Anas Mohsin, Khapro 0

مردانِ عزیمت/تحریر/انس محسن، کھپرو

زندگی ہر پل متحرک اور پر از تغیرات ہے۔ ہر زمانے کے الگ رنگ ڈھنگ، طرز زندگی، ترجیحات و رجحانات اور خیالات و افکار ہیں۔ اس ہر دم رنگا رنگی اور تنوع میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جو کسی بھی قوم، قبیلہ اور معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مکمل اعتماد اور وقار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تہذیب و ثقافت، اخلاق و معاشرت غرض تمام ابواب زندگی میں انسانیت کو اس کے بلند منہج اور اعلی اقدار پر رکھتا ہے۔

اسلام نے 1400 سالہ تاریخ میں مختلف نوع کے انقلابات اور تغیرات کا سامنا کیا۔ قومی، لسانی، عصبی، فکری، تہذیبی اور نظریاتی کشمکشوں کے پرآشوب ادوار اور چومکھی آندھیوں کے سامنے اسلام مکمل اعتماد، مضبوط بنیادوں، اپنے تمام تر ورثے، مسلک و مذاق اور نظریات کے ساتھ کھڑا رہا۔ دنیا کے کسی مذہب نے نہ تو اتنے طوفانی جھکڑ سہے نہ ہی ان میں اتنی قوت و صلاحیت تھی کہ ایسے ہنگامے برداشت کرسکتے۔ ہمارے سامنے اسلام کے علاوہ آسمانی اور غیر آسمانی تمام مذاہب کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح وہ ذرا سے تصادم کے مقابلے میں اپنی اصل صورت اور ہیئت کھو بیٹھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے دنیا سے چلے جانے کے کچھ ہی عرصے بعد مسیحیت بازیچۂ اطفال بن کر رہ گئی اور اپنی حقیقی روح سے محروم ہو گئی۔ بدھ مت بتوں کی پوجا پاٹ کے رد عمل میں موجود میں آیا تھا لیکن بانئ مذہب کے مرجانے کے چند سال بعد خود بانی مذہب کی مورتی کی پوجا ہونے لگی اور بدھ مت بھی اپنے حقیقی ورثے سے محروم ہو گیا۔

اس کے برعکس فتنۂ ارتداد، انکار زکوۃ، اعتزال، باطنیت، خلافت و ملوکیت کی کشمکش، تاتاریوں کی یلغار، فارسیوں اور رومیوں کے ساتھ مشرق و مغرب کے لق ودق صحراؤں میں نبرد آزمائیاں اور ناجانے کیسے کیسے حوصلہ شکن امتحان اور مصائب آئے لیکن شجر اسلام کی شاخ ابھی تک تروتازہ اور برگ و بار لارہی ہے۔

اسلام کی بقا کے پیچھے ایسی کوئی معجزاتی یا ناقابل فہم ترکیب نہیں بلکہ حدیث رسول ﷺ کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے۔ دین کی خاطر موقع بہ موقع ایسے رجال کار پیدا ہوتے رہے جو اپنے زمانہ کے فتنہ سے بھرپور قوت سے جا ٹکرائے اور بالآخر اسلام کو فتح ہوئی اور نسل در نسل جاری دینی و ملی ورثہ محفوظ رہا۔ معتزلہ کی علمی موشگافیوں کے مد مقابل امام احمد بن حنبل آئے اورا ہلِ سنت کے عقائد کے دفاع اور ان کی عقلی توضیح میں امام ابو الحسن الاشعریؒ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ باطنیت اور فلسفے کے فکری چیلنجوں کے مقابل امام غزالیؒ نے علم و استدلال کے میدان میں مؤثر کام کیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہ شہنشاہ اکبر نے ” دین الہی” کے نام سے جب ایک نیا مذہب ایجاد کیا او رساری مملکت میں انتشار کی فضا پھیل گئی تو شیخ احمد سرہندی کی دعوت و تبلیغ اور حکمت پر مبنی اصلاح نے بر صغیر میں دینی ورثہ کو محفوظ رکھا اور دینی شعور کی تجدید کی۔ غرض جب کبھی جس قسم کا معرکۂ حق و باطل گرم ہوا وہاں مشیت ایزدی سے ایسا صاحب فن اور صاحب کمال پیدا ہوا جس کے سامنے باطل کی حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نا تھی۔

راہ عزیمت ایسے ہی باصفا، اولو العزم، بلند حوصلہ، صاحب عزیمت لوگوں کےگل ہائے رنگا رنگ تذکروں پر بھری ہوئی ہے جنہوں نے کفر و استبداد اور ظلم و شرک کا صبر و استقامت، فدا کاری و جاں سپاری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اپنی عظیم جدو جہد، علوم وفنون کے بیش بہا خزائن سے راہ عزیمت کی ناقابل فراموش داستان زمانے کی جبیں پر ثبت کرگئے کہ صدیاں گزر گئیں، گردش ایام نے ناجانے کتنے اور کیسے رنگ بدلے لیکن ان کے مقدس انفاس کی خوشبو آج بھی مہک رہی ہے۔

ان مردانِ عزم و ہمت کی جرات مندانہ تاریخ میں دعوت واصلاح، باطل سے آویزش، مصائب اور مشکلات میں صبر وتحمل، تقوی و خلوص اور انابت و استغفار کے ایسے انمول موتی ہیں کہ آج بھی اگر کوئی ان کی تاریخ پڑھے گا تو مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے اور محنت و جرأت کا ایک نیا حوصلہ ملے گا۔ وہ لوگ جو آج کے اس رعب و مداہنت کے دور اور مادی و فانی ترقی کی ہماہمی میں اسلام کا درد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں قرآن و سنت کے چشمۂ ہدایت سے وابستگی پوری آب تاب سے جاری رہے اور قوم و ملت پر چھائے احساس کمتری، کمزوری اور مایوسی کے سائے بادل دور ہوں تو یہ کتاب ان کے لیے اس عزیمت کی راہ کا پہلا نصاب اور صبر و استقامت کا پہلا درس ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں