Hafiz Zeeshan 0

جماعتی دورۂ جنوبی پنجاب/قسط چہارم/ملتان کے نام/تحریر/حافظ ذیشان صدیقی

گزشتہ قسط میں جامعہ احیاء العلوم ظاہر پیر کی روح پرور فضا، استاذ المفسرین حضرت مولانا منظور احمد نعمانی دامت برکاتہم العالیہ کی زیارت و عیادت، ان کے خانوادے سے ملاقات اور ان مبارک ساعتوں کا تذکرہ نذرِ قارئین کیا گیا تھا۔ انہی یادوں، دعاؤں اور نسبتوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہمارا قافلہ ظاہر پیر سے روانہ ہوا اور مدینۃ الاولیاء ملتان کی جانب عازمِ سفر ہوگیا۔

یہ سفر محض ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کا نام نہ تھا بلکہ اہلِ علم کی صحبتوں، اکابرینِ دین کی یادوں اور نسبتوں کی خوشبو سمیٹنے کا ایک دل آویز سلسلہ تھا۔ راستے بھر یہی احساس دل میں موجزن رہا کہ جنوبی پنجاب کی یہ سرزمین ہر دور میں علم، عمل، دعوت اور روحانیت کے ایسے مینار پیدا کرتی رہی ہے جن کی روشنی آج بھی تشنگانِ علم و معرفت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

ملتان پہنچنے کے بعد ہماری پہلی حاضری جامعہ خلفائے راشدین میں ہوئی جہاں چند روز قبل سلطان الواعظین، خطیبِ پاکستان حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال پر تعزیت کے لیے حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔

حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا شمار ان نابغۂ روزگار خطباء میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی دعوت، اصلاحِ امت اور اشاعتِ علم میں صرف کردی۔ ان کے خطابات میں علم کی پختگی، فکر کی گہرائی، عشقِ رسول ﷺ کی حرارت اور اکابرینِ امت کی خوشبو نمایاں محسوس ہوتی تھی۔ ان کا بیان محض الفاظ کا مجموعہ نہ ہوتا بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے اور زندگیوں کا رخ بدل دینے والی تاثیر اپنے اندر رکھتا تھا۔

حضرت کے وصال سے کچھ عرصہ قبل راقم الحروف کو سفیرِ نعت حافظ فیصل بلال حسان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی معیت میں حضرت کی عیادت کا شرف حاصل ہوا تھا۔ اگرچہ اس وقت ضعف نمایاں تھا مگر چہرۂ مبارک پر وہی نورانیت، وہی وقار اور وہی بزرگوں والی سادگی جلوہ گر تھی۔ حضرت کی گفتگو میں اخلاص، تقویٰ اور للہیت کی ایسی جھلک محسوس ہوتی تھی جو دل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ آج جب ان ملاقاتوں کو یاد کیا جاتا ہے تو دل ان مبارک لمحات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔

عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل حضرت کے وصال کی خبر نے علمی و دینی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ چنانچہ ملتان آمد پر جامعہ خلفائے راشدین میں حاضر ہو کر صاحبزادگان، متعلقین اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی سعادت حاصل ہوئی اور حضرت کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دعا کی گئی۔

اسی دوران مجاہدِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اسماعیل شجاع آبادی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا جو تعزیت کے سلسلے میں وہاں تشریف فرما تھے۔ حضرت کی شخصیت استقامت، جرأت اور تحفظِ ختمِ نبوت کی عظیم جدوجہد کی روشن علامت ہے۔ مختصر نشست کے دوران ان کی گفتگو میں دین کا درد، امت کی فکر اور مشنِ ختمِ نبوت کے لیے غیر متزلزل وابستگی نمایاں محسوس ہوئی۔

جامعہ خلفائے راشدین سے فراغت کے بعد حضرت مولانا اسماعیل شجاع آبادی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی معیت میں خطیبِ ملت حضرت مولانا قاری حنیف ملتانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی مرقد پر حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔

اس مرکز میں قدم رکھتے ہی اس عظیم داعی، صاحبِ درد خطیب اور مردِ حق کی یادیں دل و دماغ پر چھا گئیں۔ حضرت قاری حنیف ملتانی رحمہ اللہ تعالیٰ کا شمار برصغیر کے ان ممتاز خطباء میں ہوتا ہے جن کے بیان میں علم کی پختگی، عشقِ رسول ﷺ کی حرارت، اکابرین کی نسبتوں کی خوشبو اور دعوتِ دین کا درد یکجا ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی تاثیرِ کلام عطا فرمائی تھی کہ سننے والا صرف الفاظ نہیں سنتا تھا بلکہ اپنے باطن میں ایک انقلاب محسوس کرتا تھا۔

اگرچہ آپ کا وصال 1995ء میں ہو چکا، مگر آج بھی جب ان کے خطابات سنے جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی صاحبِ دل بزرگ براہِ راست دل سے مخاطب ہو۔ ان کی آواز میں ایسا سوز، ایسی گداز اور ایسی روحانی کیفیت تھی کہ سننے والا بے اختیار آخرت کی فکر، اللہ تعالیٰ کی یاد اور اہلِ اللہ کی صحبتوں کی طرف متوجہ ہو جاتا تھا۔ بے شمار لوگ آج بھی ان کے خطابات سنتے ہیں تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور دل گواہی دیتا ہے کہ یہ تاثیر محض زبان کی نہیں بلکہ اخلاص، تقویٰ اور اللہ والوں کی صحبتوں کا ثمر ہے۔

مرکز میں حاضری کے دوران حضرت کی دعوتی، اصلاحی اور علمی خدمات کا تصور کرتے ہوئے دل بار بار یہی سوچتا رہا کہ اللہ تعالیٰ بعض شخصیات کو ایسی مقبولیت عطا فرماتا ہے کہ ان کے وصال کے بعد بھی ان کی آوازیں دلوں کو زندہ کرتی اور ان کی یادیں ایمان کو تازگی بخشتی رہتی ہیں۔

اس روح پرور حاضری کے بعد ہمارا رخ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے تاریخی مرکز حضوری باغ ملتان کی جانب ہوا۔ یہ وہ مرکز ہے جس نے ہر دور میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، دفاع اور فروغ کے لیے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس مرکز کی فضا میں داخل ہوتے ہی اکابرینِ ختمِ نبوت کی عظیم جدوجہد، قربانیوں اور خدمات کی یادیں تازہ ہوگئیں۔

حضوری باغ میں شاہینِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حضرت حال ہی میں فریضۂ حج ادا کرکے واپس تشریف لائے تھے۔ چنانچہ حاضری کا ایک مقصد مبارکباد پیش کرنا بھی تھا۔ حضرت نے ہمیشہ کی طرح انتہائی محبت، شفقت اور خلوص سے نوازا۔ دیر تک دینی، علمی اور دعوتی امور پر گفتگو ہوتی رہی جبکہ شام کے کھانے کا بھی نہایت پرتکلف انتظام فرمایا گیا۔ ایسی مجالس انسان کے لیے محض ملاقاتیں نہیں بلکہ قلوب کی غذا اور روح کی تازگی کا سامان ہوتی ہیں۔

اس کے بعد ہمارا رخ جامعہ قاسم العلوم کی جانب ہوا جہاں نواسۂ مفکرِ اسلام حضرت مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ، نائب مہتمم جامعہ قاسم العلوم حضرت مولانا مفتی عامر صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات مقصود تھی۔ نمازِ عشاء جامعہ قاسم العلوم میں ادا کرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

چند روز قبل حضرت کی اہلیہ محترمہ کے وصال کی خبر موصول ہوئی تھی، اسی لیے تعزیت کا اظہار بھی مقصود تھا۔ حضرت مولانا مفتی عامر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت اپنے اکابر کی روایات کی حقیقی آئینہ دار محسوس ہوئی۔ ان کی گفتگو میں متانت، مزاج میں انکساری، طبیعت میں شفقت اور کردار میں بزرگوں کی جھلک نمایاں دکھائی دی۔ تعزیت کے ان لمحات میں بھی حضرت کا صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا انداز دل کو بہت متاثر کر گیا۔

ملتان کی علمی و روحانی فضاؤں میں ایک دن گزارنے کے بعد خیال آیا کہ اس شہر کی مشہور سوغات سے بھی لطف اندوز ہوا جائے۔ چنانچہ ملتان کے معروف ریواڑی والوں کی جانب رخ کیا گیا۔ آخر بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی ملتان آئے اور سوہن حلوے کی مٹھاس سے محروم رہ جائے۔ خوش ذائقہ سوہن حلوہ گویا اس شہر کی تہذیب، محبت اور مہمان نوازی کا نمائندہ تعارف ہے۔ اس مختصر توقف نے سفر کی تھکن کو بھی کسی حد تک کم کر دیا۔

یوں ملتان کی علمی مجالس، تعزیتی ملاقاتوں، اکابرین کی یادوں، ختمِ نبوت کے مراکز کی حاضریوں اور اہلِ علم کی صحبتوں سے دل کو منور کرنے کے بعد ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ دعاؤں، محبتوں اور یادگار لمحات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہمارا قافلہ گجرانوالہ کی جانب روانہ ہوگیا۔

راستے میں گزرتی بستیاں، بدلتے ہوئے مناظر اور پیچھے رہ جانے والے شہر اس سفر کی یادوں کو مزید گہرا کرتے رہے، یہاں تک کہ بحمد اللہ ہمارا قافلہ بخیریت گوجرانوالہ پہنچ گیا اور یوں جماعتی دورۂ جنوبی پنجاب اپنے اختتام کو پہنچا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خانپور، دین پور شریف، ظاہر پیر اور ملتان پر مشتمل یہ چار اقساط کا سفرنامہ مکمل ہوا۔ اس مختصر سے سفر میں اکابرینِ امت کی یادگاروں پر حاضری، اہلِ علم و فضل کی زیارت، بزرگانِ دین کی دعاؤں سے فیض یابی اور علم و محبت کے بے شمار لمحات نصیب ہوئے جو ہمیشہ سرمایۂ حیات رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ بھی ایسے بابرکت اسفار، اہلِ حق کی صحبتیں اور دین کی خدمت کے مواقع نصیب فرمائے، اور اس معمولی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں