دو بھائیوں کے درمیان صلح کی سبق آموز داستان/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی 0

دو بھائیوں کے درمیان صلح کی سبق آموز داستان/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

دو بھائیوں کے درمیان صلح کی سبق آموز داستان/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

رات گیارہ بجے میں ایک دعوتِ ولیمہ سے اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔ حرم گیٹ سے سبیل چوک کی طرف جاتے ہوئے مجھے ایک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی تو میں نے فوراً گاڑی روک دی۔ دیکھا تو تقریباً دس سالہ لڑکے کی پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے اسے گلے لگایا، پیار کیا اور پوچھا کہ یہ کس نے مارا ہے۔ اس نے بتایا کہ بڑے بھائی نے کھیڑی چپل زور سے ماری ہے اور پھر گھر سے بھی نکال دیا ہے۔

میں اسے ساتھ بٹھا کر قریب ہی ایک فارمیسی پر لے گیا۔ وہاں پہنچتے ہی بچہ بے ہوش ہو گیا۔ اسے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ کچھ دیر بعد ہوش میں آیا تو اس کی مرہم پٹی کی گئی اور پیشانی پر ٹانکے لگائے گئے۔

بات چیت کے دوران بچے نے بتایا کہ اس کا تعلق جلالپور پیروالہ سے ہے۔ وہاں سیلاب آیا ہوا ہے، اس لیے وہ ایک ہفتہ پہلے ملتان آیا ہے۔ اس کا بڑا بھائی یہاں پلے دار ہے اور وہ اسی کے پاس ٹھہرا ہوا ہے۔ صبح سے میلادالنبی ﷺ کا جلوس دیکھنے گیا تھا، دیر سے واپس آیا تو بھائی نے غصے میں آ کر مارا پیٹا۔

میں نے اسے کہا کہ تم میرے گھر چلو، آرام کرو گے۔ مگر وہ بولا: ’’نہیں، میں اپنے بھائی کے پاس ہی جاؤں گا۔ غلطی میری تھی، میں بھائی سے معافی مانگ لوں گا۔‘‘ پھر میں نے اس سے بڑے بھائی کا نمبر لیا اور اسے فارمیسی پر بلا لیا۔

کچھ دیر بعد ایک نہایت جذباتی منظر دیکھنے کو ملا۔ بڑا بھائی چھوٹے کو دیکھتے ہی دھاڑیں مار کر رونے لگا اور چھوٹا بھائی بھی زار و قطار رونے لگا۔ فارمیسی کا ماحول اس وقت عجیب و غریب کیفیت میں ڈوب گیا۔ جب دونوں کے آنسو تھمے تو میں انہیں ساتھ لے کر قریب ہی ایک ریسٹورنٹ گیا اور کھانا کھلایا۔ بڑے بھائی سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ کبھی چھوٹے پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا اور چھوٹے کو نصیحت کی کہ وہ ہمیشہ بھائی کی بات مانے گا۔

بعد ازاں جب وہ دونوں محلہ گیلانیاں والے کے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں داخل ہو رہے تھے تو میرے دل میں بے پناہ خوشی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ آج اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سعادت بخشی کہ میں نے دو بھائیوں کے درمیان پیدا ہونے والی رنجش کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ یہ دراصل میرے رب کا مجھ پر ایک عظیم احسان ہے۔
دو بھائیوں کے درمیان صلح کی سبق آموز داستان/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں