Abdul Rasheed Astrana 0

ڈیرہ اور بھکر کے نرخوں میں اتنا فرق کیوں؟ عوام جواب چاہتے ہیں/تحریر/ عبد الرشید استرانہ

سرکاری نرخ نامہ کسی بھی ضلع میں عوام کو روزمرہ استعمال کی اشیاء مناسب قیمت پر فراہم کرنے اور دکانداروں کی من مانی روکنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس لیے نرخ مقرر کرتے وقت مارکیٹ کی صورتحال، کاروباری اخراجات، ٹرانسپورٹ اور عوام کی قوتِ خرید سمیت مختلف عوامل کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن جب قریب واقع دو اضلاع کے سرکاری نرخوں میں نمایاں فرق سامنے آئے تو یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے لیے کون سا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان خیبرپختونخوا جبکہ قریب واقع بھکر پنجاب کا ضلع ہے۔ دونوں اضلاع کے درمیان تجارتی روابط موجود ہیں اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء بھی بڑی حد تک ایک جیسی ہیں۔ اس کے باوجود دستیاب سرکاری نرخ ناموں کے تقابلی جائزے میں گوشت، دودھ اور دہی سمیت بعض اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑے گوشت کا سرکاری نرخ 1000 سے 1150 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بھکر میں بڑے گوشت کا نرخ 900 روپے فی کلو بتایا گیا ہے۔ مٹن کی قیمت ڈیرہ اسماعیل خان میں 2200 روپے فی کلو جبکہ بھکر میں 1750 روپے فی کلو مقرر ہے۔ یعنی مٹن کے معاملے میں بھی دونوں اضلاع کے سرکاری نرخوں میں خاصا فرق موجود ہے۔

دودھ اور دہی کے نرخوں میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں خالص دودھ کا سرکاری نرخ 190 روپے فی لیٹر جبکہ بھکر میں 165 روپے مقرر ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں خالص دہی کا نرخ 200 روپے فی کلو جبکہ بھکر میں 180 روپے ہے۔ دوسری جانب شہریوں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں بعض مقامات پر دودھ سرکاری نرخ سے زیادہ، تقریباً 220 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور بھکر کے سرکاری نرخوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ اگر دونوں اضلاع میں قیمتوں کے تعین کے لیے مختلف عوامل موجود ہیں تو ان کی وضاحت عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔ کیا جانوروں کی قیمت، چارہ، منڈی، ٹرانسپورٹ، مزدوری اور دیگر کاروباری اخراجات میں اتنا فرق ہے کہ قیمتوں میں سینکڑوں روپے کا فرق پیدا ہو جائے؟ یا دونوں صوبوں میں نرخ مقرر کرنے کا طریقہ کار مختلف ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جس کا اثر ٹرانسپورٹ اور کاروباری اخراجات پر پڑتا ہے۔ اس لیے قیمتوں کا تعین کرتے وقت مارکیٹ کے ان عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر کاروباری اخراجات میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات صارف تک پہنچنے چاہئیں، جبکہ اخراجات میں اضافے کی صورت میں اس کی بنیاد بھی واضح ہونی چاہیے۔

قیمتوں کے معاملے کے ساتھ گوشت کی نئی کیٹیگریز نے ایک اور اہم سوال پیدا کر دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے نرخ نامے میں بڑے گوشت اور بچھڑے کے گوشت کی قیمتیں الگ مقرر کی گئی ہیں۔ بڑے گوشت کا نرخ 1000 روپے جبکہ بچھڑے کے گوشت کا نرخ 1150 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ ذبح ہونے کے بعد یہ تعین کون کرے گا کہ گوشت بچھڑے کا ہے یا بڑے جانور کا؟ عام صارف کے لیے ذبح شدہ گوشت دیکھ کر جانور کی عمر کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔ جب دونوں کیٹیگریز کے نرخ الگ ہوں تو صارف کے تحفظ کے لیے ان کیٹیگریز کی واضح شناخت اور تصدیق کا نظام بھی ضروری ہے۔

اسی سوال کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری ذبح خانے کا دورہ کیا گیا اور وہاں ذبح ہونے والے جانوروں کے ریکارڈ کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ ذبح خانے سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق وہاں روزانہ تقریباً 20 سے 30 جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں قصابوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر انور اور ویٹرنری پبلک ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ساغر امداد سے رابطہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ضلع میں قصابوں کی تعداد 80 سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قصاب خود جانور ذبح نہیں کرتے بلکہ بعض قصاب بڑے قصابوں سے گوشت لے کر اپنی دکانوں پر فروخت کرتے ہیں۔ لائیو اسٹاک حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر جانور ذبح کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کی گئی ہیں۔

یہ معلومات ایک اہم انتظامی سوال ضرور سامنے لاتی ہیں کہ سرکاری ذبح خانے میں ذبح ہونے والے جانوروں کے علاوہ مارکیٹ میں آنے والے گوشت کی نگرانی، ریکارڈ اور ویٹرنری معائنہ کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب نرخ نامے میں گوشت کی مختلف کیٹیگریز کے لیے الگ قیمتیں مقرر کی گئی ہوں۔

اس معاملے پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد اعظم خان سے بھی رابطہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوشت کے ریٹ اور کیٹیگریز کا تعین پرائس ریویو کمیٹی کرتی ہے، جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ فوڈ کا کام مارکیٹ میں مقررہ نرخوں کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر اسسٹنٹ کمشنر کو درخواست دی جائے تاکہ وہ اجلاس بلا کر معاملے کا جائزہ لے سکیں۔

محکمہ فوڈ کے اس موقف کے بعد مزید وضاحت کے لیے اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ حامد صادق سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان حکمت اللہ وزیر سے بھی موقف لینے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی جانب سے بھی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

متعلقہ حکام سے رابطے کا مقصد کسی فرد یا ادارے پر الزام لگانا نہیں بلکہ اس معاملے کا انتظامی طریقہ کار سمجھنا تھا۔ تاہم جب گوشت کی کیٹیگری اور قیمت الگ مقرر کی گئی ہے تو یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ کیٹیگری کی تصدیق کون کرے گا اور اس نظام کی نگرانی کس محکمے کی ذمہ داری ہوگی۔

اس کا ایک عملی حل یہ ہو سکتا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جو قصاب بچھڑے کا گوشت فروخت کرے، اس کے پاس صرف اسی کیٹیگری کا گوشت ہو، جبکہ بڑے جانور کا گوشت فروخت کرنے والے قصاب کے پاس صرف بڑے جانور کا گوشت رکھا جائے۔ چونکہ شہر میں بعض قصاب باقاعدہ دکانوں کے بجائے پھٹوں پر گوشت فروخت کرتے ہیں، اس لیے الگ کاؤنٹر کے بجائے قصاب کی سطح پر کیٹیگری واضح کرنا زیادہ قابلِ عمل طریقہ ہو سکتا ہے۔

اس نظام سے صارف کو پہلے ہی معلوم ہوگا کہ وہ کس قسم کا گوشت خرید رہا ہے اور انتظامیہ کے لیے بھی نگرانی آسان ہوگی۔ اگر کیٹیگری کی خلاف ورزی ہو تو کارروائی کا طریقہ بھی واضح کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نرخ نامے میں درج مختلف قیمتوں کو عملی شکل دینا ممکن ہوگا۔

جہاں تک مجموعی نرخوں کا تعلق ہے، عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے نرخوں کا پنجاب کے ضلع بھکر کے نرخوں سے تقابلی جائزہ لیا جائے اور اگر مقامی حالات میں کوئی ایسا فرق موجود نہیں جو قیمتوں میں اتنے بڑے تفاوت کی وجہ بنتا ہو تو نرخوں پر نظرثانی کی جائے۔ تاہم اگر متعلقہ کمیٹی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے اخراجات مختلف ہیں تو اس کی بنیاد اور طریقہ کار بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

اسی طرح اگر موجودہ نرخ نامہ برقرار رکھا جاتا ہے تو کم از کم اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ سرکاری نرخ 1000 روپے مقرر ہونے کی صورت میں اس سے زائد قیمت وصول نہ کی جائے، جبکہ بچھڑے کے گوشت کا نرخ 1150 روپے مقرر ہے تو اس کیٹیگری کی شناخت بھی واضح ہو تاکہ صارف کو درست چیز درست قیمت پر ملے۔

اس معاملے میں خیبرپختونخوا حکومت، کمشنر ڈیرہ اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان سے عوام یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ نرخوں کے تعین کے لیے صوبائی سطح پر کیا پالیسی یا فارمولا موجود ہے اور مقامی سطح پر اس پر کس طرح عمل کیا جاتا ہے۔ اگر نرخ مقرر کرنے کا اختیار پرائس ریویو کمیٹی کے پاس ہے تو اس کمیٹی کے سامنے مارکیٹ کے نرخ، کاروباری اخراجات اور عوامی مفاد کو کس طرح مدنظر رکھا جاتا ہے، اس کی وضاحت بھی مفید ہوگی۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نرخوں کے فرق کی وجہ کسی خاص فرد یا ادارے کی غلطی ہے، جب تک اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ البتہ قیمتوں میں نمایاں فرق، گوشت کی الگ کیٹیگریز اور ان کی نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات ضرور موجود ہیں جن کا جواب متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں۔

عوام کو صرف یہ معلوم ہونا کافی نہیں کہ نرخ کیا ہے؛ انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نرخ اتنا کیوں ہے، گوشت کی کیٹیگری کون طے کرے گا، اس کی تصدیق کون کرے گا اور سرکاری نرخ سے زائد وصولی کی صورت میں شکایت کہاں کی جائے گی۔

شفاف نظام وہی ہوگا جس میں قیمت مقرر کرنے کی بنیاد واضح ہو، کیٹیگری کی شناخت قابلِ اعتماد ہو، گوشت کی نگرانی کا مؤثر طریقہ موجود ہو اور جاری کردہ نرخ نامے پر بلاامتیاز عملدرآمد ہو۔ اس کے بغیر نرخ نامہ کاغذ پر تو موجود رہے گا، لیکن بازار میں اس کا حقیقی فائدہ صارف تک پہنچنا مشکل ہوگا۔

آخر میں سوال بہت سادہ ہے، مگر اس کا جواب پورے نظام کی شفافیت سے جڑا ہوا ہے.

جب بڑے گوشت اور بچھڑے کے گوشت کے نرخ الگ الگ مقرر کیے گئے ہیں تو ذبح شدہ گوشت کی کیٹیگری کا تعین اور تصدیق آخر کون کرے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں