Nawaz Kamal 0

گلہ تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو/تحریر/نواز کمال

تہران اس وقت چشم ہائے عالم کے حصار میں ہے. جنابِ خامنہ ای کی تدفین سے قبل کی الوداعی سرگرمیاں جاری ہیں. دنیا سے گزرے ایک سو پچیس دن ہوچکے، اب جسدِ خاکی سطحِ زمین سے زیرِ زمین کا فاصلہ طے کرنے جارہا ہے. عوام کا ازدحام ہے. خواص کا قلزمِ موّاج ہے. قافلے کھنچے چلے آرہے ہیں. یہاں سے، وہاں سے، قریب سے، دور سے اور بہت دور سے گروہ کے گروہ پا بہ رکاب ہیں. ایران سے قبل حماس نے جنگ اور بعد ازاں اسیرانِ جنگ کی رہائی کا لمحہ لمحہ ایونٹ میں تبدیل کر دیا تھا، اب ایران بڑی عمدگی اور مشاقی سے لمحوں اور دقیقوں کو گلوری فائی کر رہا ہے.

یہ سلسلہ نو جولائی تک چلے گا. ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا تخمینہ ہے. نوے کے لگ بھگ ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں. کل جنازے کا دن ہے. اس کے بعد آٹھ جولائی کو میت عراق لے جائی جائے گی. نجف اور کربلا میں سوگواران کا اکٹھ ہوگا. جلوس نکالے جائیں گے. اگلے دن ایران کے شہر مشہد میں تدفین عمل میں لائی جائے گی.

تابوت کی زیارت گاہ پہ گزشتہ روز غیر ملکی وفود کی آمد تھی. بہت سے ممالک کے وفود آئے. پاکستان سے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل گئے. قطر، ترکی و عمان کے سرکاری نمائندے حاضر ہوئے، مگر دو ممالک کے وفود کی آمد کا زیادہ چرچا رہا. ایک سعودی عرب اور دوسرا افغانستان. سعودی وفد نے نہ صرف تابوت پہ حاضری دی، بلکہ ایرانی قیادت کے نام سعودی فرماں روا جناب شاہ سلمان اور ولی عہد کے پیغامات بھی پہنچائے.

یہ تہران سے ابھرتے مثبت پہلو ہیں، مگر اس تمام ہنگام سے پرے دور ایک مستور سی حقیقت ہے اور ایک لرزتی سی آہ.

حقیقت یہ ہے کہ سوائے پاکستان، تاجکستان، آرمینیا، عراق، جارجیا اور ترکمانستان کے، کسی بھی ملک کی مرکزی قیادت آخری رسومات میں شریک نہیں ہو رہی. نہ چین و روس کے صدور، نہ انڈیا کے وزیر اعظم، نہ افغان و سعودی سربراہانِ مملکت، نہ یورپ سے کوئی ریاستی سربراہ، نہ جنوبی امریکا سے کوئی صدر یا وزیراعظم. پڑوس میں آذربائیجان ہے. ایران کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا شیعہ اکثریتی ملک ہے. اس کے صدر کیوں نہیں آرہے؟ یہ یو اے ای تا لبنان، یہ لبنان تا مراکش، یہ مراکش تا برطانیہ، یہ برطانیہ تا برازیل، یہ برازیل تا انڈونیشیا اور یہ جکارتہ تا بہ خاکِ کاشغر. ان تمام ریاستوں کے ولی وارث کہاں ہیں؟ کیوں دنیا سوگواران کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر بھی روٹھی روٹھی سی ہے؟

عالمِ اسلام کو داد کہ بہرکیف اپنے نمائندے بھیجے. ان ممالک کے نمائندے بھی آئے، جنہوں نے تہران سے اذیتوں کے سلسلے پائے تھے . کل اس افغان حکومت کے نمائندے بھی موجود تھے ، جس کے حریفوں کو ایک زمانے تک ولایتِ فقیہ کی علمبردار ریاست گولہ بارود سے لادا کرتی. تب بامیان، بدخشان اور مزار شریف کی غاریں گولے اور گولیوں سے لبالب ہوا کرتی تھیں. اس سعودی عرب کا وفد بھی زخم پہ مرہم رکھنے آیا، جس کے لیے عراق تا شام اور شام تا یمن آتش کدہ بنانے کی ہر جتن کی گئی. وہ عراق بھی سر رکھنے کو کاندھا دیے ہوئے ہے کہ جس پر جب غاصب حملہ آور ہوئے تھے تو ایران ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا تھا. وہ پاکستان بھی آنسو پونچھنے جا پہنچا ہے، جس کی جانب سرزمینِ ایران سے کلبھوشن یادیو موت کا پیامبر بن کر روانہ ہوتا تھا . وہ قطر بھی غم میں ہمدم بنا دکھائی دیتا ہے، جس نے حال ہی میں میزائلوں اور ڈرونز سے لگنے والے انگنت گھاؤ سہے ہیں .

جنگ میں ہم سب ایران کے پرزور و پرجوش حامی رہے. مشکل میں ایسا ہی تو کیا جاتا ہے. اب سکھ کی گھڑیاں ہیں. دو بول شکوے کے اور دو لفظ شکایت کے بھی سہی. عالمِ اسلام تو تلخیاں بھلا کر قدم سے قدم ملائے ہوئے ہے، کاش کہ ایران بھی اب اپنی خو بدلے، خون کے قطروں کی صورت انقلاب کے ثمرات برآمد کرنے کی بجائے امن و آشتی کی خوشبوئیں سفر پہ روانہ کرے. اپنے حامیوں کو بھی تلقین کرے کہ مسلمانوں کے مقدسات کو برا بھلا کہہ کر بہت سے غرقد اگا لیے، اب سکون بھری چھاؤں دیتے چھتنار اگانے کا سمے ہے. قلم کو گلاب اور زبان کو گلِ ریحان کرنے کا وقت ہے.

یہ ہماری لرزتی سی آہ، کاش کہ جنازے کی چہل پہل کی سطور کے ساتھ ساتھ اَن کہا بین السطور بھی پڑھا جائے. دنیا نہ سہی عالمِ اسلام تو کم از کم گلزار بنے. اس گلزار کی طرف آتی بہار کی راہ میں ایران پڑتا ہے. کیا وہ اپنی خو بدلے گا ؟ خدا کرے کہ پھر یہ کہنے کی نوبت نہ آئے :

نہیں شکوہ مجھے کچھ بےوفائی کا تری ہرگز
گلہ تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو

ایران

ایران

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں