0

دارالتصنیف اورکلیہ علوم الحدیث کاوزٹ / تحریر / مولانا محمد جہان یعقوب

دارالتصنیف اورکلیہ علوم الحدیث کاوزٹ
مولانا محمد جہان یعقوب

مولاناانورغازی صاحب نے ظہرکے بعدہی اپنی آمدکی اطلاع دے دی تھی۔عصرسے کچھ دیرپہلے ان کی کال آگئی کہ ہم جامعہ کے مین گیٹ پرپہنچ چکے ہیں۔ہم نے اپنے ساتھی اُنھیں لینے کے لیے بھیجے،مگروہ دونوں گیٹوں پرنہ ملے۔عصرکی نمازکے بعدجامعہ کی مسجدمیں ملاقات ہوئی۔پہلے جن طلبہ سے ملاقات ایجنڈے میں سرِفہرست تھی،ان کے کمروں میں گئے،طلبہ نے عمان کاقہوہ پلایا،ان کے لیے لائی ہوئی چیزیں انھیں پیش کی گئیں،پھرشعبۃ الوافدین کاوِزِٹ ہوا۔طلبہ کے اسٹال،گرینری،دارالحدیث،دیگردرس گاہیں دیکھیں،طلبہ کے تاثرات جانے،اُن کاکہناتھاکہ وہ یہاں بہت خوش اور مطمئن ہیں،اُنھیں ہرقسم کی سہولیات مہیاہیں اور گھرجیساماحول فراہم کیاجاتاہے،جامعہ کی انتظامیہ کے علاوہ رئیس ونائب رئیس بھی اُن کے معاملات میں خصوصی دل چسپی لیتے ہیں۔

اس کے بعددارالتصنیف اورریسرچ سینٹرکاوزٹ تھا،راستے میں کلیہ علوم الحدیث کے مسئول مولاناحامدعباسی سے ملاقات ہوئی،وہ کلیہ میں چلنے کے لیے اصرارکررہے تھے،طے یہ ہواکہ پہلے دارالتصنیف چلیں گے،جہاں ریسرچ سینٹرمیں مولانامحمدداؤدآزاداورمولانامحمدعمران مینگل منتظرہیں۔اِن حضرات سے ملاقات ہوئی۔

مولانامحمدداؤدآزاداوراُن کی تالیف ندائے قرآن(حصہ اول)کاتعارف کرایا۔سہ ماہی مجلہ التجدید کے بارے میں بتایاکہ یہ جامعہ کاسہ ماہی مجلہ ہے جوایچ ای سی اسٹینڈرڈکے مطابق شائع ہوتاہے۔بعدازاں ندائے قرآن اورسہ ماہی مجلہ التجدیدکے دوشمارے پیش کیے گئے،اس کے بعدکلیہ علوم الحدیث کی طرف چلے۔

کلیہ علوم الحدیث انٹرنیشنل دارالافتا کی عمارت میں قائم ہے۔اس کی تین کلاسیں ہیں۔ایک ابتدائی فضلاکے لیے،تاکہ اُنھیں کچھ شدبد ہوجائے۔اس کے بعدسال اول ہے،جبکہ سال دوم میں مقالہ لکھوایاجاتاہے۔پڑھانے والے اساتذہ میں اکثرپی ایچ ڈی ہولڈرہیں،طلبہ کے مقالوں کی اصلاح کے لیے مستقل دواساتذہ متعین ہیں،اِن کی اصلاح کے بعدمقالہ ملاحظے کے لیے نگران کے پاس جاتاہے۔

ایک طالب علم کازیرِتالیف مقالہ دیکھ کرمولاناانورغازی نے بہت مسرت کااظہارکیااوراپنے صاحبزادےکوکہاکہ یہ بہت بڑا علمی سرمایہ ہے،اس کی تصویرضرورلو۔مولاناحامد عباسی نے شعبے کےآپریشنل امورپر،جبکہ مولاناداؤدآزاد نے انوائرمنٹ پربریف کیا۔بوتل اور بسکٹ کادورچل ہی رہاتھاکہ اذانِ مغرب ہوگئی اور نمازِمغرب کے بعدمولانااگلی منزل کی طرف رخصت ہوئے۔اللہ ان محبتوں کوسلامت رکھے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں