Umm-E-Abdur-Rehman 0

ہم اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟/تحریر/ ام عبدالرحمن

ہمارے معاشرے کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہے کہ رمضان المبارک آتے ہی لوگوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا احساس بیدار ہو جاتا ہے۔ لوگ بڑی احتیاط سے اپنے مال کا حساب لگاتے ہیں، اہلِ علم سے مسائل دریافت کرتے ہیں اور اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرض کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ یہ احساس یقیناً قابلِ قدر ہے، کیونکہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور اس کی ادائیگی ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے۔

لیکن اسی معاشرے میں ایک دوسرا منظر بھی نظر آتا ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب سالانہ پراپرٹی ٹیکس یا کوئی اور قانونی ٹیکس ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو بعض لوگ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کسی طرح یہ رقم کم سے کم ادا کرنی پڑے۔ کبھی جائیداد کی قیمت کم ظاہر کی جاتی ہے، کبھی حقیقت سے مختلف معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور کبھی ایسے قانونی راستے تلاش کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے اصل ذمہ داری سے بچا جا سکے۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے شاید دل میں کوئی خلش بھی محسوس نہیں ہوتی، حالانکہ زکوٰۃ کے ایک ایک روپے میں کمی کا تصور بھی انسان کو پریشان کر دیتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ زکوٰۃ اور ٹیکس ایک ہی چیز ہیں، کیونکہ دونوں کی حیثیت، مقصد اور شرعی بنیادیں الگ الگ ہیں۔ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کا فرض کردہ حق ہے، جبکہ ٹیکس ریاست کے مالی نظام کا حصہ ہے۔ البتہ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ مسلمان سے اپنے مالی معاملات میں سچائی، امانت اور دیانت داری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ فقہائے کرام نے بعض ٹیکسوں کی شرعی حیثیت کے بارے میں مختلف آراء بیان کی ہیں، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر جھوٹ، جعل سازی، حقائق چھپانے یا دھوکے کے ذریعے اپنی مالی ذمہ داری سے بچنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسلام نے عبادات اور معاملات کو کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرتے ہیں، جبکہ سچائی، امانت اور دیانت داری انسان کے کردار کی پہچان بنتے ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے صرف عبادات کا حکم نہیں دیا بلکہ مالی معاملات میں بھی پاکیزگی اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، اور نہ اسے حاکموں تک اس غرض سے پہنچاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔”(سورۃ البقرۃ: 188)

یہ آیت صرف رشوت کی ممانعت نہیں کرتی بلکہ ایک ایسا عمومی اصول بیان کرتی ہے جو ہر دور کے مالی معاملات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ انسان جانتے بوجھتے کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس کے ذریعے وہ حق کو باطل میں بدل دے یا اپنی ذمہ داری سے بچ نکلے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک ایسا اصول عطا فرمایا جو ہر مسلمان کے لیے معیار کی حیثیت رکھتا ہے:

“جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔”(صحیح مسلم)

اگرچہ یہ حدیث اپنے سیاق میں تجارتی معاملات کے بارے میں ہے، لیکن اس کا اصول ہر ایسے معاملے پر صادق آتا ہے جہاں انسان جان بوجھ کر حقیقت چھپائے، غلط بیانی کرے یا دھوکے سے ناجائز مالی فائدہ حاصل کرے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنے مالی معاملات کا جائزہ اسی میزان پر لینا چاہیے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ حکومت ناجائز ٹیکس عائد کرتی ہے یا عوام سے وصول کیا جانے والا ٹیکس صحیح جگہ خرچ نہیں کرتی، اس لیے ٹیکس پورا ادا کرنا ضروری نہیں۔ بعض کے ذہن میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر اتنا زیادہ ٹیکس ادا کر دیا تو بچے گا کیا؟ کاروبار کیسے چلے گا؟ منافع کہاں سے حاصل ہوگا؟

بظاہر یہ باتیں بڑی معقول محسوس ہوتی ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جب معاشی مشکلات بڑھ رہی ہوں۔ لیکن ایک مسلمان کا فیصلہ صرف حالات کو دیکھ کر نہیں ہوتا، بلکہ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ اس کا رب اس سے کیا چاہتا ہے۔ ٹیکسوں کی شرعی حیثیت یا ان کے عادلانہ یا غیر عادلانہ ہونے کے بارے میں اہلِ علم کی علمی بحث اپنی جگہ موجود ہے، لیکن یہ اختلاف کسی مسلمان کے لیے جھوٹ، دھوکے، جعلی معلومات یا حقائق چھپانے کا جواز نہیں بنتا۔ ہمیں ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کل اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے مالی معاملات کا حساب دینا پڑے تو کیا ہم پوری دیانت داری کے ساتھ یہ کہہ سکیں گے کہ جہاں بھی ہماری ذمہ داری تھی، وہاں ہم نے سچائی اور امانت کا دامن نہیں چھوڑا؟

اسلام نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ دوسروں کی کوتاہی یا زیادتی ہمارے لیے غلط رویہ اختیار کرنے کا جواز بن جائے۔ اگر کوئی اپنے منصب یا ذمہ داری میں خیانت کرتا ہے تو اس کا حساب اسے اللہ تعالیٰ کے حضور دینا ہوگا، لیکن اس کی بددیانتی ہمیں بددیانتی کی اجازت نہیں دیتی۔

مومن کا بھروسا اپنے مال، اپنی تدبیروں یا جمع پونجی پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ رزق انسان کی تدبیروں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ملتا ہے۔ اگر حلال راستے پر چلتے ہوئے کچھ مال کم بھی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرما دیتے ہیں، اور اگر ناجائز طریقے سے کچھ بچا بھی لیا جائے تو بظاہر وہ فائدہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی برکت ختم ہو جاتی ہے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ہاں باقی رہتا ہے۔

اسی لیے ایک مسلمان کی پہچان یہ نہیں کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کیا چاہتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے کرپشن ختم ہو تو اس کی ابتدا ایوانوں سے پہلے اپنے ضمیر سے کرنی ہوگی، کیونکہ قوموں کی اصلاح صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ شہریوں کے کردار سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہر شخص اپنے حصے کی دیانت داری کو اپنا فرض سمجھ لے گا تو یہی دیانت داری ایک دن پورے معاشرے کا کردار بن جائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عبادات کی طرح اپنے معاملات کو بھی پاکیزہ بنانے، ہر قسم کی خیانت، دھوکے اور بددیانتی سے بچنے، اور سچائی و امانت داری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں