اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے، جو حرمت و عظمت والا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے کی دسویں تاریخ کو “یومِ عاشوراء” کہا جاتا ہے۔ عاشوراء عربی زبان کے لفظ “عشر” سے نکلا ہے، جس کے معنی “دس” کے ہیں، یعنی محرم الحرام کی دسویں تاریخ۔
یومِ عاشوراء اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور مبارک دن ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضائل و برکات سے نوازا ہے۔ اس دن کی عظمت صرف امتِ محمدیہ تک محدود نہیں، بلکہ سابقہ امتوں میں بھی اس دن کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے متعدد اہم واقعات اسی دن رونما ہوئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس دن کے روزے کی خصوصی ترغیب ارشاد فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “سال بارہ مہینوں کا ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور چوتھا رجب۔” (بخاری شریف، صحیح مسلم)
محرم الحرام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے “شہرُ اللہ” یعنی “اللہ کا مہینہ” قرار دیا، جو اس کی عظمت و شرف کی دلیل ہے۔
عاشوراء کا دن تاریخِ انسانیت میں عظیم واقعات کا حامل ہے۔ متعدد روایات میں مختلف انبیاء علیہم السلام کے حالات کا ذکر ملتا ہے، تاہم ان میں سے بعض روایات ضعیف بھی ہیں۔ البتہ جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں، ان میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اس دن ہوئی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جبلِ جودی پر اسی دن ٹھہری، حضرت یونس علیہ السلام اسی دن مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے خلاصی ملی تو وہ یہی دن تھا، حضرت یعقوب علیہ السلام کی ملاقات حضرت یوسف علیہ السلام سے اسی دن ہوئی، اور حضرت یوسف علیہ السلام تختِ خلافت پر دس محرم ہی کو متمکن ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی دن اپنی قوم سمیت فرعون سے نجات پائی، اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو آزمائش کے بعد بادشاہت ملی، اور حضرت ایوب علیہ السلام کو بھی بعدِ امتحان شفا اسی روز ملی۔ یہی وہ دن ہے جس میں حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، اور یہی وہ دن ہے جس میں نواسۂ رسول، جگرگوشۂ بتول، حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے باطل سے ٹکرا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ اسی دن اس کائنات کی بساط لپیٹ کر قیامت برپا کر دی جائے گی۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، بحوالہ: خصوصیاتِ ماہِ محرم الحرام و یومِ عاشوراء، معارف القرآن)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: “یہ کون سا دن ہے؟”
انہوں نے کہا: “یہ بہت عظمت والا دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔”
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اس کا حکم دیا۔ (بخاری شریف، مسلم شریف)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ یہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔” (صحیح مسلم)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: “عاشوراء کا روزہ رکھا جاتا تھا، پھر جب رمضان فرض ہوا تو جس نے چاہا عاشوراء کا روزہ رکھا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔” (صحیح مسلم)
علماء فرماتے ہیں کہ اس کا مقصد یہود کی مخالفت کرنا تھا۔ بعض فقہاء نے نو، دس اور گیارہ محرم، تین روزے رکھنے کو زیادہ بہتر قرار دیا ہے تاکہ دسویں تاریخ میں غلطی کا امکان باقی نہ رہے اور زیادہ ثواب حاصل ہو۔
بعض روایات میں عاشوراء کے دن اہلِ خانہ پر وسعت اور فراخی کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر فراخی کرے گا، اللہ تعالیٰ پورا سال اس پر فراخی فرمائے گا۔” (شعب الایمان للبیہقی)
اگرچہ اس روایت کی اسناد پر گفتگو کی گئی ہے، تاہم بہت سے محدثین نے مجموعی طرق کی بنا پر اس پر عمل کی گنجائش ذکر کی ہے۔
یومِ عاشوراء کو تاریخِ اسلام میں ایک اور عظیم نسبت حاصل ہے کہ اسی دن نواسۂ رسول، جگرگوشۂ بتول، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے کربلا کے میدان میں عظیم قربانی پیش کی۔
آپ کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے، جس پر ہر مسلمان رنجیدہ ہوتا ہے۔ اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہیدِ مظلوم ہیں اور ان سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔” (جامع ترمذی)
تاہم شریعت نے غم کے اظہار میں حدود مقرر فرمائی ہیں، لہٰذا نوحہ، سینہ کوبی، ماتم اور خود کو زخمی کرنا جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار لگائے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
بعض لوگ عاشوراء کے دن ایسے اعمال کرتے ہیں جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، مثلاً: ماتم اور سینہ کوبی، خود کو زخمی کرنا، تعزیہ سازی، جلوسوں میں غیر شرعی امور، عاشوراء کو صرف غم و ماتم کا دن سمجھنا، اور من گھڑت قصے اور ضعیف روایات بیان کرنا۔
اسلام اعتدال کا دین ہے، اس لیے ہمیں قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
یومِ عاشوراء کے مسنون اعمال یہ ہیں: توبہ و استغفار کرنا، روزہ رکھنا، نوافل اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، گھر والوں پر خرچ میں توسیع کرنا، اتباعِ سنت کا التزام کرنا، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کے لیے دعائے مغفرت کرنا، اور امتِ مسلمہ کی بھلائی کے لیے دعا کرنا۔
وہ امور جن سے ان دنوں میں بچنا چاہیے، یہ ہیں: کالا لباس پہننا، کالا جھنڈا لگانا، محرم کو نحوست اور غم کا مہینہ سمجھنا، سوگ، تعزیہ اور ماتم کرنا، شربت وغیرہ کی سبیلیں لگانا، اور دیگر من گھڑت رسموں کو اپنانا۔
یومِ عاشوراء اسلام کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی نصرت، انبیائے کرام کی کامیابی، شکرگزاری، عبادت اور اطاعت کا دن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کے روزے کی خصوصی ترغیب دی اور اس کے ذریعے ایک سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کی بشارت سنائی۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے، گناہوں سے توبہ کرے، اہلِ بیتِ اطہار خصوصاً حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کرے، اور ہر قسم کی بدعات و خرافات سے بچتے ہوئے قرآن و سنت کے مطابق اس مبارک دن کو گزارے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عاشوراء کی حقیقی برکات حاصل کرنے، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے، اور دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔