0

مفکرِ ختمِ نبوت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کی حیات و خدمات/تحریر/حافظ ذیشان صدیقی

بعض شخصیات محض اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاص، استقامت اور خدمات سے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ وقت کے دھارے میں صرف ایک فرد نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ایسی ہستیاں اس دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک انسان کا انتقال نہیں ہوتا بلکہ علم، دعوت، اخلاص، امانت اور وفا کا ایک روشن باب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں مفکرِ ختمِ نبوت، عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت پاکستان کے مرکزی ناظمِ اعلی، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے آپ کی بے مثال خدمات، تنظیمی بصیرت، علمی وقار اور غیر متزلزل استقامت ایسی روشن حقیقت ہے جس کا اعتراف سبھی کرتے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی ناموسِ رسالت ﷺ اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی کے لیے وقف کیے رکھی اور نصف صدی سے زائد عرصہ اس مقدس مشن کی خدمت کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے لیے اخلاص و وفا کی ایک درخشاں مثال قائم کی۔
راقم الحروف کو بھی حضرت رحمہ اللہ سے تعلقِ عقیدت حاصل رہا۔ زندگی میں دو مرتبہ حضرت کی زیارت اور ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ ایک ملاقات لاہور میں ہوئی، جہاں کچھ دیر حضرت کی پُرنور مجلس میں بیٹھنے اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا سعادت بھرا موقع ملا۔ بظاہر وہ مختصر لمحے تھے، لیکن ان کی تاثیر آج بھی دل کے نہاں خانوں میں تازہ ہے۔ بعض ملاقاتیں وقت کی محتاج نہیں ہوتیں، وہ شخصیت کے وقار اور اخلاص کی وجہ سے عمر بھر کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔
اس ملاقات میں حضرت کی خاموش طبیعت، متانت، سنجیدگی، وقار اور غیر معمولی سادگی نے دل پر گہرا نقش چھوڑا۔ چہرۂ انور پر نورانیت، گفتگو میں ٹھہراؤ، مزاج میں حلم اور انداز میں شفقت نمایاں تھی۔ جب راقم الحروف حاضر ہوا تو حضرت رحمہ اللہ قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول تھے۔ تلاوتِ کلامِ الٰہی کے دوران ان کے چہرے پر جو خشوع، انہماک اور روحانی کیفیت نمایاں تھی، وہ آج بھی نگاہوں میں محفوظ ہے۔ محسوس ہوتا تھا کہ قرآن صرف ان کی زبان پر نہیں بلکہ ان کے قلب و روح میں بھی پوری طرح رچا بسا ہے۔
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ 1932ء میں متحدہ ہندوستان کے مشرقی پنجاب کے تاریخی شہر جالندھر میں ایک دیندار، علمی اور دینی خدمات انجام دینے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق آرائیں خاندان سے تھا، جبکہ آبائی پیشہ زراعت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جس خاندان میں آپ کو پیدا فرمایا، وہ علم، دیانت، دعوتِ دین اور تحریکِ ختمِ نبوت کی خدمات کے اعتبار سے برصغیر کے ممتاز خانوادوں میں شمار ہوتا ہے۔
آپ کے والد گرامی، مجاہدِ احرار حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ، مجلسِ احرارِ اسلام کے ممتاز رہنما، مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے بانی اراکین میں سے تھے اور بعد ازاں مرکزی ناظمِ اعلی اور امیرِ مرکزیہ جیسے اہم مناصب پر فائز رہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے وقف کیے رکھی۔ یہی دینی غیرت، اخلاص اور دعوت کا جذبہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کو وراثت میں ملا، جو آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا عنوان بن گیا۔
ابتدائی دینی تعلیم کے بعد آپ نے قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ یہ آپ کے لیے ایک عظیم سعادت تھی کہ آپ پاکستان میں حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ کی ابتدائی درسگاہ کے اولین خوش نصیب شاگردوں میں شامل رہے۔ بعد ازاں جامعہ خیر المدارس ملتان میں علومِ دینیہ کی ابتدائی و متوسط تعلیم حاصل کی، جبکہ دورۂ حدیث کی تکمیل 1957ء میں جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں محدثِ عصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی سرپرستی میں کی۔
آپ نے اپنے دور کے نامور اکابر علماء سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، جن میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ، حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ، محدثِ عصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا صدیق رحمہ اللہ سمیت متعدد جلیل القدر اساتذۂ کرام شامل ہیں۔ انہی اکابر کی علمی تربیت نے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کی شخصیت میں علم، عمل، اخلاص، اعتدال اور دعوتی بصیرت کو یکجا کر دیا، جس کے اثرات بعد کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ نے علم کو محض کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے نسلِ نو کی تربیت، کردار سازی اور دینی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ آپ نے مختلف دینی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں، تاہم گلشن درخواستی جامعہ مخزن العلوم خان پور میں آپ کی تدریسی زندگی کا ایک نمایاں باب رقم ہوا۔ جہاں حضرت رحمہ اللہ نے تقریباً 13 برس کے لگ بھگ علمِ دین کی شمع روشن رکھی۔
اس دوران آپ کے زیرِ تدریس ہدایہ، سراجی، مرقاۃ اور دیگر اہم علمی کتب رہیں۔ آپ صرف اسباق پڑھانے والے مدرس نہ تھے بلکہ طلبہ کے اخلاق، فکر اور مزاج کی تشکیل کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ کے درس میں تحقیق کی گہرائی، استدلال کی مضبوطی اور اکابر کی فکر کی خوشبو نمایاں ہوتی تھی۔ بے شمار علماء اور طلباء نے آپ سے کسبِ فیض کیا اور بعد ازاں ملک و بیرونِ ملک دین کی خدمت میں مصروف ہوئے۔
حضرت رحمہ اللہ کی شخصیت پر ان کے والد گرامی، مجاہدِ ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ کی تربیت کے گہرے اثرات تھے ختمِ نبوت کی تحریک، دینی حمیت اور ملی غیرت ان کی زندگی کا سرمایہ تھیں، اور یہی قیمتی وراثت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ نے پوری امانت کے ساتھ آگے منتقل کی۔
علم کے ساتھ ساتھ حضرت رحمہ اللہ نے اپنے باطن کی اصلاح اور روحانی تربیت کو بھی ہمیشہ اہمیت دی۔ ابتدا میں آپ نے حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمہ اللہ سے اصلاحی تعلق قائم کیا۔ بعد ازاں حضرت سائیں حماد اللہ ہالیجوی رحمہ اللہ، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ اور شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ جیسے اکابر اہلِ دل سے روحانی نسبت قائم رہی۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ نے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی نوازا، جو آپ کے علمی اور روحانی مقام کی روشن دلیل ہے۔
سن 1970ء میں حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ نے باقاعدہ طور پر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ابتدا میں آپ نے مالی و انتظامی امور اور مرکزی دفتر کے نظم و نسق میں نہایت دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ آپ نے کبھی منصب کو اعزاز نہیں سمجھا بلکہ اسے امانت جان کر ادا کیا۔ یہی اخلاص تھا کہ کارکنوں، علماء اور اکابر کی نگاہیں رفتہ رفتہ آپ کی انتظامی صلاحیت، دیانت اور دوراندیشی پر مرکوز ہوتی چلی گئیں۔
بالآخر 1985ء میں آپ کو عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت پاکستان کا مرکزی ناظمِ اعلی مقرر کیا گیا۔ یہ منصب محض ایک انتظامی ذمہ داری نہ تھا بلکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے عالمی مشن کی قیادت کا بوجھ تھا، جسے حضرت نے انتہائی حکمت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔ پھر چار دہائیوں سے زائد عرصے تک آپ اسی منصب پر رہتے ہوئے تحریکِ ختمِ نبوت کی خدمت کرتے رہے۔ آپ کی قیادت میں مجلس نے ملک کے طول و عرض میں اپنے دعوتی، تبلیغی، علمی اور تنظیمی کام کو مزید وسعت دی، اور ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے نئی نسل کو منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
حضرت رحمہ اللہ کو اپنے عہد کے جلیل القدر اکابر علماء کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل رہی۔ آپ نے حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ، حضرت مولانا لال حسین اختر رحمہ اللہ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات رحمہ اللہ، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر رحمہ اللہ اور حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خان خاکوانی دامت برکاتہم العالیہ سمیت اکابرین کی رہنمائی میں تحریکِ ختمِ نبوت کی خدمت انجام دی۔ یہی نسبتیں ان کی فکر، مزاج اور دعوتی حکمت کا سرمایہ رہیں۔
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ نے کبھی شہرت، منصب یا قیادت کو اپنی ذات کا محور نہیں بنایا۔ آپ کا اصل سرمایہ اخلاص، امانت، خاموش خدمت اور مقصد سے بے لوث وابستگی تھا۔ آپ جتنا بلند منصب رکھتے تھے، اتنی ہی زیادہ عاجزی، انکساری اور سادگی آپ کے مزاج کا حصہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے قریب رہنے والے جانتے تھے کہ حضرت کی اصل عظمت ان کے منصب میں نہیں بلکہ ان کے کردار میں تھی۔ راقم الحروف کو جب حضرت کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف ملا تو پہلی ہی نظر میں ایک ایسی شخصیت سامنے آئی جس کے چہرے پر وقار، نگاہوں میں سنجیدگی اور طرزِ عمل میں سکون نمایاں تھا۔ حضرت کی طبیعت میں غیر ضروری گفتگو کا کوئی شائبہ نہ تھا۔ خاموشی گویا ان کے مزاج کا زیور تھی۔ وہ کم بولتے، مگر جب لب کشائی فرماتے تو ہر جملہ وزن، حکمت اور اعتدال کا آئینہ دار ہوتا۔ ان کے سامنے بیٹھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ انسان کسی ایسے درویش عالم کی مجلس میں موجود ہے جس نے علم کے ساتھ عمل اور اخلاص کو بھی اپنا شعار بنا رکھا ہو۔
حضرت رحمہ اللہ کے مزاج میں غیر معمولی جرات اور استقامت بھی تھی۔ جب بھی عقیدۂ ختمِ نبوت کو کسی جانب سے چیلنج کیا گیا، آپ ہمیشہ صفِ اوّل میں دکھائی دیے۔ مگر آپ کی جرات شور و غوغا کی نہیں بلکہ حکمت، دلیل اور اصول کی جرات تھی۔ آپ نے ہمیشہ اکابرین کے طے کردہ راستے پر چلتے ہوئے دلیل، نظم اور اتحاد کے ساتھ تحریکِ ختمِ نبوت کی قیادت فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ کارکن آپ کو صرف ایک منتظم نہیں بلکہ ایک مربی، مشفق اور فکری رہنما سمجھتے تھے۔
عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے مالی و انتظامی معاملات میں حضرت کی دیانت اور احتیاط ضرب المثل کی حیثیت رکھتی تھی۔ مجلس کی امانت کو آپ اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتے تھے۔ ہر مالی معاملہ مکمل تحقیق، باریک بینی اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جاتا۔ ایک ایک رقم کے مصرف کی وضاحت، حساب کی شفافیت اور امانت داری پر آپ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ آپ کا یقین تھا کہ دینی اداروں کی اصل طاقت صرف کارکنوں کی محنت نہیں بلکہ امانت و دیانت بھی ہے، اور اسی اصول پر آپ نے پوری زندگی عمل کیا۔
آپ کی نگرانی میں مجلس کے دفاتر کا انتظام، تنظیمی امور کی اصلاح، مالی نظم کی مضبوطی اور دعوتی کاموں کی ترتیب ایک مثالی انداز میں آگے بڑھتی رہی۔ ملک بھر میں مبلغینِ ختمِ نبوت کی سرپرستی، ان کی رہنمائی، علمی معاونت اور حوصلہ افزائی آپ کی ترجیحات میں شامل تھی۔ ردِّ قادیانیت پر مشتمل لاکھوں کتابچے، رسائل اور علمی لٹریچر کی اشاعت میں آپ کی منصوبہ بندی اور سرپرستی نمایاں رہی۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا دفاع صرف جذبات سے نہیں بلکہ مضبوط علمی دلائل، بہترین اخلاق اور منظم دعوتی محنت سے کیا جائے۔
آپ کی جماعتی زندگی تقریباً 56 برس پر محیط ہے، جبکہ مرکزی ناظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے 41 برس تک مسلسل خدمات انجام دینا اپنی مثال آپ ہے۔ اتنی طویل مدت تک ایک ہی منصب پر رہ کر اخلاص، دیانت اور اعتماد کو برقرار رکھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ اعزاز ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے، اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ یقیناً انہی خوش نصیب ہستیوں میں شامل تھے۔
گزشتہ ماہ راقم الحروف کو بانی و چیئرمین پاکستان نعت کونسل، سفیرِ نعت، حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے دورے کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران ملتان میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت، حضوری باغ کے مرکزی دفتر میں حاضری کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ دل میں ایک دیرینہ خواہش موجزن تھی کہ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا جائے، ان کی دعا حاصل کی جائے اور چند لمحے ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا شرف نصیب ہو۔ لیکن جب حضرت کے حجرے کی طرف گئے تو معلوم ہوا کہ حضرت اس وقت وہاں تشریف نہیں رکھتے۔ یوں یہ آرزو دل ہی دل میں رہ گئی اور ملاقات کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکی۔
ملتان سے واپسی کے چند روز بعد بعض احباب سے معلوم ہوا کہ حضرت کی طبیعت انتہائی تشویش ناک ہے۔ بتایا گیا کہ برین ہیمرج کے باعث آپ نشتر ہسپتال ملتان میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ خبر سن کر دل بے حد رنجیدہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت کی جلد صحت یابی اور کامل عافیت کے لیے دعا کی جاتی رہی، کیونکہ دل یہی چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم بزرگ کو مزید عرصہ امت کی خدمت کے لیے سلامت رکھے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ 29 جولائی 2026ء، بروز بدھ، مغرب کے وقت راقم الحروف کو سفیرِ نعت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی کال موصول ہوئی۔ انہوں نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ اطلاع دی کہ حضرت مولانا عزیزالرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے فرمایا کہ وہ گوجرانوالہ سے ملتان روانہ ہو رہے ہیں تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں، اور اگر ممکن ہو تو راقم الحروف بھی ساتھ ہو جائے۔ مگر اس وقت طبیعت کی شدید ناسازی کے باعث اس سفر کی استطاعت نہ ہو سکی، چنانچہ دلی خواہش کے باوجود اس عظیم مردِ مجاہد کی نمازِ جنازہ میں حاضری نصیب نہ ہو سکی۔ یہ حسرت شاید ہمیشہ دل میں باقی رہے گی۔
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ مختصر علالت کے بعد آپ کا وصال 14 صفر المظفر 1448ھ، بمطابق 29 جولائی 2026ء، بروز بدھ، نشتر ہسپتال ملتان میں تقریباً 94 برس کی عمر میں ہوا۔ اگلے روز، 15 صفر المظفر 1448ھ، بمطابق 30 جولائی 2026ء، قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں ان کی نمازِ جنازہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے امیرِ مرکزی حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خان خاکوانی دامت برکاتہم العالیہ نے پڑھائی۔ ملک کے طول و عرض سے علماء کرام، طلبہ، مبلغینِ ختمِ نبوت، کارکنان، دینی، سماجی اور سیاسی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے اس مردِ درویش، خادمِ ختمِ نبوت اور امینِ تحریک کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا۔ بعد ازاں آپ کو جلال باقری قبرستان، ملتان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی علمی بصیرت، تنظیمی حکمت، امانت و دیانت، خاموش خدمت، اخلاص اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے لیے بے مثال قربانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ آنے والی نسلیں جب بھی تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت کی تاریخ کا مطالعہ کریں گی تو حضرت کا نام احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جائے گا۔
اللہ رب العزت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی تمام دینی، ملی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے مخلص، باعمل اور بے لوث خدامِ ختمِ نبوت عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں