خالقِ کائنات کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدۖپر آ کر ختم ہوا۔نبی پاک کی ذاتِ مقدسہ ومبارکہ فضیلت وشوکت کے اعلی ترین مقام ومرتبہ پر ہے۔ساری عزتیں ان کی عزت وتوقیر کے سائے میں رکھ دی گئی ہیں۔اللہ تعالی نے ان کے ذکر کو رفعت واشرافیت کی انتہائوں سے نوازا ہے اور حدِ ادراک سے وسیع وسعتوں سے ہم کنار کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جز ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ سروردوعالم ۖ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب میں تو مبتلا ہی ہوگا لیکن احادیث نبویہ کی روشنی میں اس دنیا میں بھی اسے سزا کا مستحق قرار دیا گیا ہے ۔
تحفظِحرمت رسول کے لئے جس طرح قرآنِ کریم کی متعدد آیات اس بات پر دال ہیں کہ توہینِ رسالتکے مرتکب کو قتل کردینا ضروری ہے، اسی طرح نبی اکرم کی شان میں بے ادبی و گستاخی کرنے،ان کا مذاق اڑانے اوران سے استہزا کرنے والا واجب القتل اوراس کا خون رائیگاں ہو جانے پر احادیثِ رسول ۖبھی دلالت کرتی ہیں ۔
نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا
حضرت ابن عباس(رضی اللہ تعالی عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ(ۖ)کے زمانہ میںایک نابینا شخص تھا، اس کی ایک (ام ولد)لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر اللہ کے رسول (ۖ)کو برا بھلا کہتی۔ نابینا اسے ڈانٹتا لیکن وہ نہ مانتی، منع کرتا تو وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے نبی کریم (ۖ)کا ذکر کرتے ہوئے برا بھلا کہا، وہ شخص کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے خنجر اٹھایا اور ا س کے پیٹ میں دھنسا دیا، وہ مرگئی۔ صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی (ۖ)سے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے (کہ وہ میری اطاعت کرے)جس نے یہ کام کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو، یہ سن کر وہ نابینا گرتا پڑتا آگے بڑھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول (ۖ)! یہ میرا کام ہے، یہ عورت میری لونڈی تھی اور مجھ پر بہت مہربان اور میری رفیق تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیرے جیسے بچے ہیں، لیکن وہ اکثر آپ (ۖ)کو برا کہتی تھی، میں منع کرتا تو نہ مانتی، جھڑکتا تو بھی نہ سنتی، آخر گزشتہ رات اس نے آپ کا تذکرہ کیا اور آپ کی گستاخی کی، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ(ۖ)نے فرمایا: سب لوگو گواہ رہو، اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔ (صحیح سنن نسائی: 3794، سنن ابو داود: 4361)
امام ابن تیمیہ نے یہ حدیث ذکر کرکے لکھا ہے کہ یہ اس عورت کے قتل میں نص ہے کیونکہ وہ نبی کریم ۖ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ اور یہ حدیث کسی ایسے مسلمان مردوزن یا ذمی کے واجب القتل ہونے کی بھی بالاولی دلیل ہے جو نبی کریم ۖکو سب و شتم کرے،کیونکہ وہ یہودی عورت اہلِ ذمہ و معاہدین میں سے تھی۔
اسی طرح امام ابن تیمیہ اس حدیث کو ذکر کرکے لکھتے ہیں کہ امام ابو دئواد، اسماعیل القاضی اور قاضی ابو یعلی و غیرہ علما ء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے نبی کو گالیاں دینے والے مسلم و کافر ہر شخص کے قتل کے جواز کی دلیل اخذ کی ہے جو کہ حضرت ابو بکر صدیق کے الفاظ سے واضح طور پر سمجھ میں آرہی ہے اور لکھا ہے کہ نبیۖ کو گالیاں دینے والے کے قتل کا حکم آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی باقی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ تاکید ہے، کیونکہ آپۖ کی ناموس و حرمت وفات کے بعد تو زندگی سے بھی بڑھ کرہے ۔
ابن ابی سرح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
سنن نسائی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے دن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان کے پاس چھپ گئے۔ عثمان اسے لے کر نبیۖ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا:
”اے اللہ کے رسول ۖ !عبد اللہ سے بیعت لے لیں۔”
نبیۖنے تین مرتبہ نگاہیں اٹھاکر اسے دیکھا اور بیعت کرنے سے انکار ظاہر فرمایا۔ اور پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس سے بیعت لے لی۔ اور اس کے چلے جانے کے بعد نبی اکرمۖ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
” تم میں سے کوئی بھی اتنا صاحبِ عقل و دانش نہ ہوا کہ جب وہ دیکھتا کہ میں نے اس شخص سے بیعت لینے سے اپنے ہاتھ کو روک لیا ہے تو وہ اٹھتا اور اسے قتل کردیتا؟”
صحابہ کرام میں سے بعض نے عرض کیا: ” اے اللہ کے رسول ۖ!ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ ۖکے دل میں کیا ہے ؟ آپ ۖ ہی نے ہمیں اشارہ کردیا ہوتا۔”
یہ بات کہنے والا کون تھا؟ اس سلسلہ میں تین نام ملتے ہیں: حضرت عباد بن بشر ، حضرت ابو الیسر ، حضرت عمر فاروق۔
اس پر نبیۖنے فرمایا :”کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ چور نگاہوں یا کنکھیوں سے دیکھے۔”
جبکہ ابو دائود و مسند احمد میں ہے:” کسی نبی کے لئے روا نہیں کہ وہ مخفی اشارے کرے۔”
سنن ابو دائود میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ ابن ابی سرح نبی اکرمۖ کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا اور شیطان کے بہکاوے میں آکر مرتد ہوگیا اور کفار سے جا ملاتھا۔امامِ سیرت ابن اسحق کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ابن ابی سرح مسلمان ہوا اور کاتبِ وحی بن گیا اور پھر مرتد ہوا اورمکہ جا نکلا اور اس نے یہ گستاخیاں شروع کردیں کہ میں جدھر اور جیسا چاہتا تھا، انہیں (نبیۖکو)پھیر لیتا، وہ مجھے کچھ لکھنے کو کہتے اور میں کہتا کہ یا ایسے ایسے لکھوں تو وہ اسی پر موافقت کردیتے۔ آپۖعلیم حلیم لکھواتے اور میں کہتا کہ عزیز حکیم لکھ لوں تو آپۖ فرمادیتے کہ دونوں طرح سے ایک ہی بات ہے اور اہلِ مکہ کو یہ تک کہہ دیا کہ اللہ کی قسم!میں چاہوں تو میں بھی ایسی باتیں کہہ سکتا ہوں جیسی محمد کہتا ہے ،میں بھی ویسی ہی وحی پیش کرسکتا ہوں جیسی وہ پیش کرتا ہے ۔یعنی یہ کہ اس پر بھی وحی نازل ہوتی ہے اور وحی میں جو کمی بیشی ہوتی ہے، اسے میں ہی پورا اور صحیح کرتا ہوں۔
عبدللہ بن خطل کی دو کنیزیں اورسزا
اہلِ سیرت و سوانح کے یہاں معروف و مشہور واقعہ ہے کہ نبی اکرم ۖنے عبد اللہ بن خطل کی دو گویا کنیزوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایاتھا جو کہ نبیۖ کی ہجو میں لکھے ہوئے ابن خطل کے شعر گایا کرتی تھیں ، ان میں سے ایک کا نام فرتنی اور دوسری کا نام قرینہ یا ارنب تھا۔ اور ان میں سے ایک کو قتل کردیا گیا جبکہ فرتنی ایمان لے آئی اور اسے امان دے دی گئی اور وہ عہدِ حضرت عثمان تک زندہ رہی۔
ان دو کنیزوں کے قتل کے حکم میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ انہیں ان کے جرمِ توہینِ رسالت ۖکی وجہ سے قتل کرنے کا حکم فرمایا گیا تھا۔
نبیۖکی شان میں گستاخی اور توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے کی سزا قتل ہونے کی ایک دلیل عبد اللہ بن خطل کا واقعہ بھی ہے جو کہ صحیح بخاری و مسلم و غیرہ کے حوالے سے ذکر ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ۖ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ ۖنے سرِ اقدس پر لوہے کا خود پہنا ہوا تھا۔ اس وقت آپۖ نے عام معافی کا اعلان فرمایا، البتہ چند لوگوں کے نام لے لے کر فرمایا:
” اِنہیں قتل کردو …چاہے تم انہیں غلافِ کعبہ سے چمٹے ہوئے ہی کیوں نہ پا ۔”
اور انہی میں سے ایک یہ ابن خطل بھی تھا۔ایک آدمی آیا اور اس نے آپۖ کی خدمت میں یہ خبر پہنچائی کہ ابن خطل غلافِ کعبہ سے چمٹا ہوا ہے۔ نبیۖنے حکم فرمایا کہ اسے وہیں قتل کردو۔
چنانچہ حضرت ابو برزہ گئے اور انہوں نے اس کا پیٹ چاک کردیا۔
گستاخ رسول ابن الزبعری اور اس کی سزا
جن لوگوں کو توہینِ رسالت کے جرم میں نبیۖنے قتل کروایا تھا، انہی میں سے ابن الزِبعری بھی ہے امامِ سیرت و مغازی ابن اسحق نے لکھا ہے کہ نبی اکرم ۖنے مکہ مکرمہ کے تمام توہین و ہجو کرنے والوں اور ناموسِ رسالت کے درپے ہوکر نبیۖکو اذیت پہنچانے والوں کو قتل کروادیا تھا۔تاہم یہ ابن الزِبعری اور ہبیرہ بن ابی وہب نجران کی طرف بھاگ نکلے تھے اور بالآخر یہ توبہ تائب ہوا اور مسلمان ہوکر لوٹا مگر نبیۖنے اس کے جرمِ توہینِ رسالت کی وجہ سے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا اور ابن ہبیرہ نجران میں حالتِ کفر و شرک میں ہی مرگیا۔
شاتم رسول کعب بن اشرف کا انجام
یہودیوں میں کعب بن اشرف بہت ہی دولت مند تھا۔ یہودی علما ء اور یہود کے مذہبی پیشوائوں کو اپنے خزانہ سے تنخواہ دیتا تھا۔ دولت کے ساتھ شاعری میں بھی بہت با کمال تھا جس کی وجہ سے نہ صرف یہودیوں بلکہ تمام قبائل عرب پر اس کا ایک خاص اثر تھا ۔اس کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ جنگ ِ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل ہو جانے سے اس کو انتہائی رنج و صدمہ ہوا۔ چنانچہ یہ قریش کی تعزیت کے لئے مکہ گیا اور کفارِ قریش کا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ایسا پردردمرثیہ لکھا کہ جس کو سن کر سامعین کے مجمع میں ماتم برپا ہو جاتا تھا۔ اس مرثیہ کو یہ شخص قریش کو سنا سنا کر خود بھی زار زار روتا تھااور سامعین کو بھی رلاتا تھا ۔مکہ میں ابو سفیان سے ملااور اس کو مسلمانوں سے جنگ ِ بدر کا بدلہ لینے پر ابھارابلکہ ابو سفیان کو لے کر حرم میں آیااور کفار مکہ کے ساتھ خود بھی کعبہ کا غلاف پکڑ کر عہد کیا کہ مسلمانوں سے بدر کا ضرور انتقام لیں گے پھر مکہ سے مدینہ لوٹ کر آیا تو حضورِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ہجو لکھ کر شان اقدس میں طرح طرح کی گستاخیاں اور بے ادبیاں کرنے لگا، اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ کو چپکے سے قتل کرا دینے کا قصد کیا۔
کعب بن اشرف یہودی کی یہ حرکتیں سراسراس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو یہود اور انصار کے درمیان ہو چکا تھاکہ مسلمانوں اور کفارِ قریش کی لڑائی میں یہودی غیر جانبدار رہیں گے۔بہت دنوں تک مسلمان برداشت کرتے رہے مگر جب بانی اسلام صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مقدس جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو حضرت محمد بن مسلمہ نے حضرت ابونائلہ و حضرت عباد بن بشر و حضرت حارث بن اوس و حضرت ابو عبس رضی اللہ تعالی عنہم کو ساتھ لیااور رات میں کعب بن اشرف کے مکان پر گئے اور ربیع الاول 3 ھ کو اس کے قلعہ کے پھاٹک پر اس کو قتل کر دیااور صبح کو بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اس کا سر تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔ اس قتل کے سلسلہ میں حضرت حارث بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ تلوار کی نوک سے زخمی ہو گئے تھے۔ محمد بن مسلمہ وغیرہ ان کو کندھوں پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے اور آپ نے اپنا لعاب دہن ان کے زخم پر لگا دیا تو اسی وقت شفا کامل حاصل ہو گئی۔)زرقانی جلد 2ص 10،بخاری ج2 ص 576،مسلم ص110)
قارئین کرام !قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ نے الشفاء میں ان واقعات کو جمع کیا ہے، جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے قتل کا حکم فرمایا، جنہوں نے شان رسالت میں کوئی گستاخی کی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دی تھی۔ شاتم ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزائے موت پر تمام امت کا اتفاق ہے ۔ دورِ نبوت کے ان مذکورہ بالا واقعات سے یہ بات بالکل بے غبار ہو کر سامنے آتی ہے کہ توہین رسالت کوئی معمولی جرم نہیں کہ جس سے چشم پوشی اختیار کی جائے، اس کی کم از کم سزا موت ہے، چنانچہ عہد نبوت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم واجب القتل ہے۔خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو(خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کے ساتھ ساتھ ان بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ۖ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے
یہ حکم (نعوذباللہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے ہرگز نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو حضرت عائشہ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت موجود ہے کہ آپۖ نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیر رسول ۖ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے۔
اس لیے توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تہذیب و شرافت سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکز و محورہیں اس لیے جو زبان آپۖ پر طعن کیلئے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپۖ کی گستاخی کے لیے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔جب فساد کی سزا قتل ہے تو پھر اس سے بڑھ کر فسادی کون ہو سکتا ہے جو نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرکے امت مسلمہ کا چین و سکون برباد کرے توہین رسالت کا جرم سب سے بڑا جرم ہے لہٰذا توہین رسالت کا مرتکب واجب القتل ہے
گستاخ نبی کی ایک سزا ۔۔۔سر تن سے جدا سر تن سے جدا
اللہ پاک ہم سب کو آقا علیہ السلام کے مراتب و درجات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
94