Mufti Taqi Usmani 0

شور اور شُوریٰ/تحریر/محمد زبیر

ملتوں کی تاریخ اگر کسی ایک مستقل کشمکش کا عنوان ہے تو وہ شور اور شُوریٰ کی کشمکش ہے۔ ایک طرف شور ہے، جو جذبات کو بھڑکاتا، فضا کو گرماتا اور لمحوں کے ہنگامے کو حقیقت کا نام دینے کی کوشش کرتا ہے؛ دوسری طرف شُوریٰ ہے، جو سکونِ فکر، پختگیِ نظر اور اجتماعی بصیرت کے ساتھ ایسے فیصلے صادر کرتی ہے جو سفینۂ ملت کو طلاطم خیز موجوں اور ہلاکت آفریں منجدھار سے بسلامت ساحل تک لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔
شور کا سرمایہ محض جذبات ہوتے ہیں،جبکہ شُوریٰ کا سرمایہ بصیرت۔ شور کی صدائے رعد آسا صرف کانوں کے پردے پھاڑتی ہے،جبکہ شوریٰ عقل و ضمیر کو مطمئن کرتی ہے۔شور کا شعلہ تیز ضرور بھڑکتا ہے، مگر جلد راکھ ہو جاتا ہے ،جبکہ شوریٰ کا چراغ آہستہ آہستہ روشن ہوتا ہے، مگر اس کی روشنی نسلوں کی راہ منور کر جاتی ہے۔
اسلام نے امت کو ہجوم کی نفسیات نہیں سکھائی، بلکہ اجتماعیت کا شعور عطا کیا ہے۔ اسی لیے قرآنِ حکیم نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے عبادت، انفاق اور تقویٰ کے ساتھ جس وصف کو نمایاں فرمایا، وہ یہی تھا: ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾۔ گویا اسلامی معاشرے میں شوریٰ کوئی انتظامی ضابطہ نہیں، بلکہ ایک دینی اصول، ایک شرعی قدر اور ایک اخلاقی امانت ہے۔ اسی بنیاد پر اجتماعی فیصلوں کی حرمت قائم ہوتی ہے، اور اسی سے اداروں کی ساکھ اور ملت کی وحدت محفوظ رہتی ہے۔
تاریخ کا ایک اٹل قانون یہ بھی ہے کہ جب کسی ادارے کو استحکام نصیب ہوتا ہے، جب کسی قافلے کو سمت ملتی ہے، جب کسی قیادت پر اہلِ نظر کا اعتماد بار بار تازہ ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ اعتراضات کی صدائیں بھی بلند ہونے لگتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں؛ رسمِ دنیا بھی ہے اور دستور بھی ہے کہ ہمیشہ سے سنگ شجرِ بارآور ہی کی طرف اچھالا گیا ہے۔
لیکن اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ پتھر درخت کی بےثمری کی دلیل نہیں ہوتے، بلکہ اس کے بارآور ہونے کا اعلان ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر اعتراض کسی کمزوری کا پتہ نہیں دیتا؛ بعض اوقات وہ اس اثر و رسوخ کا اعتراف بھی ہوتا ہے جو کسی شخصیت یا ادارے نے اپنی خدمت، استقامت اور کردار سے حاصل کیا ہو۔
البتہ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر اختلاف کو حسد کا نام نہ دیا جائے، اور ہر اعتراض کو تحقیق سمجھ لینے کی سادہ لوحی بھی نہ کی جائے۔اہلِ نظر ہمیشہ دلیل کو دیکھتے ہیں، شور کو نہیں۔ اختلاف اگر دلیل کی بنیاد پر ہو تو علم کی خدمت بن جاتا ہے، اور اگر دلیل سے بےنیاز ہو جائے تو محض شور رہ جاتا ہے، جس کی گونج وقتی ہوتی ہے اور اثر عارضی۔
ادارے افراد کے گرد نہیں گھومتے، بلکہ اصولوں کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ کسی ادارے کی اصل قوت اس کی عمارتوں، وسائل یا دفاتر میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو اس کے نظامِ شوریٰ پر قائم ہو۔ اسی لیے اہلِ علم یہ نہیں پوچھتے کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوا؛ وہ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ فیصلہ کس نے کیا، کس طریقے سے کیا، اور کن بنیادوں پر کیا۔ اگر فیصلہ اہلِ حل و عقد کی اجتماعی مشاورت سے صادر ہوا ہو تو اس کا احترام کسی فرد کا احترام نہیں، بلکہ ایک اصول، ایک روایت اور ایک دینی امانت کا احترام ہے۔
ان معروضات کو پیشِ نظر رکھیے، پھر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ شوریٰ، مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کے حالیہ فیصلے کا مطالعہ کیجیے۔
مجلسِ عمومی نے مسلسل ساتویں مرتبہ حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کو ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا۔ اہلِ مدارس نے اس فیصلے کو کسی شخصیت کی فتح نہیں سمجھا، بلکہ ایک آزمودہ انتظامی قیادت پر اعتماد کی تجدید، ادارہ جاتی تسلسل کی توثیق اور شورائی نظام کی کامیابی کا مظہر قرار دیا۔ لیکن اس فیصلے کے بعد بعض حلقوں سے ایسے اعتراضات سامنے آئے جن سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ گویا انتخاب محلِّ نظر ہے۔
یہاں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اعتراض آخر ہے کس پر؟
اگر اعتراض کسی فرد پر ہے تو اس کا جواب اس کی خدمات، کردار اور کارکردگی کی روشنی میں دیا جا سکتا ہے؛ لیکن اگر اعتراض اس انتخاب پر ہے تو پھر اس کا رخ لازماً اس مجلسِ عمومی کی طرف مڑتا ہے جس میں ملک بھر کے ہزاروں علماء کی نمائندگی موجود ہے، اور جس نے یہ فیصلہ اجتماعی مشاورت سے صادر کیا۔ کیونکہ یہ انتخاب نہ کسی فردِ واحد کی خواہش کا نتیجہ تھا، نہ کسی محدود حلقے کی پسند کا؛ بلکہ ان اکابرِ ملت کے غور و خوض کا حاصل تھا جن کی زندگیاں علم، تقویٰ، دیانت اور خدمتِ دین کی روشن مثال ہیں۔
اس لیے اس فیصلے پر گفتگو کا آغاز شخصیات سے نہیں، بلکہ اس شورائی نظام سے ہونا چاہیے جس کی نمائندگی مجلسِ شوریٰ، مجلسِ عاملہ اور مجلسِ عمومی کرتی ہیں۔ کیونکہ اصل بحث کسی ایک شخص کی نہیں، بلکہ اس اعتماد کی ہے جو اہلِ شوریٰ نے اپنے اجتماعی فیصلے کے ذریعے ظاہر کیا ہے۔
اسی زاویۂ نظر سے اب ان اعتراضات کا جائزہ لیجیے، اور پھر خود فیصلہ کیجیے کہ وزن دلیل کے پلڑے میں زیادہ ہے یا شور کی گونج میں؟
اعتراض کرنے والوں کی سب سے زیادہ دہرائی جانے والی بات یہ ہے کہ:
“آخر مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے ایسا کیا کیا ہے کہ انہیں مسلسل سات مرتبہ ناظمِ اعلیٰ منتخب کیا جا رہا ہے؟”
بادی النظر میں یہ ایک سوال ہے، مگر ذرا گہرائی میں جائیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے باطن میں ایک اور سوال پوشیدہ ہے، اور وہ یہ کہ: کیا ملک کے ممتاز اکابرِ علم، مختلف صوبوں کے نمائندگان، ہزاروں علماء کی نمائندہ مجلسِ عمومی، مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ عاملہ سات مرتبہ ایک ایسے شخص پر اعتماد کرتی رہیں جس کے پاس اس اعتماد کے اسباب ہی موجود نہ تھے؟
اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اعتراض سے پہلے اس اعتماد کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کی جائے؛ کیونکہ اعتماد محض نعروں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ طویل خدمت، ثابت قدمی اور مسلسل کارکردگی سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ سوال دراصل کسی ایک فرد کے متعلق نہیں، بلکہ پورے شورائی نظام سے متعلق ہے۔
اگر ایک مرتبہ انتخاب ہوتا تو اسے اتفاق کہا جا سکتا تھا، دوسری مرتبہ ہوتا تو روایت کا نام دیا جا سکتا تھا، لیکن جب بدلتے ہوئے حالات، مختلف ادوار، مختلف مزاج رکھنے والے اکابر، نئی تشکیل پانے والی مجلسِ عاملہ اور ہزاروں علماء پر مشتمل مجلسِ عمومی بار بار ایک ہی نتیجے پر پہنچیں، تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا؛ یہ اعتماد کی ایک مسلسل تاریخ بن جاتا ہے۔
یہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں میں محض ایک امتحانی بورڈ نہیں رہا، بلکہ ایک ہمہ گیر تعلیمی، تنظیمی اور انتظامی ادارہ بن چکا ہے۔ ہزاروں مدارس، لاکھوں طلبہ، وسیع امتحانی نظام، اسناد کی نگرانی، نصابی و انتظامی ہم آہنگی، مختلف قومی مواقع پر دینی مدارس کی نمائندگی اور بےشمار تنظیمی ذمہ داریاں—یہ سب کسی ایک دن کی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ ان کے لیے مسلسل محنت، تجربہ، برداشت، نظم و ضبط اور ادارے کے مزاج سے گہری واقفیت درکار ہوتی ہے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ تمام خدمات کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں ہوتیں۔ ادارے ہمیشہ اجتماعی کوششوں سے آگے بڑھتے ہیں، اور وفاق المدارس کی ترقی بھی اس کے اکابر، مجلسِ شوریٰ، مجلسِ عاملہ، کارکنان اور وابستگان کی مشترکہ محنت کا ثمر ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ کہنا بھی انصاف کے خلاف ہوگا کہ اس پورے انتظامی سفر میں ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داری، قیادت اور مسلسل شبانہ روز محنت کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔
حالیہ انتخاب میں تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس پر مطلع ہونے کے بعد بھی اگر اس انتخابِ لاجواب پر کوئی سوال اٹھاتا ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ لغت میں اس کے لیے حسد اور بغض کے علاوہ کوئی اور لفظ موجود ہے ؟
مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے، اپنے زہد،منکسر المزاجی اور بےنفسی کے مطابق، یہ اظہار فرمایا کہ اگر مجلس مناسب سمجھے تو انہیں منصبِ صدارت سے سبک دوش کر دیا جائے، بلکہ صدارت کی ذمہ داری مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کے سپرد کر دی جائے۔
یہ سن کر مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے بھی اسی بےنفسی کے ساتھ عرض کیا کہ اگر مجلس کسی نئے شخص کو ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داری دینا چاہتی ہے تو وہ بخوشی اس فیصلے کو قبول کریں گے۔
پھر فیصلہ کس نے کیا؟
نہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے۔
نہ مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے۔
فیصلے کی تجویز مجلسِ عاملہ دی اور اس کی توثیق مجلس عمومی نے کی۔
اور اسی موقع پر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے وہ بات کہی جو اس سارے قضیے کا حاصل ہے۔ انہوں نے فرمایا:
“صدر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ہی رہیں گے، ناظم مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب ہی رہیں گے، اور اس پر ہمارا اجماع ہے۔”
یہ دراصل کسی فرد کی فتح یا شکست کا معاملہ نہیں تھا؛ یہ شور اور شوریٰ کا فرق تھا۔
اب اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص یہ کہے کہ “ہمیں فلاں شخصیت پسند نہیں”، تو یہ اس کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے؛ لیکن جب اسی بنیاد پر ایک اجتماعی فیصلے کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر اعتراض کسی فرد پر نہیں رہتا، بلکہ اس پورے شورائی نظام پر جا پڑتا ہے جسے اکابرِ ملت نے قائم کیا اور اپنی اجتماعی بصیرت سے مضبوط بنایا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے میں سب سے بلند آوازیں انہی حلقوں سے سنائی دیں جن کا نہ وفاق کے انتظامی معاملات سے براہِ راست تعلق ہے، نہ مجلسِ عاملہ میں کوئی ذمہ داری، نہ مجلسِ عمومی میں کوئی کردار، بلکہ بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی راہ الگ اختیار کر لی ہے۔ اختلاف ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کا وقار اسی وقت باقی رہتا ہے جب وہ درست معلومات، دیانت اور انصاف پر قائم ہو۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ “کون منتخب ہوا؟” بلکہ یہ ہے کہ “انتخاب کن لوگوں نے کیا، کس طریقے سے کیا، اور کن بنیادوں پر کیا؟”
اگر اس سوال کا جواب اطمینان بخش ہے تو علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ اس فیصلے کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اختلاف باقی رہے تو بھی تہذیب کے دائرے میں رہے، اور اگر دلیل موجود نہ ہو تو کم از کم خاموشی اختیار کی جائے؛ کیونکہ شور وقتی طور پر فضا کو بھر سکتا ہے، مگر تاریخ کے حافظے میں جگہ شوریٰ کے فیصلوں کو ملتی ہے، شور کی آوازوں کو نہیں۔
شور گزر جاتا ہے، شوریٰ باقی رہتی ہے
تاریخ کا فیصلہ اکثر وہ نہیں ہوتا جو ہجوم کی آوازیں سناتی ہیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جس پر اہلِ بصیرت کی شوریٰ مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔
آج کا شور، کل کی خاموشی میں گم ہو جائے گا؛ لیکن شوریٰ کے فیصلے آنے والی نسلوں کے لیے روایت، نظیر اور رہنمائی بن کر باقی رہیں گے۔
شور لمحوں کا ہنگامہ ہے، شوریٰ صدیوں کی روایت۔
شور کی آواز کانوں میں گونجتی ہے، شوریٰ کا فیصلہ تاریخ کے حافظے میں محفوظ رہتا ہے۔

دینی مدارس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں