
عنوان: “شہ رگ کے بغیر آخر زندہ کیسے ہیں ہم؟”
بقلم: بنت عائشہؓ
امی!….امی۔۔۔کل میری چھٹی ہے کل سکول نہیں جانا پڑے گا۔ اور پھر پانچ فروری کا سورج طلوع ہوا۔ ریموٹ پکڑا اور نیوز چینلز بدلنے شروع کیے تو ایک ہی خبر میڈیا کی زینت تھی “یوم یکجہتی کشمیر” بھرپور جوش و خروش اور ملی جذبے کیساتھ منایا جا رہا ہے۔
چھین لے آنکھیں مجھ سے خواب تو کیسے چھینے گا
انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا
میری جنت میرے گھر سے نکل جا
سارا دن یہ الفاظ دہرا کر ہم نے اپنا پورا حق شامل کیا اور ہاں وہ یادگار ایک منٹ کی خاموشی کیسے بھولی جا سکتی ہے۔۔۔بچپن گزرا، لڑکپن سے جوانی کی دہلیز تک دل و دماغ میں یہ پیوست ہو گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
ہفتے، مہینے اور پھر سال گزرتے چلے گئے۔مزاحیہ مزاج کی شوخیاں عروج پر تھیں جنھیں بعد میں امت کے درد نے گھیر لیا۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد سوشل میڈیا اپنے عروج پر تھا۔ ایک اور بار پانچ فروری کا سورج طلوع ہوا۔ موبائل کی سکرین چمک رہی تھی اور میسجز کی بھرمار تھی
“کشمیر بنے گا پاکستان”
“ہم لے کر رہیں گے آزادی”
“کشمیر ہماری شہ رگ”
اسی اثنا میں موبائل پکڑا اور لکھ ڈالا…!
شہ رگ کے بغیر آخر زندہ کیسے ہیں ہم؟
لائکس اور بس لائکس۔۔۔مگر اسے لائکس تو نہیں چاہیے تھے۔۔۔کیا کوئی تھا جو اس سوال کا جواب دے سکے؟
آخر کیوں اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی کشمیر آزاد نہ ہوا، 78 سال تھوڑے تو نہیں ہوتے؟
یہ کیسی یکجہتی ہے جو ایک منٹ کی خاموشی سے منائی جاتی ہے؟ آخر کیوں نہیں آزاد ہوا اب تک آخر کیوں؟
کیا پانچ فروری گزر جانے کے بعد بھی کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہوتا ہے؟
کیا فلک شگاف نعرے کشمیریوں کو آزادی دلا دیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے کیا کسی کو اس کی خبر ہے؟
پہلگام فالس فلیگ کے بعد کشمیریوں کے گھر بم سے اڑا دیے جاتے ہیں،وادی کی ہر صبح گولی کی آوازوں سے گونج رہی ہوتی ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، دن دیہاڑے اور رات کی تاریکیوں میں قابض افواج گھروں پر چھاپے مار کر کشمیری نوجوانوں کو جبری گرفتار کر لیتی ہے، گاڑیوں کے نیچے کچل ڈالتی ہے، تب یہ ساری انسانیت کی تنظیمیں کہاں چلی جاتی ہیں؟ کرفیو، مواصلاتی نظام میں مشکلات اور رابطے ختم ہو جانے پر، گولیوں کی گھن گرج میں کشمیری بچوں کی ذہنی نشوونما کے فکر کرنے والے عالمی مسیحا کہاں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں؟ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو دہلی کی جیلوں میں قید رکھا جاتا ہے اور اسیرِ قفس کی تیرہ سالہ معصوم بچی عالمی برادری سے اپنے باپ کی آزادی کا مطالبہ کر رہی ہوتی ہے تب انسانیت کونسے سمندر میں ڈوب کر مر چکی ہوتی ہے؟ بدترین تشدد کے بعد جوتوں کا ہار گلے میں ڈال کر کشمیری جوان کو ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے تب انسانی حقوق کے دعویدار کیا انسانیت کی قبر پہ فاتحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں؟ کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی زمینیں، جائیداد، گھروں پر زبردستی قبضہ کیا جا رہا ہے مگر دنیا بھر کے منصف کیا بک چکے ہیں؟ کیا اقوام متحدہ کی قراردادیں قبر میں دفن ہو چکی ہیں؟
مذہبی اور حریت کی کتابوں پر پابندی لگا کر حقیقت کو اندھے کنویں میں پھینک کر نئی نسل کے اذہان کو دشمن اپنی جھوٹ اور فسطائیت پر مبنی فلموں کے ذریعے آزادی ٔکشمیر کا نظریہ کمزور کرنے اور جوانوں کو کنفیوز کرنے پر تُلا ہوا ہے لیکن کیا کوئی پراثر گرج دار آواز نہیں ہے جو اس کا مقابلہ کر سکے؟جب مقبوضہ وادی میں ڈھائی سو سکولوں پر پابندی لگائی گئی تھی تو کہاں چلے گئے تھے تعلیم نسواں کا پرچار کرنے والے؟
کہاں ہے بیس کیمپ؟ کب تک ایوان، میدان کا سودا کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک میزوں پر شہداء کے لہو سے خیانت کی جاتی رہے گی؟
پھر یوں ہوا کہ آزادیٔ کشمیر کو صرف پانچ فروری کو رسمی طور پر منایا جانے لگا۔ کشمیر ہماری شہ رگ کے نعرے بلند ہوئے۔۔۔بہنوں کی عصمت دری کی قیمت یہاں ایک منٹ کی خاموشی سے ادا کی جانے لگی، کشمیری خون دیتے رہے اور میری قوم فون میں لائکس دیتی رہ گئی اورسوال آج بھی وہیں رہ گیا:
آہ! شہ رگ کے بغیر آخر زندہ کیسے ہیں ہم؟