
عصرِ حاضر میں مدارس کا کردار: مسائل، امکانات اور لائحہ عمل
تحریر: مولانا محمد عثمان انیس درخواستی
مدارسِ دینیہ امتِ مسلمہ کی علمی، روحانی اور تہذیبی زندگی کے وہ مینار ہیں، جنہوں نے صدیوں کے طوفانوں میں اسلام کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ یہ محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایسے روحانی قلعے ہیں، جہاں قرآن و سنت کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: “فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ” (التوبۃ: 122)
یعنی ہر جماعت میں سے ایک گروہ کا دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے نکلنا ضروری ہے، تاکہ وہ واپس جا کر اپنی قوم کو خبردار کرے۔
یہ آیت مدارس کے بنیادی مقصد کو واضح کرتی ہے: علمِ دین کا تحفظ، اس کی تبلیغ اور امت کی دینی رہنمائی۔
جب 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر میں اسلامی عدلیہ کا خاتمہ ہوا، قاضیوں کے ادارے بند ہوئے، اور شریعت کی عملداری ختم کر دی گئی، تو دین کے چراغ کو جلائے رکھنے کی ذمہ داری انہی مدارس نے سنبھالی۔ دارالعلوم دیوبند (1866ء) کا قیام اس عزم کا اعلان تھا کہ دین کا علم، خواہ حکومت کی سرپرستی نہ ہو، عوامی تعاون سے زندہ رکھا جائے گا۔ ندوۃ العلماء (1894ء) نے روایتی و جدید علوم کے امتزاج کا عملی ماڈل پیش کیا۔
ہزاروں چھوٹے بڑے مدارس نے نہ صرف علمِ دین کو محفوظ رکھا بلکہ آزادی کی تحریکوں میں بھی کردار ادا کیا۔
شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ کا قول آج بھی مشعلِ راہ ہے:
“مدارس اسلام کی حیات ہیں، اگر یہ باقی رہے تو اسلام باقی ہے۔”
عصرِ حاضر میں مدارس کو درپیش مسائل
1.مالی مشکلات زیادہ تر مدارس کا انحصار عوامی عطیات پر ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اساتذہ کی تنخواہوں، طلبہ کے قیام و طعام اور عمارتوں کی تعمیر و مرمت کو مشکل بنا دیا ہے۔ بعض دیہی مدارس تو بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
2.منفی پروپیگنڈہ عالمی میڈیا اور بعض سیاسی حلقے مدارس کو شدت پسندی سے جوڑ کر ان کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ اس پروپیگنڈے نے عام لوگوں کے ذہنوں میں شکوک پیدا کر دیے ہیں، جس سے چندہ دینے کی شرح پر بھی اثر پڑا ہے۔3.نصاب میں محدودیت کئی مدارس کا نصاب عصری علوم سے کٹاہوا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات اور زبان دانی جیسے مضامین کی کمی سے فارغ التحصیل طلبہ جدید چیلنجز کا سامنا کرنے میں بعض اوقات پیچھے رہ جاتے ہیں۔ 4.قانونی و انتظامی رکاوٹیں رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس کے مسائل، اور حکومتی نگرانی کے پیچیدہ قوانین انتظامی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ 5.باہمی ربط کی کمی وفاق المدارس کے پلیٹ فارم موجود ہونے کے باوجود ایک جامع اور متحدہ حکمتِ عملی پر عمل درآمد محدود ہے، جس سے اجتماعی قوت کمزور رہتی ہے۔
مدارس کے امکانات اور روشن پہلو 1.دینی و اخلاقی قیادت
مدارس اب بھی شہروں اور دیہات میں دینی رہنمائی، فتاویٰ نویسی اور اخلاقی تربیت کے سب سے بڑے مراکز ہیں۔ 2.ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال آن لائن کورسز، یوٹیوب چینلز، اور ایپلی کیشنز کے ذریعے قرآن و حدیث کی تعلیم دنیا بھر میں پھیلائی جا سکتی ہے۔
3.معاشرتی خدمت یتیم بچوں کی کفالت، غرباء کی امداد اور فلاحی منصوبوں میں شمولیت مدارس کی ساکھ کو مزید بہتر بنا سکتی ہے۔
4.بین الاقوامی روابط مسلم دنیا کے تحقیقی اداروں سے تعلقات بڑھا کر نصاب میں بہتری، اساتذہ کی تربیت اور علمی تبادلہ ممکن ہے۔
5.جدید مہارتوں کی شمولیت
کمپیوٹر، میڈیا اسکلز، تحقیق کے فنون اور زبانوں کی تعلیم مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کو عالمی سطح پر مؤثر بنا سکتی ہے۔
لائحہ عمل 1.نصاب میں توازن
درسِ نظامی کے ساتھ عصری علوم اور مہارتیں شامل کی جائیں تاکہ طلبہ ہر میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔2.میڈیا سیل کا قیام مدارس اپنی خدمات کو اجاگر کرنے اور پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے مضبوط میڈیا ٹیم تشکیل دیں۔ 3.تحقیقی مراکز جدید فکری اور سماجی مسائل پر رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ماہرین پر مشتمل ریسرچ سینٹرز قائم کیے جائیں۔4.مالی خود کفالت وقف املاک، اشاعتی ادارے اور کاروباری منصوبے مدارس کی مالی خود مختاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔5.بین الاقوامی تعاون مسلم ممالک کے علمی و تحقیقی اداروں سے روابط بڑھائے جائیں۔ 6 اساتذہ و طلبہ کی تربیت جدید تدریسی طریقے، خطابت، اور تحقیقی مہارتوں کے کورسز لازمی کیے جائیں۔
مدارس صرف ماضی کے سنہری ورثے کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کی اُمید ہیں۔ اگر ہم انہیں صرف مسائل کے آئینے میں دیکھنے کے بجائے امکانات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ ادارے نہ صرف دین کی حفاظت کریں گے بلکہ دنیا کو امن، عدل اور انصاف کا پیغام بھی پہنچائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مدارس کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں تاکہ آنے والی نسلیں ایمان و عمل کی دولت سے محروم نہ ہوں، اور یہ قلعے تا قیامت اسلام کی حفاظت کرتے رہیں۔
تحریکِ آزادی ایک ناقابلِ فراموش داستان/تحریر/ مولانا محمد عثمان انیس درخواستی