Syed MehmoomMian SB 0

حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب رحمہ اللہ کی حیات، خدمات اور نقوشِ جاوداں/انتخاب/حنظلہ حفیظ

اللہ تعالیٰ بعض شخصیات کو ایسی جامع صفات اور ہمہ گیر خدمات سے نوازتا ہے کہ ان کی زندگی ایک فرد کی زندگی نہیں بلکہ ایک ادارے، ایک فکر اور ایک تحریک کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ ان کی موجودگی لوگوں کے لیے سکون، اعتماد اور رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے اور ان کا وصال ایک ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جسے مدتوں محسوس کیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ بھی انہی عظیم شخصیات میں سے تھے جن کے وصال کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے، مگر ان کی یادیں، خدمات اور تربیت آج بھی ہزاروں دلوں میں زندہ ہیں۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ کی ولادت ۵ جولائی ۱۹۵۶ء کو لاہور کے ایک علمی، دینی اور روحانی خانوادے میں ہوئی۔ آپ نسباً حسینی سید تھے اور ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس نے نسل در نسل دینِ اسلام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ بچپن ہی سے آپ کے اندر علمِ دین سے محبت، علماء سے عقیدت اور دینی خدمات کا جذبہ نمایاں تھا۔
تعلیم اور علمی سفر
حضرت رحمہ اللہ نے علومِ نبوت کی تحصیل اپنے والدِ ماجد کی نگرانی اور سرپرستی میں جامعہ مدنیہ قدیم میں فرمائی۔ ابتدائی درجات سے لے کر دورۂ حدیث تک تمام تعلیم اسی علمی ماحول میں حاصل کی۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے ہی میں غیر معمولی ذہانت، مطالعے کے شوق اور علمی ذوق کا مظاہرہ کیا۔
تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ نے تدریس کے میدان میں قدم رکھا اور فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب اور دیگر دینی علوم کی متعدد کتابیں پڑھائیں۔ آپ کا اندازِ تدریس نہایت سادہ، مدلل اور دل نشین تھا جس کی وجہ سے طلبہ آپ کے دروس سے خصوصی استفادہ کرتے تھے۔
شیخ الحدیث کی حیثیت سے خدمات
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ کی زندگی کا سب سے روشن باب تدریسِ حدیث تھا۔ آپ نے مسلسل پچیس سال تک صحیح بخاری کا درس دیا اور ہزاروں طلبہ کو حدیثِ رسول ﷺ کے علوم سے آراستہ کیا۔ آپ کے درسِ بخاری کو علمی وقار، تحقیقی انداز اور روحانی تاثیر کے باعث خاص مقام حاصل تھا۔
آپ حدیث کے اسباق کے ساتھ طلبہ کے اندر تقویٰ، اخلاص، اتباعِ سنت اور خدمتِ دین کا جذبہ بھی پیدا کرتے تھے۔ آپ کے بے شمار شاگرد آج ملک و بیرونِ ملک مساجد، مدارس، جامعات اور دینی مراکز میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، جو آپ کے لیے ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہیں۔
جامعہ مدنیہ جدید کا قیام اور خدمات
سن ۲۰۰۰ء میں حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ جدید کی بنیاد رکھی۔ سنگِ بنیاد کی اس تاریخی تقریب میں پاکستان اور ہندوستان کے نامور علماء کرام نے شرکت کی، جو اس ادارے کی اہمیت اور مستقبل کے حوالے سے ایک خوش آئند پیغام تھا۔
حضرت رحمہ اللہ نے جامعہ مدنیہ جدید کو محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک مکمل دینی، علمی اور تربیتی مرکز بنانے کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں۔ بطور مہتمم آپ نے ادارے کی تعمیر، ترقی، نصابی بہتری، طلبہ کی تربیت اور اساتذہ کی سرپرستی میں شب و روز محنت کی۔
آج جامعہ مدنیہ جدید ہزاروں طلبہ، علماء اور وابستگان کے لیے ایک معتبر علمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ درحقیقت حضرت رحمہ اللہ کی بصیرت، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کا زندہ ثبوت ہے اور ان کے عظیم علمی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔
سیاسی بصیرت اور ملی خدمات
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ صرف ایک مدرس اور منتظم ہی نہیں تھے بلکہ دینی و ملی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے مدبر راہنما بھی تھے۔ سیاسی حلقوں میں آپ کی بصیرت، معاملہ فہمی اور دور اندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا،
آپ ہمیشہ دین، مدارس، علماء اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ آپ کی سیاست ذاتی مفادات کے بجائے دینی و ملی مفادات کے گرد گھومتی تھی۔ آپ اختلاف کے بجائے اتحاد، تصادم کے بجائے حکمت اور انتشار کے بجائے اجتماعیت کے قائل تھے۔
جمعیت علماء اسلام میں کردار
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ کا جمعیت علماء اسلام کے ساتھ تعلق محض تنظیمی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی تھا۔ اگست ۲۰۲۳ء میں آپ جمعیت علماء اسلام پنجاب کے عبوری امیر منتخب ہوئے۔ بعد ازاں آپ کی قیادت، بصیرت اور جماعتی خدمات کے اعتراف میں آپ کو تاحیات امیر مقرر کیا گیا۔
آپ نے جماعتی کارکنوں کی تربیت، تنظیمی استحکام اور اکابرینِ جمعیت کے افکار کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کارکنوں کے لیے ایک شفیق قائد اور مخلص راہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ کی قیادت میں مشاورت، اعتدال، بردباری اور اخلاص نمایاں تھا۔
حسنِ اخلاق اور ذاتی اوصاف
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ حسنِ اخلاق، تواضع، شفقت اور محبت کا پیکر تھے۔ نرم مزاجی، خندہ پیشانی، مہمان نوازی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک آپ کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ ہر چھوٹے بڑے سے محبت کرتے اور ہر شخص کو عزت دیتے تھے۔
آپ کے پاس آنے والا شخص صرف علمی رہنمائی ہی نہیں بلکہ قلبی سکون اور روحانی اطمینان بھی حاصل کرتا تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی محبت بانٹنے، دل جوڑنے اور لوگوں کی خیر خواہی میں گزاری۔
علمی و دینی ورثہ
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ کا سب سے بڑا ورثہ جامعہ مدنیہ جدید، ان کے ہزاروں شاگرد، ان کی دینی خدمات اور ان کی قائم کردہ علمی و تربیتی روایات ہیں۔ آپ نے جو چراغ علم روشن کیے، وہ آج بھی فروزاں ہیں اور ان شاء اللہ آنے والی نسلوں تک روشنی پہنچاتے رہیں گے۔
آپ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا کام انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ آپ کے شاگرد، رفقاء، متعلقین اور ادارے آج بھی آپ کے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں اور یہی آپ کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ ہے۔
اختتامیہ
حضرت مولانا سید محمود میاں رحمہ اللہ کے وصال کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے، لیکن ان کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ جامعہ کے در و دیوار، درسگاہوں کی رونقیں، شاگردوں کی کامیابیاں، کارکنوں کی وابستگیاں اور متعلقین کی محبتیں آج بھی ان کے فیض کے زندہ ہونے کی گواہی دیتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی تمام دینی، علمی، تدریسی، جماعتی اور ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں