Umm-E-Abdur-Rehman 0

14 اگست۔۔۔ تجدیدِ عہد/تحریر/ام عبدالرحمن

14 اگست آتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچم نظر آتے ہیں، گھروں اور گاڑیوں کو سجایا جاتا ہے، ملی نغمے بجتے ہیں، بچے خوش ہوتے ہیں، آتش بازی ہوتی ہے اور ہم ایک دوسرے کو آزادی مبارک دیتے ہیں۔ پاکستان سے محبت ہے، اس لیے یہ خوشی بالکل فطری ہے۔

لیکن کبھی کبھی اسی خوشی کے درمیان دل میں ایک سوال آتا ہے: ہم آخر کس آزادی کا جشن منا رہے ہیں؟

یہ سوال جشن کے خلاف نہیں، بلکہ ہمیں اپنے مقصد کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ ہمارے بزرگوں نے گھر چھوڑے، ہجرت کی، اپنے پیاروں کو کھویا اور بے شمار قربانیاں دیں۔ ان کے سامنے ایک ایسے ملک کا خواب تھا جہاں مسلمان اپنے دین کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

اسی جدوجہد کے ساتھ ایک نعرہ بھی ہماری زبانوں پر تھا:

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ۔

تو پھر کبھی کبھی یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ جس نظریے کے نام پر یہ ملک حاصل کیا گیا، کیا آج ہماری ریاست اور ہماری اجتماعی زندگی واقعی اس نظریے کی عکاسی کرتی ہے؟

اور اس سے جڑا ایک اور سوال ہے: اگر اللہ نے ہمیں یہ ملک ایک نعمت کے طور پر دیا تو اس نعمت کا شکر ہم کس طرح ادا کریں؟

شکر صرف زبان سے “الحمدللہ” کہہ دینے کا نام تو نہیں۔ نعمت کی قدر کرنا بھی شکر ہے۔ اگر ہم آزادی کی خوشی منا رہے ہیں تو کیا ہمیں یہ بھی نہیں دیکھنا چاہیے کہ ہماری خوشی کا طریقہ اللہ کی پسند کے مطابق ہے یا نہیں؟

یہ سوال شاید دوسروں سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔

کیونکہ پاکستان کا مقصد صرف ایک الگ وطن حاصل کرنا نہیں تھا۔ خواب یہ تھا کہ ایک ایسی ریاست قائم ہو جہاں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے، عدل ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، انسان کی عزت محفوظ ہو اور حکمران اپنے منصب کو اقتدار نہیں بلکہ امانت سمجھیں۔

ریاستِ مدینہ کا تصور بھی ہمارے سامنے اسی لیے آتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ریاست کا نام اسلامی جمہوریہ رکھ دیا جائے، بلکہ اسلام ریاست کے کردار میں نظر آئے؛ انصاف میں، امانت میں، مساوات میں، حقوق کی حفاظت میں اور کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے میں۔

اب اگر ہم اپنے پاکستان کو دیکھیں تو کیا ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس منزل تک پہنچ گئے ہیں؟

شاید نہیں۔

یہ بات ماننا آسان نہیں، لیکن ضروری ہے۔

ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار بیرونی سازشوں کو قرار دیتے ہیں۔ یقیناً دشمن بھی ہوتے ہیں اور بیرونی دباؤ بھی، مگر کیا ہماری ہر ناکامی صرف دوسروں کی وجہ سے ہے؟ ہمیں اپنے اندر بھی دیکھنا ہوگا۔

ہم نے سفارش کو جگہ دی، کرپشن کو برداشت کیا، میرٹ کو کمزور ہوتے دیکھا، قانون کو طاقتور کے سامنے جھکتے دیکھا اور کئی مرتبہ اصول سے زیادہ اپنے فائدے کو اہمیت دی۔ یہ صرف حکمرانوں کی بات نہیں؛ ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا حساب کرنا ہوگا۔

کیا میں اپنے معاملات میں دیانت دار ہوں؟

کیا میں دوسرے کا حق صرف اس لیے نہیں مارتا کہ مجھے موقع مل گیا؟

کیا میں اپنے لیے انصاف اور دوسروں کے لیے رعایت تو نہیں چاہتا؟

شاید تبدیلی کی شروعات ایسے ہی سوالوں سے ہوتی ہے۔

ہمیں اپنی کامیابیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بنا، دفاع کے میدان میں مضبوط ہوا اور دنیا میں اپنی ایک شناخت قائم کی۔ یہ سب ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔

لیکن ایک قوم کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں ہوتی۔ اس کا کردار بھی اس کی طاقت ہے۔ اگر کمزور انصاف کے لیے ترستا رہے، قانون سب کے لیے برابر نہ ہو اور دیانت داری مشکل جبکہ بدعنوانی آسان ہو جائے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم نے طاقت تو حاصل کر لی، مگر کیا وہ کردار بھی پیدا کیا جس کی ایک مضبوط اسلامی ریاست کو ضرورت ہے؟

ان سب باتوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ 14 اگست پر خوش نہ ہوں۔ خوش ہوں، ضرور ہوں۔ جھنڈا لگائیں، اپنے بچوں کو پاکستان کی تاریخ بتائیں، ان کے دل میں وطن کی محبت پیدا کریں۔ بس اس خوشی کے ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک کیوں بنایا گیا تھا اور اس آزادی کی اصل ذمہ داری کیا تھی۔

اگر ہم واقعی اپنے نظریے سے وفادار رہنا چاہتے ہیں تو اسے صرف تقریروں اور نعروں تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ اسے اپنے کردار، اپنے معاملات اور اپنی ریاست کے نظام میں جگہ دینا ہوگی۔

شاید اس 14 اگست پر ہمیں دوسروں سے کوئی وعدہ کرنے سے پہلے اپنے آپ سے ایک وعدہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے حصے کی اصلاح سے آغاز کریں گے۔ اپنے گھر سے، اپنے کاروبار سے، اپنی زبان سے، اپنے ووٹ سے اور اپنے روزمرہ کے معاملات سے۔

ہم شاید پورا ملک ایک دن میں نہ بدل سکیں، لیکن اپنے حصے کا پاکستان ضرور بہتر کر سکتے ہیں۔

اور شاید آزادی کا شکر بھی یہی ہے کہ ہم اس ملک کو اس مقصد کے قریب لے جانے کی کوشش کریں جس کے لیے یہ حاصل کیا گیا تھا۔

اس 14 اگست پر جشن بھی ہو، خوشی بھی ہو، پرچم بھی لہرائے جائیں؛ مگر ساتھ دل میں یہ دعا بھی ہو:

یا اللہ! ہمیں اس نعمت کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانے کی سمجھ اور کردار دے جہاں تیرے احکام کے مطابق عدل قائم ہو اور تیرے بندوں کے حقوق محفوظ ہوں۔

پھر شاید ہمارا جشن صرف آزادی کی خوشی نہیں رہے گا۔ وہ شکر بھی ہوگا اور ذمہ داری بھی۔

پاکستان زندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں