مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے محض ایک مقدس شہر نہیں، بلکہ وحدت، اخوت اور اجتماعیت کی علامت بھی ہے۔ اس سرزمین سے اٹھنے والی ہر آواز امتِ مسلمہ کے دلوں میں ایک خاص تاثیر پیدا کرتی ہے۔ ایسے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے باہمی دفاعی تعاون کی ایک دستاویز نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال میں مسلم ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور اجتماعی قوت کی ایک اہم علامت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت دفاعی تعاون، فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ سیکیورٹی مفادات سے متعلق روابط کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی طویل عرصے سے مضبوط دفاعی اور عسکری تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تربیت، تجربات اور مختلف شعبوں میں تعاون کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بھی دفاعی میدان میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ عسکری تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقوں اور دفاعی صنعت کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں سامنے آنے والا یہ تعاون اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے دائرے میں صرف دفاعی ضروریات ہی نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان باہمی رابطوں اور تعاون کے وسیع امکانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ علاقائی امن، سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری محسوس ہوتا ہے۔
تاہم اس اتحاد کی اصل کامیابی کسی ملک کو شکست دینے میں نہیں، بلکہ جارحیت کے امکانات کو کم کرنے، امن کو قائم رکھنے اور اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں ہوگی۔ ہمیں اس معاہدے کی خبر پر خوشی کے ساتھ رب العزت سے یہ دعا بھی کرنی چاہیے کہ یہ آغاز محض کاغذ پر لکھی ہوئی ایک دستاویز ثابت نہ ہو، بلکہ عملی تعاون اور دیرپا رفاقت کی مضبوط بنیاد بنے۔
دفاع کے میدان میں تعاون یقیناً اہم ہے، لیکن مسلم ممالک کی حقیقی قوت صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں۔ اگر مسلم ممالک معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، تجارت، سفارت کاری اور تحقیق کے میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں تو یہی تعاون ایک وسیع تر اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
مسلم دنیا کے پاس انسانی وسائل کی بے پناہ قوت، قدرتی دولت کے وسیع ذخائر، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور معاشی و تہذیبی امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان منتشر قوتوں کو باہم مربوط کیا جائے۔
مسلم ممالک اپنی انسانی، قدرتی، علمی، معاشی اور عسکری صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو دنیا انہیں نظر انداز نہیں کر سکے گی۔ یہ قوت کسی کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی مفادات، امن، ترقی اور وقار کے تحفظ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم اتحاد کا خواب دیکھنے والی کئی نسلیں دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن یہ خواب آج بھی زندہ ہے۔ مکہ مکرمہ سے سامنے آنے والا یہ سہ ملکی تعاون اسی خواب کی ایک نئی امید بن سکتا ہے۔ شاید آج ہم اس سفر کا ابتدائی قدم دیکھ رہے ہیں، جس کی دعا ہمارے بزرگ کئی دہائیوں سے کرتے آئے ہیں، ایک ایسی مسلم امت کی دعا جو بے بسی کی علامت نہ ہو، بلکہ اتحاد، وقار، امن اور اجتماعی قوت کی پہچان بنے۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے کے منظرنامے کا ایک خوب صورت پہلو وہاں موجود سعودی خواتین کی باوقار شرکت بھی تھی۔ عبایہ میں ملبوس یہ خواتین تاریخی دستاویزات کے دستخطی مراحل، سفارتی پروٹوکول اور انتظامی امور سے متعلق ذمہ داریاں نہایت متانت اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیتی دکھائی دیں۔
بظاہر یہ ایک معمول کا انتظامی منظر تھا، لیکن غور کیا جائے تو یہ بدلتے ہوئے سعودی معاشرے کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس میں جدید پیشہ ورانہ ذمہ داری اور تہذیبی شناخت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔
یہ منظر اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ ترقی اور حیا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ایک عورت اپنی تہذیبی شناخت، وقار اور حیا کے لباس کو برقرار رکھتے ہوئے بھی علم، انتظام، سفارت کاری اور قومی زندگی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
مکہ مکرمہ میں موجود ان خواتین کی شرکت ہمیں سعودی معاشرے میں آنے والی وسیع تر تبدیلیوں کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔ آج سعودی خواتین صحت، تعلیم، بینکنگ و فنانس، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، سیاحت، ہوٹلنگ، ریٹیل، میڈیا، کاروبار، تعمیرات اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر رہی ہیں۔
یہ تبدیلی صرف خواتین کے معاشی یا پیشہ ورانہ کردار تک محدود نہیں، بلکہ سعودی عرب کے وسیع تر قومی سفر کا حصہ ہے۔ وژن 2030ء کے تحت سعودی عرب اپنی معیشت کو متنوع بنانے، انسانی وسائل کو بروئے کار لانے اور نئے معاشی و سماجی زرائع پیدا کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
کسی جدید ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، قدرتی وسائل یا سرمایہ سے نہیں بنتی۔ اصل قوت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ریاست اپنے تمام انسانی وسائل کو قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائے۔ معاشرے کی نصف آبادی اگر تعلیم، طب، معیشت، ٹیکنالوجی، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتیں استعمال کرے تو قومی قوت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی خواتین صرف ترقی کی تماشائی نہ رہیں بلکہ اس کی معمار بھی بنیں۔ سعودی عرب میں خواتین کا بڑھتا ہوا تعلیمی، معاشی اور پیشہ ورانہ کردار اسی سمت میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
اس بڑے سفارتی اور سماجی منظرنامے میں ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے آتا ہے، مسلم دنیا میں عورت کا بدلتا ہوا کردار کیا ہے اور مستقبل میں یہ کردار کس سمت جائے گا؟ اور اس کردار کے ساتھ اس کی اسلامی شناخت، حیا اور تہذیبی وقار کا تعلق کیا ہونا چاہیے؟
اسلام نے عورت کو معاشرے سے الگ تھلگ رکھنے کے بجائے اسے اپنی استطاعت اور ذمہ داری کے مطابق معاشرتی زندگی میں کردار ادا کرنے کا حق دیا ہے۔
سورہ التوبہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:
“اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسلمان عورت معاشرے کی تعمیر میں ایک ذمہ دار وجود ہے۔
اسلامی تاریخ میں اس کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ایک صاحبِ حیثیت اور معروف تاجرہ تھیں۔ ان کی بصیرت، پاکیزگی، ایثار اور کردار اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔ ان کی عظمت صرف اس نسبت سے نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی زوجۂ محترمہ تھیں، بلکہ ان کی اپنی شخصیت، دانائی اور کردار بھی بے مثال تھا۔
اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فقہ کا عظیم مرکز تھیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ان سے مسائل دریافت کرتے اور ان کے علمی مقام کا اعتراف کرتے تھے۔ ان کی علمی بصیرت نے امت کے علمی ورثے میں گراں قدر اضافہ کیا۔
اسلامی تاریخ میں ایسی بے شمار خواتین ملتی ہیں جنہوں نے حیا، عفت اور دینی شعور کے ساتھ معاشرے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کے نزدیک حیا اور خدمت ایک دوسرے کی ضد نہیں تھے، بلکہ شخصیت کے دو خوب صورت پہلو تھے۔
آج بعض اوقات یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ عورت اگر عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت سے دستبردار ہونا ہوگا۔ یہ تصور اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ اسلام عورت کو علم، کردار، خدمت اور صلاحیت کے میدان میں آگے بڑھنے سے نہیں روکتا، بلکہ اس کے لیے اخلاقی اور شرعی حدود متعین کرتا ہے۔
سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ مومن عورتوں کو حیا اور پاکیزگی کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
“اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں…”
حجاب محض لباس کا نام نہیں بلکہ ایک وسیع اخلاقی تصور ہے، جس میں لباس کے ساتھ نگاہ، گفتگو، چال ڈھال اور مجموعی رویے میں بھی حیا اور وقار شامل ہیں۔
چنانچہ ایک مسلمان عورت ڈاکٹر ہو، استاد ہو، سفارت کار ہو، مترجم ہو، صحافی ہو یا کسی انتظامی ذمہ داری پر فائز ہو، اس کے لیے پیشہ ورانہ قابلیت کے ساتھ حیا، دیانت اور وقار بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہونا چاہیے۔
تبدیلی کو سمجھنے کا متوازن زاویہ
مسلم دنیا میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار کو محض کسی ایک تقریب، منظر یا واقعے کی بنیاد پر کسی بڑے تہذیبی فیصلے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ تبدیلیاں دراصل بدلتے ہوئے سماجی حالات، تعلیم، معیشت، ٹیکنالوجی، قومی ضروریات اور عالمی تقاضوں کے باہمی اثرات کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان رجحانات کو جذباتی ردِعمل کے بجائے گہری بصیرت، تحقیق اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جائے۔
دینِ اسلام ہمیں نہ ہر نئی تبدیلی کو بلا سوچے قبول کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہر نئے رجحان کو محض اس لیے مسترد کرنے کا حکم دیتا ہے کہ وہ نیا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ تبدیلی کے نتیجے میں کیا حاصل ہو رہا ہے، اس کے اثرات کیا ہیں اور وہ اسلامی اقدار، حیا، عفت، خاندان اور معاشرتی ذمہ داریوں سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔
اسی لیے سعودی خواتین کی موجودگی یا ان کے بڑھتے ہوئے پیشہ ورانہ کردار کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کی تعلیم، صلاحیت، خدمت اور قومی کردار کو سراہنے کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جدیدیت کے اس سفر میں اسلامی شناخت، حیا اور خاندانی اقدار کو کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
مثبت اور متوازن سوچ ہمیں نہ اندھی نقالی کی طرف لے جاتی ہے اور نہ غیر ضروری خوف و تشویش کی طرف، بلکہ تبدیلی کو سمجھنے، اس کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھانے اور دین اسلام کی تعلیمات اور اسلامی اصولوں کی حدود میں رہتے ہوئے درست سمت متعین کرنے کی بصیرت عطا کرتی ہے۔ یہی علمی دیانت، فکری پختگی اور اسلامی اعتدال کا راستہ ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خواتین کو عالمی تقریبات میں محض نمائشی حیثیت نہ دی جائے۔ اگر کوئی خاتون سفارتی پروٹوکول کی ذمہ داری نبھاتی ہے، عالمی رہنماؤں کے درمیان ترجمانی کرتی ہے یا کسی اہم تقریب کی میزبانی کرتی ہے تو اس کی قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف ہونا چاہیے۔
لیکن اس سے آگے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ کیا مسلم خواتین کو پالیسی سازی، تعلیم، تحقیق، سفارت کاری اور قومی فیصلوں میں حقیقی اور مؤثر کردار بھی دیا جا رہا ہے؟
آج ہماری خواتین ایک ایسے عالمی ماحول میں پروان چڑھ رہی ہیں جہاں کامیابی کے معیار تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان کے سامنے ایک طرف جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور عالمی مواقع ہیں اور دوسری طرف اپنی دینی و تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے کا چیلنج بھی ہے۔
اس لیے ہمیں اپنی خواتین کو یہ نہیں سکھانا کہ کامیاب ہونے کے لیے دنیا سے الگ ہو جائیں، اور نہ یہ کہ کامیاب ہونے کے لیے اپنی مذہبی شناخت چھوڑ دیں۔
بلکہ انے وقت میں انہیں یہ اعتماد دینا ہوگا کہ
تم علم حاصل کر سکتی ہو۔
تم اپنی صلاحیتیں نکھار سکتی ہو۔
تم دنیا کے بڑے اداروں میں کام کر سکتی ہو۔
تم سفارت کاری، تحقیق، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہو۔
تم عالمی زبانیں سیکھ سکتی ہو۔
مگر تم اپنی حیا، ایمان اور تہذیبی شناخت کے ساتھ بھی کامیاب ہو سکتی ہو۔
عورت کی اصل قوت صرف اس کی ظاہری شخصیت نہیں، بلکہ اس کا علم، کردار، شعور، حیا، اور صلاحیت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الرضاع)
یہ حدیث مبارکہ عورت کی قدر و منزلت کو اس کے ظاہری حسن کے بجائے اس کی نیکی اور کردار کو واضح کرتی ہے۔
آج مسلم دنیا کو ایسی خواتین کی ضرورت ہے جو جدید دنیا اور جدید علوم کو سمجھتی ہوں، مگر اپنی تہذیبی بنیادوں سے جڑی ہوں جو عالمی زبانیں جانتی ہوں، مگر قرآن کی زبان سے بھی یعنی قرآن مجید کے احکامات سے بھی اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہوں، جو اپنے حقوق سے آگاہ ہوں، مگر اپنی ذمہ داریوں کو بھی فراموش نہ کریں۔
مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ دفاعی تعاون اپنی سیاسی اور دفاعی اہمیت کے اعتبار سے ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے وسیع تر منظرنامے میں خواتین کی موجودگی ہمیں ایک اور بنیادی سوال کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ مسلم عورت کا مستقبل کیا ہوگا؟
اس سوال کا جواب نہ مکمل پسپائی میں ہے اور نہ اندھی نقالی میں۔
اس لیے دین اسلام کا راستہ توازن کا راستہ ہے۔
ہمیں ایسی عورت چاہیے جو بااختیار ہو باصلاحیت ہو مگر بے حیا نہ ہو، جدید علوم سے آراستہ ہو مگر اپنی دینی شناخت سے بیگانہ نہ ہو۔
وہ دنیا کے بڑے ایوانوں میں جگہ پائے، مگر اس کے دل میں اللہ کا خوف بھی باقی رہے۔
وہ سفارتی میز پر بیٹھے تو اپنی قابلیت سے پہچانی جائے، مگر اپنی تہذیبی شناخت پر شرمندہ نہ ہو۔
وہ عالمی زبان بولے لیکن اپنی دینی تعلیمات یعنی قرآن کے احکامات نہ بھولیں۔
اور سب سے بڑھ کر وہ اپنی اگلی نسل کو یہ یقین دے کہ اسلام عورت کے راستے میں دیوار نہیں، بلکہ اس کے کردار، ذمہ داری اور سفر کے لیے سمت متعین کرنے والا دین ہے۔
مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین سے اگر دنیا کو کوئی خوب صورت پیغام ملنا چاہیے تو وہ یہی ہے۔
مسلمان عورت آگے بڑھے، مگر اپنی شناخت کے ساتھ،
اپنا کردار ادا کرے، مگر اپنے وقار کے ساتھ،
علم و ہنر میں بلند ہو، مگر ایمان و حیا کی بنیاد پر۔
یہی وہ توازن ہے جو مسلمان عورت کو محض عالمی منظرنامے کا حصہ نہیں، بلکہ اسلامی تہذیب کی باوقار نمائندہ بنا سکتا ہے۔
اور شاید مکہ مکرمہ سے سامنے آنے والی یہ نئی تصویر ہمیں ایک اور بڑے خواب کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے، ایسی مسلم دنیا کا خواب جو دفاع میں ایک دوسرے کی قوت بنے، معیشت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے، علم و تحقیق میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور اپنی صلاحیتوں کو مشترکہ ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔
یہ سفر یقیناً طویل ہے، مگر ہر بڑے سفر کا آغاز ایک قدم سے ہوتا ہے۔ اگر یہ قدم اعتماد، اخلاص، حکمت اور عملی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو ممکن ہے کہ آج کی یہ چھوٹی سی پیش رفت آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑے اور روشن سفر کی بنیاد بن جائے۔