یہ زبان اتنی اجنبی کیوں ہے۔

خیر، ہم نے اس پہلے خیال یعنی کتاب پڑھ کر سیرت النبی ﷺ شروع کرنے والے گھوڑے کو وہیں چھوڑ دیا، کیونکہ وہ پہلے ہی کچھ زیادہ دوڑنے کے قابل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ 😄

لہٰذا ہم دوسرے گھوڑے کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ یعنی باقاعدہ درس کی صورت میں نشست رکھی جائے۔

مگر یہ گھوڑا بھی آغاز سے پہلے ہی ہانپتا ہوا دکھائی دیا۔۔۔ کیونکہ بچوں کو درس میں بٹھانے کا منظر کچھ یوں ہوتا جیسے کسی نے انہیں زبردستی پکڑ رکھا ہو اور وہ اندر ہی اندر غیر اعلانیہ ہڑتال پر ہوں۔

ایک جمائی لے رہا ہوتا، دوسرا فرش پر بے مقصد لکیریں کھینچ رہا ہوتا، اور تیسرا ہر دو منٹ بعد گھڑی دیکھ کر صبر آزما انداز میں وقت کی رپورٹ دے رہا ہوتا۔۔۔۔

اور یوں محسوس ہوتا جیسے جسم حاضر ہیں مگر ذہن کہیں اور زیادہ دلچسپ دنیا میں مصروف ہیں۔۔۔۔

اسی دوران تیسرے گھوڑے پر نظر پڑی۔۔۔ جو نہ مکمل کتاب تھا، نہ بھاری بھرکم درس۔۔۔ بلکہ ایک چھوٹی سی “لیکچر سیریز” کا خیال تھا۔

ایسی سیریز جس میں ہر دن صرف ایک چھوٹا سا واقعہ ہو۔۔۔ ایک سادہ سا سبق ہو۔۔۔ اور چند سوال ہوں جن کا جواب بچوں سے لیا جائے، نہ کہ ان پر تھوپا جائے۔۔۔ کیونکہ اکثر بچوں کے معصوم سوالوں نے ہمیں بارہا یہ احساس دلایا کہ شاید ان تک کوئی بھی اچھی بات پہنچانے کا راستہ لمبے خطبوں سے زیادہ تجسس کے چھوٹے چھوٹے دریچوں سے کھلتا ہے۔

مگر فوراً ایک خیال سر اٹھانے لگا:

“اچھا! اور بچوں کو روز ایک جگہ کون جمع کرے گا؟”

یہ وہ سوال تھا جس نے ہماری نئی امید کو بھی ایک لمحے کے لیے ہلا دیا، کیونکہ تجربہ بتا چکا تھا کہ بچوں کو ایک وقت پر اکٹھا کرنا خود ایک باقاعدہ مہم ہے۔

خیر، ہم نے اس گھوڑے کو آزمانے کا ارادہ کیا اور یوں گھر کے ایک کونے میں اس چھوٹی سی لیکچر سیریز کی پہلی غیر رسمی نشست کا آغاز کر دیا۔۔۔ جس کا اصل امتحان ابھی باقی تھا۔

پہلے دن ہم نے بڑے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا:

“آج سب کو بس تھوڑی دیر کے لیے یہاں اکٹھے ہونا ہے، کوئی لمبا یا بھاری کام نہیں ہوگا!”

یہ جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ گھر میں اچانک ایسے ردِعمل شروع ہو گئے جیسے کسی نے مفت اسکول کھولنے کا اعلان کر دیا ہو۔۔۔ 😄

کسی کو اسی وقت پانی یاد آ گیا، کسی کو بھوک کا شدید حملہ، اور کسی کو اچانک احساس ہوا کہ آج ہی اس نے وہ “انتہائی ضروری” کام کرنا ہے جو پورے سال میں کبھی یاد نہیں آیا تھا۔

یوں لگتا تھا جیسے گھر کے اندر ہی ایک چھوٹا سا “منظم مزاحمتی نیٹ ورک” موجود ہو جو کسی بھی منصوبے کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دے۔

لیکن اس بار ہم نے ہار نہ ماننے کا فیصلہ کیا، اور جیسے تیسے کر کے نشست شروع کر ہی دی۔۔۔ ابھی آغاز ہی ہوا تھا کہ سامنے سے ایک معصوم سا سوال آ گیا:

“امی… یہ کب ختم ہوگا؟”

یہ سوال نہیں تھا۔۔۔ یہ تو گویا پوری نشست کا خلاصہ تھا۔

ہم نے اسے گھورنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا:

“بس تھوڑی دیر۔”

اسی دوران دوسرا بچہ بولا:

“امی، کیا یہ روز ہوگا؟”

یہ جملہ سن کر ہم خود بھی ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئے کہ کیا اس مشن کو آگے بڑھانا واقعی ممکن ہوگا۔۔۔ 😄

مزے کی بات یہ تھی کہ اس ساری روکا ٹوکی، شرارتوں اور نت نئی حرکتوں کے باوجود لیکچر سیریز کا کچھ نہ کچھ چل رہا تھا۔۔۔کبھی اس کا کوئی جملہ سن لیا جاتا، کبھی کوئی چھوٹا سا واقعہ دل میں اتر جاتا، اور کبھی کوئی سوال واقعی سوچنے پر مجبور کر دیتا۔

مگر پہلی نشست ہی نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ یہ سفر آسان نہیں۔۔۔ یہ چھوٹی چھوٹی مزاحمتیں اس مشن کا حصہ رہیں گی، اور ہمیں انہی کے درمیان یہ سفر آگے بڑھانا ہے۔۔۔۔

وہ کہتے ہیں نا، پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ، لہٰذا ہم نے بھی اسی امید کے ساتھ روزانہ یہ نشست جاری رکھنے کا پختہ فیصلہ کر لیا۔۔۔۔

کیونکہ بچوں کے دلوں میں کسی بھی اچھی بات کا بیج بونا پودا لگانے جیسا ہے۔ پہلے دن کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی، لیکن مسلسل آبیاری جاری رہے تو ایک دن یہی چھوٹے چھوٹے بیج کردار، محبت، شعور اور ہدایت کے درخت بن کر سامنے آتے ہیں۔۔۔ ان شاء اللہ۔

چھٹیاں

موسم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں