کے
ماہواری میلہ: شرم کا بوجھ کب اترے گا؟/تحریر/احسن بودلہ
اسلام آباد میں حال ہی میں “دستک فاؤنڈیشن” کی جانب سے ایک ایسے میلے کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد ایک ایسے حیاتیاتی عمل پر گفتگو کرنا تھا جس سے آدھی دنیا ہر مہینے گزرتی ہے، یعنی “ماہواری” ۔ اس میلے کا نام بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے: “ماہواری میلہ”۔ یہاں نہ صرف ماہواری سے متعلق آگہی اور مضر صحت روایات کے خلاف شعور اجاگر کیا گیا بلکہ سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین تک سینٹری پیڈز کی رسائی کے لیے فنڈ ریزنگ بھی کی گئی۔ مختلف سرگرمیوں اور گیمز سے حاصل ہونے والی آمدن انہی خواتین تک سینٹری کٹس پہنچانے پر خرچ کی جا رہی ہے۔
لیکن افسوس کہ ہمارے سماج کی فکری دیواریں اب بھی اتنی بلند ہیں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے منعقد کیے گئے اس میلے کے نام تک کو برداشت نہ کیا جا سکا۔ وہی پرانی کہانی، وہی پرانی تنقید ، “یہ لفظ کیوں استعمال ہوا؟” کسی کو “ماہواری” کے لفظ پر اعتراض، کسی کو “میلہ” کے لفظ پر تکلیف۔ گویا عورت کا جسم، اس کی فطرت، اس کی صحت ، سب کچھ چھپانے کی چیزیں ہیں۔ سب کچھ ایسا جرم کہ جس پر گفتگو کا حق بھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر “ماہواری” کا لفظ زبان پر لانے سے کس کی غیرت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے؟کیا واقعی ایک قدرتی عمل کسی قوم کی تہذیب کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں رہنے والی عورتیں، مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں ، ہر ماہ اسی تجربے سے گزرتی ہیں ۔ پھر بھی ہم چاہتے ہیں کہ نہ کوئی بولے، نہ کوئی پوچھے، نہ کوئی سنبھالے، کیونکہ اس سے ہماری عظیم مشرقی اقدار خطرے میں پڑ جاتی ہیں ۔ مگر ، اس شرمندگی، اس خاموشی اور اس لاعلمی کی قیمت عورتیں اپنی صحت، اپنے جسم اور اپنی زندگی سے ادا کرتی ہیں۔
آج بھی پاکستان میں لاکھوں خواتین ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں سینٹری پیڈز کی رسائی ممکن نہیں۔ جو رسائی رکھتی ہیں وہ بھی اسے یوں خریدتی ہیں جیسے کوئی ممنوعہ دوا خرید رہی ہوں۔ عورت کے ہاتھ میں پکڑے پیڈ کے لفافے سے معاشرے کی غیرت کو خطرہ ہو جاتا ہے، لیکن اس عورت کی زندگی اور صحت سے نہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق، پاکستان کی خواتین و لڑکیاں جنہوں نے اپنی ماہواری کے آخری موقع پر مناسب ماہواری انتظامی مواد (MHM Material) استعمال کیا، وہ صرف تقریباً 25 فیصد تھیں۔ یعنی چار میں سے تین خواتین ایسے مواد استعمال نہیں کر رہیں جو ‘مناسب’ سمجھی جاتی ہے اس میں سے صرف 16.2 فیصد نے ایک تحقیق میں بتایا کہ انہوں نے سینٹری پیڈ استعمال کیے۔ اسی طرح ایک اور جائزے کے مطابق پاکستان کی دیہی علاقوں میں “مناسب ماہواری انتظام” کرنے والی خواتین کی شرح اور بھی کم تھی، اور تقریباً 48 فیصد نے لاگت کو سینٹری نپکن استعمال نہ کرنے کی وجہ بتایا۔
ایک سروے نے یہ بھی بتایا ، کہ تقریباً 44 فیصد لڑکیوں کو ان کے گھروں، اسکول یا کام کی جگہ پر “بنیادی ماہواری صحت و صفائی کی سہولتیں” دستیاب نہیں تھیں۔ اب اگر سیلاب زدہ علاقوں کی بات کریں تو نینشل لائبریری آف میڈیسن میں چھپنے والے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق پاکستان کے 2022 کے سیلاب کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی ماہواری صفائی و انتظامی صورتحال بہت متاثر ہوئی ، جس سے ان کی صحت، وقار اور فلاح و بہبود پر بھی فرق پڑا ، اسی طرح کے ایم یو جرنل میں چھپنے والے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق سیلاب زدگان کیمپوں، شیلٹرز اور عارضی رہائش گاہوں میں خواتین کو مناسب نجی باتھ رومز، صفائی کے مقام، اور مہیا شدہ ماہواری مواد (sanitary products) نہیں مل رہے تھے، جس نے انہیں “ماہواری” کے دوران خصوصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سینیٹری کٹس کی فراہمی کتنا اہم اقدام ہے ۔
اس ضمن میں جب ، مشہور گائنا کالوجسٹ اور گائنی فیمینزم لکھاری ، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ، خواتین اکثر جس مسئلے کے لیے ان کے پاس آتی ہیں، وہ “حیض” سے متعلق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، “کسی بھی ماہرِ امراضِ نسواں کے کلینک میں 80 فیصد مسائل “ماہواری” ہی کے گرد گھومتے ہیں۔” اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیاں بہت کم عمری سے “حیض” کا سامنا کرتی ہیں، جو عمر کے بڑے حصے تک جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ (میینوپاز) تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک ذاتی مشاہدے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ “اندرونِ پنجاب سے ایک کم عمر لڑکی میرے گھر آئی تھی، وہ سینیٹری نیپکن کی جگہ پتے استعمال کرتی تھی۔ “ماہواری میلہ” کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اب آہستہ آہستہ لوگوں کو ان مسائل کی سمجھ آ رہی ہے تبھی تو ایسے میلے منعقد ہو رہے ہیں ۔ ورنہ اس سے پہلے تو اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔
اب جب ،کراچی میں بھی اس “ماہواری میلے” کا انعقاد کیا جا رہا ہے تو سوشل میڈیا پر تنقید کے شور کو بڑھانے والے لکھاری بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ اسے مغربی سازش کہہ کر مشرقی روایات کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خواہش یہ ہے کہ ریاست اس کا نوٹس لے اور ایسے میلوں پر پابندی لگا دے۔ گویا خواتین کی صحت پر بات کرنا جرم ہے ۔ اور پدرشاہی اقدار کی حفاظت دین کا پہلا رکن۔ یہ تنقید دراصل اس ذہنیت کی نمائندہ ہے جو صدیوں سے عورت کے جسم پر اختیار چاہتی ہے۔ یہی پدرسری ذہنیت چاہتی ہے کہ عورت خاموش رہے۔ جسم اس کا ہو، تکلیف اس کی ہو، خون اس کا ہو، مگر گفتگو کا حق مرد کے پاس رہے۔
دوسری جانب بھارت میں اس مسئلے پر ڈاکومینٹریز اور فلمیں بن رہی ہیں، اکشے کمار کی فلم “پیڈ مین” اس کی ایک مثال ہے۔ وہاں دور دراز علاقوں میں مقامی سطح پر پیڈز بنانے کے منصوبے چل رہے ہیں جہاں خواتین نہ صرف اپنے استعمال کے لیے پیڈ تیار کرتی ہیں بلکہ بیچ کر آمدن بھی کماتی ہیں۔
جبکہ ہمارے یہاں ابھی صرف لفظ “ماہواری” ادا کرنے سے ہی معاشرے کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ لہٰذا ایسے ماحول میں “ماہواری میلہ” جیسے اقدامات محض ایک پروگرام نہیں بلکہ بغاوت کے چراغ ہیں۔ یہ میلے ان خواتین کی آواز ہیں جنہیں صدیوں سے خاموش رکھا گیا۔ یہ میلے اس تکلیف کو زبان دیتے ہیں جسے ہمیشہ پردوں کے پیچھے چھپایا گیا۔ یہ میلے اس سماج کو چیلنج کرتے ہیں جو عورت کی صحت پر گفتگو سے شرماتا ہے مگر عورت کی قربانیوں پر فخر کرتا ہے۔
ماہواری شرم کی نہیں، زندگی کی علامت ہے۔یہ صحت ہے، یہ حیاتیات ہے، یہ وجود کی تسلسل ہے۔ اور اگر ایک ایسا میلہ جو عورت کی زندگی بچانے کے عزم کے ساتھ برپا ہو رہا ہے، کسی کی روایات کے لیے خطرہ ہے ۔ تو پھر خطرہ میلے میں نہیں، روایات میں ہے۔ جس معاشرے میں آدھی آبادی کی صحت پر بات کرنا گناہ سمجھا جائے ۔وہاں شعور ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔ ہمیں ان اداروں، رضاکاروں اور کارکنوں کو سراہنا چاہیے جو ایسی فضا میں بھی عورت کے دکھ کو آواز دینے کی ہمت کر رہے ہیں۔ کیوں کہ جب تک ماہواری کے لفظ سے جڑے شرم کے بوجھ کو نہیں اتارا جائے گا، تب تک نہ عورت آزاد ہے،
نہ معاشرہ۔