قومیں صرف زمین سے نہیں بنتیں، قومیں اپنے کردار سے بنتی ہیں۔ پہاڑ، دریا، جنگلات اور خوبصورت وادیاں کسی خطے کو دلکش تو بنا سکتی ہیں مگر عظیم نہیں۔ عظمت ہمیشہ ان لوگوں سے جنم لیتی ہے جو اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کا ہنر جانتے ہوں۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے، ہر کامیاب قوم کے پیچھے کچھ ایسے لوگ ضرور ملیں گے جہنوں نے شور سے زیادہ شعور کو اہمیت دی، جنہوں نے صرف خواب نہیں دیکھے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستے بھی بنائے۔ کشمیر کا نام آتے ہی ذہن میں برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں اور فطرت کے دلکش مناظر ابھرتے ہیں؛ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ کشمیر کی اصل خوبصورتی اس کے لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے سخت ترین حالات میں بھی محنت کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ مائیں جنہوں نے صبر کو اپنا زیور بنایا۔ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی نسلوں کو روایات، اقدار اور تہذیب کا ورثہ دیا۔ وہ استاد جنہوں نے علم کی شمع روشن رکھی اور وہ نوجوان جنہوں نے خواب دیکھنے کی ہمت نہیں چھوڑی؛ مگر ہر دور کا ایک سوال ہوتا ہے اور آج کا سوال یہ ہے کہ ہمارے اصل ہیروز کہاں ہیں؟
ایک زمانہ تھا جب کسی قوم کا ہیرو وہ شخص ہوتا تھا جو علم بانٹتا تھا، جو کردار بناتا تھا، جو لوگوں کو جوڑتا تھا، جو اپنے عمل سے مثال قائم کرتا تھا۔ بچوں سے پوچھا جاتا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے تو جواب ملتا: استاد، ڈاکٹر، محقق، شاعر یا خدمت گزار انسان۔ آج حالات بدل گئے ہیں۔ شہرت نے کردار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لوگ نام کو پہچانتے ہیں، کام کو نہیں۔ آواز کو سنتے ہیں، فکر کو نہیں۔ حالانکہ قوموں کی تعمیر ہمیشہ خاموشی سے کام کرنے والے لوگوں نے کی ہے، شور مچانے والوں نے نہیں۔ کشمیر کو آج سب سے زیادہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نئی نسل کو یہ سکھا سکیں کہ کامیابی صرف مقبولیت کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ ایک قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب اس کے نوجوان شکایت کرنے کے بجائے کچھ بننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جب وہ دوسروں سے سوال پوچھنے کے ساتھ ساتھ خود بھی جواب بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
یہ شعر صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے ہے۔ ایک نوجوان اگر اچھا استاد بن جائے، ایک طالب علم دیانت دار محقق بن جائے، ایک قلم کار سچائی اور اصلاح کا راستہ اختیار کر لے، ایک تاجر ایمانداری اپنا لے اور ایک والدین اپنی اولاد میں اچھے اخلاق پیدا کر دیں تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ قوموں کو بچانے کے لیے بڑے بڑے فیصلے درکار ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ قوموں کو چھوٹے چھوٹے اچھے کردار بچاتے ہیں۔ ایک سچا لفظ، ایک درست فیصلہ، ایک نیک عمل اور ایک مثبت سوچ کبھی کبھی وہ تبدیلی لے آتی ہے جو بڑے منصوبے بھی نہیں لا پاتے۔ آج کشمیر کو نئے نعروں سے زیادہ نئے معمار چاہئیں۔ ایسے معمار جو عمارتوں سے پہلے انسان تعمیر کریں۔ ایسے رہنما جو راستے دکھائیں۔ ایسے استاد جو صرف کتابیں نہ پڑھائیں بلکہ مقصدِ حیات بھی سمجھائیں۔ ایسے لکھاری جو دلوں میں امید جگائیں۔ ایسے نوجوان جو حالات کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے اپنے کردار سے حالات بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
ایک شاعر نے کہا تھا:
“چراغ خود نہیں پوچھتے اندھیرا کتنا ہے،
وہ جل پڑتے ہیں بس روشنی پھیلانے کو۔”
شاید کشمیر کو بھی آج ایسے ہی چراغوں کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دوسروں کے بدلنے کا انتظار نہ کریں بلکہ خود مثال بن جائیں؛ کیوں کہ قوموں کے حالات ایک دن میں نہیں بدلتے؛ مگر ایک نسل اگر اپنا رخ درست کر لے تو تاریخ کا دھارا ضرور بدل جاتا ہے۔ میری نظر میں کشمیر کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی زمین نہیں، اس کے لوگ ہیں اور اگر ان لوگوں میں علم، کردار، دیانت، صبر اور خدمت کا جذبہ زندہ رہا تو کوئی طاقت کشمیر کی شناخت کو کمزور نہیں کر سکتی۔ کشمیر کو صرف اپنے حقوق نہیں، اپنے اصل ہیروز بھی واپس چاہئیں۔ کشمیر! تیری وادیوں کا حسن ہمیشہ قائم رہے مگر اس سے بھی زیادہ تیرے لوگوں کے کردار کی روشنی قائم رہے۔
”کشمیر میرے لیے صرف ایک موضوع نہیں، ایک ذمہ داری ہے؛ اور ذمہ داریاں صرف لکھی نہیں جاتیں، نبھائی بھی جاتی ہیں۔”
کشمیر!
تمہارا نام آتے ہی
ماہ نور کنول کا قلم احترام سے جھک جاتا ہے۔
0