کچھ سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کے دل و دماغ پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر ساتھ رہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی حسین وادیٔ نیلم اور تاؤ بٹ کا ہمارا چار روزہ سفر بھی ایسا ہی ایک تجربہ تھا جس نے نہ صرف قدرت کے حسن سے روشناس کرایا بلکہ دوستی، محبت، قہقہوں اور یادوں کے ایسے رنگ بھی دکھائے جو شاید برسوں تک تازہ رہیں گے۔یہ سفر ننکانہ صاحب سے شروع ہوا، ہم چار دوست، رانا مزمل حسین، رانا بلاول حسین، ڈاکٹر رانا وارث منہاس اور رانا آصف رزاق کے ساتھ اس خاکسار رانا اسد منہاس نے بھی اس قافلے میں شمولیت اختیار کی۔ راستے میں فیصل آباد، جڑانوالہ، شیخوپورہ، لاہور اور کامونکی سے دوست شامل ہوتے گئے اور یوں چوبیس افراد پر مشتمل ایک خوش مزاج قافلہ کشمیر کی طرف روانہ ہو گیا۔ بچیانہ پریس کلب کے صدر میاں رفیق صاحب، جنرل سیکرٹری عابد حسین ملک، چوہدری اختر حسین سلہری، چوہدری فیاض صاحب، رضوان گوندل، چاچو پپو اور دیگر دوست اس سفر کے اہم کردار تھے۔رات کے سفر کے بعد صبح جب ہم کوہالہ برج عبور کرکے آزاد کشمیر میں داخل ہوئے تو محسوس ہوا کہ ہم کسی نئی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔ مظفرآباد پہنچنے کے بعد نیلم ویلی روڈ پر سفر شروع ہوا۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ تھے اور دوسری طرف دریائے نیلم اپنی پوری آب و تاب سے بہتا دکھائی دیتا تھا۔ راستے میں آنے والے سبز پہاڑ، لکڑی کے گھر اور نیلم کے شفاف پانی نے سفر کے آغاز ہی میں دل جیت لیے۔
پہلا بڑا پڑاؤ دھنی واٹر فال تھا۔ یہ آبشار واقعی قدرت کا شاہکار ہے۔ پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ چند لمحوں سے زیادہ اس کے نیچے کھڑا رہنا ممکن نہ تھا۔ لیکن ٹھنڈے پانی نے دوستوں کے جوش کو کم کرنے کے بجائے اور بڑھا دیا۔ کئی دوست کپڑوں کی پروا کیے بغیر آبشار کے نیچے جا کھڑے ہوئے اور خوب لطف اٹھایا۔ قہقہوں، تصویروں اور ویڈیوز کے درمیان دھنی واٹر فال کی یادیں ہمیشہ کے لیے دل میں محفوظ ہو گئیں۔اس کے بعد ہم لائن آف کنٹرول کے مقام پر پہنچے۔ یہاں ایک عجیب کیفیت محسوس ہوئی۔ دریائے نیلم کے ایک طرف آزاد کشمیر اور دوسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر تھا۔ دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ یہ منظر دل کو چھو لینے والا تھا۔ اس لمحے شدت سے احساس ہوا کہ عام لوگ نفرت نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔ سیاحت واقعی لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے اور شاید اسی لیے سیاحوں کو امن کے سفیر کہا جاتا ہے۔شام تک ہم کیرن ویلی پہنچ گئے جہاں دریائے نیلم کے کنارے رات گزاری۔ رات کے کھانے کے بعد دریا کنارے کھڑے ہو کر چائے پینا ایک ایسا منظر تھا جو صرف ناولوں میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ پانی کی آواز، ٹھنڈی ہوا اور سامنے پہاڑوں کا سکوت ایک ناقابلِ بیان احساس پیدا کر رہا تھا۔اگلے روز ہمارا رخ تاؤ بٹ کی طرف تھا۔ شاردہ تک سفر نسبتاً آسان تھا لیکن اس کے بعد اصل ایڈونچر شروع ہونا تھا۔ گاڑی مزید آگے جانے کے قابل نہ تھی، اس لیے جیپوں کا انتظام کیا گیا، شاردہ سے تاؤ بٹ تک کا تقریباً سات گھنٹے کا سفر اس پورے ٹور کا سب سے یادگار حصہ ثابت ہوا۔ کیل، کریم آباد اور دیگر دیہات سے گزرتے ہوئے ہمیں وادیٔ نیلم کا وہ روپ دیکھنے کو ملا جو شاید عام سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
راستے میں ایک اور منظر نے خصوصی طور پر توجہ حاصل کی۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں کام کرتی کشمیری خواتین، کوئی گھاس کاٹ رہی تھی، کوئی چارہ اٹھائے جا رہی تھی اور کوئی اپنی فصلوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھی۔ ان خواتین کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کشمیر کی خوبصورتی صرف قدرت کی دین نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی محنت کا نتیجہ بھی ہے۔ سخت پہاڑی زندگی کے باوجود ان کے چہروں پر اطمینان اور خود اعتمادی نمایاں تھی۔راستے میں کئی مرتبہ چائے اور پکوڑوں کے لیے مختصر قیام کیا گیا۔ ایک موقع پر چوہدری اختر حسین سلہری صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جتنے مرضی پکوڑے کھا لو، جی نہیں بھرتا۔ اس پر ٹور گائیڈ نے جواب دیا کہ یہاں خالص بیسن استعمال ہوتا ہے، اسی لیے پکوڑوں کا ذائقہ الگ ہے۔ یہ بات سن کر محفل خوب محظوظ ہوئی۔شام ڈھلتے ہی ہم تاؤ بٹ پہنچ گئے۔ یہ مقام واقعی جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز میدان اور نیلم کا شفاف پانی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس سے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔ رات کے وقت بون فائر کا اہتمام کیا گیا۔ درمیان میں لکڑیوں کی آگ روشن تھی جبکہ اردگرد دوست بیٹھے تھے۔ ہلکی موسیقی، چائے کی چسکیاں، شاعری، جگتیں اور مختلف علاقوں سے آئے سیاحوں کے رقص نے ماحول کو یادگار بنا دیا۔ بلوچستان سے آئے ہوئے سیاحوں کے روایتی رقص نے محفل کو چار چاند لگا دیے جبکہ ہم نے بھی پنجابی بھنگڑا ڈالنے کی کوشش کی۔
اگلی صبح ہم تاؤ بٹ بالا کی طرف روانہ ہوئے جو آزاد کشمیر کا آخری گاؤں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں دریائے نیلم زمین کے قریب بہتا دکھائی دیتا ہے اور اس کا پانی اس قدر ٹھنڈا ہے کہ چند سیکنڈ میں پاؤں سن ہو جاتے ہیں۔ کئی دوستوں نے نہانے کا ارادہ کیا لیکن پانی کی شدت نے یہ ارادہ فوری طور پر ختم کر دیا۔تاؤ بٹ بالا میں بلوچستان سے آئے ہوئے سیاحوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کے خیمے اور روایتی ماحول دیکھنے کے قابل تھے۔ کچھ دوستوں نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور معلومات کا تبادلہ کیا۔ اسی مقام پر دریائے نیلم کے کنارے ایک وسیع سرسبز میدان میں کرکٹ بھی کھیلی گئی۔ شاید زندگی میں پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ دنیا کا خوبصورت ترین کرکٹ گراؤنڈ ہمارے سامنے موجود ہے۔ ایک طرف بہتا ہوا دریا، دوسری طرف فلک بوس پہاڑ اور درمیان میں دوستوں کے قہقہوں سے میدان گونج اٹھا
واپسی سے قبل میاں رفیق صاحب نے دعا کروائی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کی کہ جس طرح ہم خیریت سے یہاں پہنچے ہیں اسی طرح بخیریت اپنے گھروں تک واپس پہنچ جائیں۔ اس موقع پر رانا بلاول حسین نے ایک جملہ کہا جو پورے سفر کی پہچان بن گیا۔ انہوں نے کہا، “لوگ کہتے ہیں جنّیں لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں، لیکن کشمیر دیکھنے کے بعد میں کہتا ہوں جنّیں کشمیر نئیں ویکھیا او جمیا نئیں۔” واپسی کے سفر میں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ کیرن کے ہوٹل میں ہمارے چند دوستوں کا سامان رہ گیا تھا۔ جب سامان لینے پہنچے تو ہوٹل مالک اور گائیڈ کے درمیان ادائیگیوں کا تنازع کھڑا ہو گیا۔ بحث و مباحثے کے دوران چاچو پپو نے پاور بینک کو مسلسل “پاور پلانٹ” کہنا شروع کر دیا۔ ان کی اس معصوم غلطی نے ایسا رنگ جمایا کہ پورا قافلہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا۔ بعد ازاں یہی “پاور پلانٹ” پورے ٹور کا سب سے مشہور جملہ بن گیا۔مظفرآباد سے واپسی کے دوران مری کی فضاؤں میں داخل ہوئے تو بارش نے استقبال کیا۔ بادلوں میں لپٹے پہاڑ، ٹھنڈی ہوا اور بارش کے قطرے اس سفر کا حسین اختتام معلوم ہو رہے تھے۔ شیخوپورہ پہنچ کر مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کو الوداع کہا گیا اور آخرکار رات اڑھائی بجے ہم ننکانہ صاحب پہنچ گئے۔چار دن کا یہ سفر ختم ہو گیا، لیکن اس کی یادیں شاید کبھی ختم نہ ہوں۔ دریائے نیلم کی آواز، تاؤ بٹ کی خاموشی، بالا بٹ کے میدان، کشمیریوں کی محنت، دوستوں کے قہقہے، بون فائر کی رات اور “پاور پلانٹ” کا قصہ آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔بلاشبہ کشمیر صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک ایسا احساس ہے جو ایک بار دل میں اتر جائے تو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ شاید اسی لیے ہم سب آج بھی ایک ہی بات کہتے ہیں:
“جنّیں کشمیر نئیں ویکھیا، او جمیا نئیں۔”
کشمیر