Waqas Yousuf 0

یومِ آزادی پاکستان — قربانی، شکراورعہد کا دن/تحریر/محمد وقاص یوسف

14 اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جسے ہم ہر سال خوشی، شکر اور قومی جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ صرف جھنڈے لہرانے، چراغاں کرنے اور نعرے لگانے کا دن نہیں، بلکہ یہ ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے۔ اے ایمان والو! ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان ہمیں آسانی سے نہیں ملا۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے گھروں، زمینوں، کاروباروں اور بہت سے اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں، مشکلات برداشت کیں اور ہجرت کی تکلیفیں اٹھائیں، تب جا کر 14 اگست 1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے قائم ہوا۔

یومِ آزادی ہمیں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ جس طرح ہم اپنے گھروں، اولاد، صحت اور رزق پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، اسی طرح ایک آزاد وطن پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن شکر صرف زبان سے ’’الحمدللہ‘‘ کہنے کا نام نہیں؛ حقیقی شکر یہ ہے کہ ہم اپنے وطن کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھیں، اس کی قدر کریں، اس کے قوانین کی پابندی کریں، دوسروں کے حقوق ادا کریں اور اپنے ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ایک مسلمان کے لیے وطن سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ امانت، ذمہ داری، دیانت اور خدمت کا نام بھی ہے۔
14 اگست ہمیں قربانی کی حقیقت بھی یاد دلاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کے حصول کے لیے بہت کچھ قربان کیا۔ کتنے خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے، کتنے لوگوں نے راستوں میں تکلیفیں برداشت کیں اور کتنے لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج ہم اپنے گھروں میں سکون سے زندگی گزار رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ آزادی ہمیں کن قربانیوں کے بعد ملی۔ اس لیے اے ایمان والو! اگر ہم واقعی اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی قدر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی میں محنت، دیانت، اتحاد، صبر اور خدمت کو اختیار کرنا ہوگا۔ صرف ایک دن وطن کے نام کر دینا کافی نہیں؛ وطن کی خدمت ہر دن کی ذمہ داری ہے۔

تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما
قائدِاعظم محمد علی جناحؒ:
قائدِاعظم نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور اپنی سیاسی بصیرت، مسلسل جدوجہد اور مضبوط قیادت کے ذریعے پاکستان کے قیام کی منزل حاصل کی۔ ان کی قیادت میں مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد ایک واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھی اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔

علامہ محمد اقبالؒ:
علامہ اقبال نے مسلمانوں میں خودی، بیداری اور الگ قومی تشخص کا احساس پیدا کیا۔ ان کے خطبۂ الہٰ آباد 1930ء نے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ایک اہم فکری سمت فراہم کی اور ان کی فکر نے تحریکِ پاکستان کو مضبوط نظریاتی بنیاد دی۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ:
فاطمہ جناح نے قائدِاعظم کا بھرپور ساتھ دیا اور تحریکِ پاکستان میں خواتین کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی انہوں نے مہاجرین کی خدمت اور ملک کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ:
علامہ شبیر احمد عثمانی تحریکِ پاکستان کے نمایاں علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی حمایت کی اور 14 اگست 1947ء کو کراچی میں پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ:
مولانا اشرف علی تھانوی نے تحریکِ پاکستان کے زمانے میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے مسئلے پر اہم رہنمائی کی اور مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے علماء میں ان کا نام نمایاں ہے۔

علامہ ظفر احمد عثمانیؒ:
علامہ ظفر احمد عثمانی بھی ان علماء میں شامل تھے جنہوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی حمایت کی۔ تحریکِ پاکستان میں ان جیسے علماء کی دینی و سیاسی کوششوں نے مسلمانوں کے مطالبۂ پاکستان کو تقویت دی۔

آج جب ہم پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں؟ کیا ہم اپنے کام میں دیانت دار ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو علم، اخلاق اور دین کی تعلیم دے رہے ہیں؟ کیا ہم سوشل میڈیا پر نفرت کے بجائے محبت، اتحاد اور خیر کی بات پھیلاتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ملک کی صفائی، امن اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو یہی حقیقی حب الوطنی ہے۔

اے میرے عزیز ہم وطنو! بالخصوص اے ایمان والو! ہمیں اس یومِ آزادی پر ایک نیا عہد کرنا چاہیے۔ ہم عہد کریں کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں گے۔ ہم جھوٹ، دھوکے، بددیانتی، رشوت، ناانصافی، نفرت اور انتشار سے بچیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو علم بھی دیں گے اور اچھا اخلاق بھی۔ ہم اپنے ملک کے اداروں، قانون اور قومی املاک کا احترام کریں گے۔ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں گے اور پاکستان کی ترقی کے لیے محنت کریں گے۔ پاکستان کسی ایک شخص، جماعت یا طبقے کا نہیں؛ یہ ہم سب کا وطن ہے اور اس کی حفاظت، ترقی اور عزت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یومِ آزادی کا اصل پیغام یہی ہے کہ آزادی صرف حاصل کرنے کی چیز نہیں، اسے سنبھالنے کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان حاصل کیا، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے علم، کردار، اتحاد، انصاف اور محنت کے ذریعے مضبوط بنائیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتانا ہوگا کہ پاکستان صرف نقشے پر ایک ملک کا نام نہیں، بلکہ یہ لاکھوں قربانیوں کی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔
آئیے! اس 14 اگست پر صرف سبز ہلالی پرچم نہ لہرائیں بلکہ اپنے دل میں بھی پاکستان کی محبت کا چراغ روشن کریں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، اپنے شہداء اور بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کریں، اپنے وطن کے لیے دعا کریں اور یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ایک پرامن، مضبوط، خوشحال اور بااخلاق ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے امن، سلامتی اور خوشحالی عطا فرمائے، اس کے دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں اپنے وطن کی سچی، مثبت اور دیانت دار خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
پاکستان زندہ باد — پاکستان پائندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں