
ماں کا رشتہ / تحریر / محمد فضيل انصاری
ماں کا رشتہ انسانی زندگی کا سب سے مضبوط، گہرا اور پاکیزہ رشتہ ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو انسان کی تخلیق سے لے کر اس کی پوری زندگی کے ہر مرحلے میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ماں کی محبت، قربانی اور شفقت کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ وہ جذبہ ہے جو انسانیت کی بنیاد اور زندگی کی اصل قوت ہے۔
انسانی تاریخ، ادبیات اور مذاہب سبھی میں ماں کو خاص مقام دیا گیا ہے۔ قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید دور تک، ہر معاشرہ ماں کی عظمت کو تسلیم کرتا آیا ہے۔ وہ تخلیق کی علامت بھی ہے، پرورش کی ضمانت بھی اور قربانی کی مثال بھی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ماں کے حقوق اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے اور فرمایا ہے کہ ماں نے مشقت کے ساتھ بچے کو اپنے پیٹ میں رکھا اور مشقت ہی کے ساتھ اسے جنا۔ یہ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ماں کا رشتہ قربانی اور ایثار کی انتہا ہے۔
ماں کا رشتہ بچے کے ساتھ حمل کے پہلے دن سے شروع ہوتا ہے۔ جب بچہ ابھی وجود میں نہیں آتا، تب بھی ماں کے دل میں محبت اور دعا کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ حمل کے دوران ماں کا جسمانی، ذہنی اور جذباتی سفر اس کے ایثار کا سب سے پہلا ثبوت ہے۔ وہ اپنے آرام، صحت اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر آنے والے بچے کی خاطر قربانی دیتی ہے۔ یہ قربانی صرف نو ماہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ ماں کی پوری زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
بچپن میں ماں بچے کے لیے کائنات کی سب سے بڑی سہارا ہوتی ہے۔ بچے کی بھوک، پیاس، نیند اور سکون سب ماں کے وجود سے جڑے ہوتے ہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی ہے، بچے کے رونے پر دوڑتی ہے، اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتی ہے۔ بچہ ماں کے لمس میں تحفظ اور سکون پاتا ہے۔ یہی وہ ابتدائی تعلق ہے جو بچے کی شخصیت اور اس کے جذباتی نظام کو تشکیل دیتا ہے۔
ماں کی آغوش بچے کے لیے سب سے پہلی درسگاہ ہے۔ وہ نہ صرف اسے بولنا سکھاتی ہے بلکہ زندگی کے بنیادی اصول بھی دیتی ہے۔ اس کی گود میں بچہ رحم، ہمدردی اور محبت کے سبق سیکھتا ہے۔ اگر ماں کی تربیت مثبت ہو تو بچہ ایک متوازن اور باشعور انسان بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی یونیورسٹی ہے۔
جب بچہ بڑا ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف مراحل میں داخل ہوتا ہے تو ماں اس کے ساتھ رہتی ہے۔ وہ اس کی کامیابی پر سب سے زیادہ خوش ہوتی ہے اور اس کی ناکامی پر سب سے زیادہ دکھی۔ اس کی دعائیں ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ ماں کی محبت بے غرض اور بے لوث ہوتی ہے، وہ کچھ پانے کے لیے محبت نہیں کرتی بلکہ صرف دینے کے لیے محبت کرتی ہے۔
تاریخ میں ماں کے کردار کی کئی عظیم مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت مریمؑ کا کردار ماں کی حیثیت سے پاکیزگی اور ایثار کی مثال ہے۔ اسی طرح حضرت آمنہؑ نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا اور بچپن میں اپنی محبت اور قربانی سے ان کی پرورش کی۔ اسلامی تعلیمات میں ماں کا مقام اتنا بلند ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” یہ قول ماں کے رشتے کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
نفسیاتی طور پر ماں بچے کی شخصیت کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے کی ذہنی صحت، اس کے اعتماد اور اس کے رویے کا بڑا حصہ ماں کے ساتھ تعلق پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ماں محبت اور تحفظ فراہم کرے تو بچہ دنیا کے چیلنجز کا سامنا اعتماد کے ساتھ کرتا ہے۔ لیکن اگر ماں کی محبت کمزور ہو یا اس کا رشتہ ٹوٹا پھوٹا ہو تو بچہ زندگی بھر عدم تحفظ اور خوف کا شکار رہ سکتا ہے۔
ماں کا رشتہ صرف بچے کے ساتھ ہی نہیں رہتا بلکہ پورے خاندان کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ وہ بیوی کے طور پر شوہر کا سہارا، بہو کے طور پر خاندان کی خدمت گزار اور نانی یا دادی کے طور پر نسلوں کی تربیت کرنے والی ہوتی ہے۔ اس کی موجودگی خاندان کے نظام کو بکھرنے سے بچاتی ہے۔
روحانی اعتبار سے ماں کا رشتہ اللہ کی رحمت کا عکس ہے۔ بعض علما نے کہا ہے کہ اللہ نے اپنی صفت “رحم” کو ماں کے دل میں رکھا ہے تاکہ انسان اپنی زندگی میں محبت اور قربانی کو سمجھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کی دعا سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے اور اس کی بددعا سب سے زیادہ سخت مانی جاتی ہے۔
ماں کی زندگی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ اپنے آرام، اپنی خوشی اور اپنے خوابوں کو اولاد کے لیے قربان کرتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کبھی شکایت نہیں کرتی۔ اس کا وجود خلوص اور ایثار کی علامت ہے۔
یوں ماں کا رشتہ انسانی زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا سفر ادھورا اور نامکمل ہے۔ ماں محبت کا وہ چراغ ہے جو اولاد کے لیے ہمیشہ جلتا رہتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
✍️ مصنف / محمد فضیل انصاری