Hafiz Bilal Basheer 0

خطے کے امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار/تحریر/حافظ بلال بشیر

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی ماہ سے جنگ، کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی لپیٹ میں رہا۔ ایران۔ اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے نہ صرف پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ایسے نازک ماحول میں گزشتہ پیر کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات کے بعد جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، اس پیش رفت کا ایک نمایاں پہلو پاکستان کا وہ فعال اور متوازن سفارتی کردار ہے جس نے ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کی راہ ہموار کی۔ اسلام آباد نے نہ صرف مختلف فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ایسے ماحول کی تشکیل میں بھی معاونت کی جہاں متحارب قوتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اعلامیے میں 60 روزہ روڈ میپ، اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی کے قیام، تکنیکی مذاکرات کے آغاز اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام کے قیام جیسے اہم نکات شامل کیے گئے، جو مستقبل کے امن عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان کی سفارتی کامیابی اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس نے خطے میں کسی فریق کا حصہ بننے کے بجائے ایک ذمہ دار ثالث اور امن کے داعی کا کردار ادا کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے “اسلام آباد ڈائیلاگ” کو ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کی نئی شروعات قرار دینا اس امر کا بین الاقوامی اعتراف بھی ہے کہ پاکستان آج پیچیدہ علاقائی تنازعات میں ایک قابلِ اعتماد اور مؤثر سفارتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی سفارتی عمل کے نتیجے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، پابندیوں میں جزوی نرمی اور لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر پیش رفت بھی ممکن ہو رہی ہے۔

اگرچہ کئی معاملات بدستور حساس نوعیت کے حامل ہیں، تاہم گزشتہ پیر کو سامنے آنے والا مشترکہ اعلامیہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلسل سفارتی کوششیں بالآخر نتائج دیتی ہیں۔ آپ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ گزشتہ اتوار اور پیر کو وزیراعظم و فیلڈ مارشل سوئٹزرلینڈ میں موجود تھے، جہاں پاکستان کی کاوشوں سے ایک تاریخ رقم کی گئی، پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر نہ صرف آمنے سامنے بٹھا دیا، بلکہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، لبنان میں سیزفائر پر بات آگے بڑھ رہی ہے، ‘ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے علاوہ منجمد اثاثوں کے اجراء اور آبنائے ہرمز کو کھلارکھنے کے معاملات پر پیشرفت بھی ہو چکی ہے، 80 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جب یہ سب کچھ سوئٹزرلینڈ میں ہو رہا تھا تو ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مصر میں سفارتی کردار کو آگے بڑھانے کے لیے موجود تھے، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آر فور ممالک کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے علاوہ مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شامل تھے، اجلاس کا مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکا نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام اباد مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام اباد میں مفاہمت کی یادداشت کشیدگی میں کمی کی جانب اہم قدم ہے، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ نے خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے رابطوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا، وزرائے خارجہ نے 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام اباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیر مقدم کیا جبکہ ار فور ممالک نے اسلام اباد مفاہمتی یادداشت کو کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کے جانب ایک تعمیری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اس جنگ نے علاقائی سلامتی توانائی کی منڈیوں عالمی بحری راستوں سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق کیے، پاکستان اور دوسرے علاقائی اور عالمی فریقین کی امن کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا گیا۔ مصر میں ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اتوار کو قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے مشترکہ ملاقات بھی کی اس موقع پر اسحاق ڈار نے مصر کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ جبکہ مصر کے صدر نے پاکستان کی امن کے لیے کی گئی کاوشوں پر پاکستان کی تعریف کی۔
قارئین کرام! پاکستان نے امن کے لیے جو سفارتی کردار ادا کیا ہے وہ ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، علاقائی استحکام، مکالمے اور مفاہمت کے فروغ میں اب پاکستان کا کردار محض جغرافیائی اہمیت تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی امن کی کوششوں میں ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر چکا ہے۔ اب ہر پاکستانی کو دنیا بھر میں اپنے ملک پر فخر ہے اور ہر پاکستانی بیک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں۔ ہم ہیں پاکستان

پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں