
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے گیسو ہٹا رہی ہے
سحر کا تارہ نکھر چکا ہے
افق پے سرخی سی چھا رہی ہے
سحر کی مانندطلوع ہوا ہے کلی کلی یہ بتا رہی ہے
میرے نبی کا ہے حسن ایسا جو پیرہن میں نہ چھپ سکے
یوں تو خالق کائنات کی ہر تخلیق معمور و مصلحت ہوتی ہے ۔ وجود انس ہو یا حیثیت حیوانات و جمادات نگار فطرت کے حسین شاہکار کائنات کے لیل و نہار میں آرائش و زیبائش کے ساتھ تابندہ ہوتے ہیں اگر نسیم سحری اور باد سموم کے درمیان پنکھ پھیلا کر اس زندگی کا مظاہرہ کرتا ہے
لیکن آج میں جس عنوان کے گلدستہ عقیدت کے خوشنما پھول سمونے کی کوشش کروں گا وہ نبی رحمت بحثیت محسن انسانیت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ہے
آج جس ذات اقدس پہ قلم اٹھانے چلا ہوں وہ ذات اتنی عظمتوں والی رفعتوں والی بلندیوں والی ذات ہے اس ذات کی سیرت و کردار کو اپنی قلم کے اندر سمونہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے
قائرین کرام میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ تاجدار
دو جہاں کی سیرت کے اتھا سمندر میں سے اپنے آقا کے فرائد جمیلہ کی کس لڑی کے موتیوں کو پکھیروں؟
میرے نبی کی دلکشی میں کھونے والے قلوب حیات جاودانی کی الفتوں کا مرقع و منبع ہوا کرتے ہیں
اس نبی کی سیرت کی بات کرتا ہوں جس کی جلوتو میں محو پرواز نرگس وعنبر کا نقش بن جاتے ہیں میرا نبی وہ ہے جس کی صداقت و امانت کے ترانے دشمنوں کی زبانیں بھی گنگنانے لگی جاتی ہیں ۔
جس کی دیانت و شرافت غیرو کے لب کھول دیتی ہے
جس کے الفاظ کی عمدگی زائرین کا جم غفیر بنا دیتی ہے جس کی فکر و تڑپ چہاردانگ عالم کو منور کر دیتی ہے
جس کا حسن و جمال اور جلال سنگلاخ چٹانوں کو ذرات بنا دیتا ہے
جس کی حیات قیامت تک آنے والوں کو حیا کی خیرات بانٹ دیتی ہے
جس کی بے تاج بادشاہی کے سامنے تاج وتخت والے بھی فقیر بن جاتے ہیں__
اگر تم کائنات کا کامل و اکمل معلم دیکھنا چاہو تو آمنہ کے لخت جگر کو دیکھ لو اگر تم کائنات کے مبلغ اعظم دیکھنا چاہو تو عبد اللہ کے نور نظر کو دیکھ لو
آئیے میں آپ کو مبلغ اعظم کی تبلیغ کی ایک جھلک دکھاتا ہوں محسن انسانیت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیے ۔
مکہ میں قیامت کا سماں ہے رات کی اندو نہاک تاریکی اس قدر کہ وحشی درندے بھی سہم چکے ہیں
تندو تیز آندھی و طوفان نے اوھم مچا رکھا ہے ہوائی بلندوبالا اشجار اٹھکھیلیاں کر رہی ہیں
زمین و آسمان طوفان نوح کا منظر دیکھا رہے ہیں ۔
ابی بن خلف جیسا ظالم بھی ہتھیار ڈال چکا ہے ابولہب جیسا شقی القلب بھی ٹھٹھر گیا ہے ابوجہل جیسا سنگ دل بھی گھر سے باہر قدم رکھنے کی جرات نہیں کرتا ہر کوئی
بے ساختہ کپکپاہٹ و تھرتھراہٹ کا شکار ہے کہ اچانک ابوجہل کے دروازے پر دستک ہوتی ہے ابوجہل اپنی بیوی کے چہرے پر تعجب سے نگاہ ڈالتے ہوئے کہتا ہے لگتا ہے کوئ بہت زیادہ محتاج ہے سائل حاجت مند ہے ۔ لات و منات کی قسم آج اس سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹائوں گا
اگلی بات دل تھام کے پڑھئیے جب ابوجہل دروازے کے پاٹوں کو جدا کرتا ہے تو دیکھتا کیا ہے کہ دہلیز پے تاجدار دوجہان کھڑے ہیں سامنے وجہ تخلیق کون و مکاں کھڑے ہیں ۔
ابو جہل بزبان حال کہتا ہے اے ابن عبدالمطلب مانگ جو مانگنا چاہتا ہے آج تیری ہر خواہش ہر آرزو ہر تمنا پوری ہوگی اگر دولت شہرت عزت کی تمنا ہے تو سارے عرب کا بادشاہ بنا دوں گا اگر لطف آرام چاہتا ہے تو دولت کے انبار لگا دوں گا اگر رقص اور سرور کا متلاشی ہے تو حسینہ عرب کا خاوند بنا دوں گا
لیکن ۔ میرے نبی رحمت بحثیت محسن انسانیت نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم صاحب حسن و جمال شافعی محشر ساقی اکوثر صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سنو فرمایا ابو جہل سب کچھ تجھے مبارک ہو میں تو بس اس غرض سے آیا ہوں کہ آج قیامت خیز منظر دیکھ کر اب تو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرلے ۔ تاکہ ہمیشہ کی کامیابیاں تیرے گلے کا ہار سنگھار بن جائیں لیکن ازلی بدنصیب کے نصیب میں پھر بھی نہ جاگے ۔
مکی مدنی دور میں محسن انسانیت کے احسانات کی بے شمار مثالیں ہیں
جتنے احسانات اللہ تعالی کی ذات کے بعد اس امت پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اتنے کسی کے نہیں آپ نے ہر موقع پر امت کیلے بہتر سوچا بلکہ جب آپ آخری لمحات میں تھے دنیا سے جارہے تھے تب بھی آپ نے یہ دعا فرمائ اے اللہ مجھ پر جتنا بوجھ ڈالنا ہے ڈال دیجے لیکن میری امت کے مومنین و مومنات کی موت کو آسان فرمانا
اس سے بڑی مثال محسن انسانیت کی کیا ہوسکتی مکی دور کی تکلیفیں دیکھ لی جیے سب کچھ برداش کیا مگر امت کیلے محسن ہی بن کر رہے اللہ تعالی ہمیں آپکی سچی اتباع نصیب فرماے آمین