آپریشن سومنات اور یوم بحریہ/تحریر/محمد اویس شاہد
سمندر اپنی ہیبت اور وسعت کے باعث ہمیشہ سے جنگوں کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ٹرافلگر، جٹ لینڈ اور خلیج لیٹی کی بحری لڑائیاں آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنہری الفاظ سے لکھی جاتی ہیں۔ آئیے ایسی ہی ایک فتح آپ کو پاکستان بحریہ کی سناتے ہیں، چھ ستمبر 1965ء کی صبح تقریباً آٹھ بجے پاک بحریہ کے جہاز اپنی معمول کی مشقوں پر جانے کے لیے تیار تھے کہ اچانک صبح ساڑھے چھ بجے اطلاع ملی کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ اسی لمحے بحری جہاز حالت مشق سے نکل کر براہِ راست حالتِ جنگ میں آ گئے۔ پاکستان کی آبدوز غازی بھی فوری طور پر کراچی سے دشمن کو جواب دینے کے لیے روانہ کر دی گئی، جبکہ مشرقی محاذ پر موجود بحری جہازوں نے کارروائی کرتے ہوئے بھارتی تجارتی جہازوں کو پکڑ کر آبی راستوں کو محفوظ بنا لیا۔ اس دن مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں پر بھرپور تیاری کے نتائج کھل کر سامنے آئے۔
سب سے پہلے پاک بحریہ کی آبدوز غازی نے بمبئی کی بندرگاہ کے سامنے اپنی موجودگی ظاہر کی، جبکہ مزید دو آبدوزیں خلیج بنگال میں داخل ہو گئیں۔ بھارتی فضائیہ جب فضائی نگرانی کے ذریعے سمندری صورتِ حال جاننے کی کوشش کرتی تو انہیں یہ اطلاع ملتی کہ مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں پر پاکستانی آبدوزیں سرگرم ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ بھارت کا طیارہ بردار جہاز وکرانت اور اس کے ساتھ موجود اہم جنگی جہاز اپنی بندرگاہوں سے نکلنے کی ہمت نہ کر سکے۔ دوسری جانب 8 ستمبر کو پاکستان کے آٹھ بحری جہاز کراچی سے روانہ ہو کر اوکھا کی بندرگاہ کے سامنے پہنچے اور شدید گولہ باری کر کے وہاں موجود بحری اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کو ’’آپریشن سومنات‘‘ کا نام دیا گیا۔
بھارت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا بحری دفاع تھا، کیونکہ اس کے 7,500 کلومیٹر سے زائد ساحل کی حفاظت کے لیے ایک وسیع بیڑے کی ضرورت تھی جو اس کے پاس موجود نہ تھا۔ مزید یہ کہ سمندری لڑائی کے لیے بھارت کو اپنی مرضی کے مقام پر پاکستان کو آمادہ کرنا پڑتا، جو ممکن نہ ہو سکا۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ بھارتی طیارہ بردار جہاز اپنے بڑے جنگی جہازوں سمیت بمبئی کی بندرگاہ میں موجود ہیں تو پاکستان نے اپنی آبدوز کو وہیں تعینات کر دیا۔ ساتھ ہی اوکھا پر حملہ کر کے بھارتی بیڑے کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی، لیکن چونکہ دشمن بندرگاہ سے باہر نہ آیا، اس لیے آبدوز کو بڑے جہاز سے براہِ راست مقابلے کا موقع نہ ملا۔ البتہ ایک موقع پر ایک بھارتی بحری جہاز سامنے آیا جسے غرق کرنے کے لیے دو تارپیڈو فائر کیے گئے مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ جواباً بھارتی جہاز نے دفاعی طور پر قریبی فاصلے سے دو تارپیڈو فائر کیے جو بے اثر ثابت ہوئے۔
اس دوران آبدوز غازی نے اپنی بیٹریاں مکمل طور پر چارج رکھیں اور دشمن کی فضائی نگرانی کو بار بار دھوکہ دیتے رہے۔ یہ سب کچھ کمانڈر کرامت رحمان نیازی کی زیرِ قیادت ممکن ہوا جن کی قیادت اور عملے کی مہارت پاک بحریہ کے عزم کی عکاس تھی۔ محدود وسائل کے باوجود پاک بحریہ نے بھارتی بحری اڈہ تباہ کیا اور ساتھ ہی بھارتی فضائیہ کو جنوبی محاذ پر الجھا کر شمالی اور مشرقی محاذ پر اس کی توجہ تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ بھارت کو تین اطراف سے سمندر نے گھیر رکھا ہے، جس کی وجہ سے اسے ہمہ وقت کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، یہی وجہ تھی کہ کوچین، وشاکا پٹنم اور کلکتہ جیسے مقامات پر موجود اس کے بحری اثاثے بھی اس جنگ میں کوئی بڑا کردار ادا نہ کر سکے۔
پاکستان بحریہ کے جانبازوں نے اپنی حکمتِ عملی اور جرات سے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی اور یہ ثابت کیا کہ:
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے،
آسان نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا۔
یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جدید دور میں پاک بحریہ کے ’’آپریشن دوارکا‘‘ اور ’’ہنگور‘‘ کا معرکہ بحری تاریخ کی عظیم جنگوں جیسے ٹرافلگر، جٹ لینڈ اور خلیج لیٹی کی طرح شاندار اور یادگار معرکے تھے۔ آپریشن دوارکا میں پاکستان نیوی نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر شکست سے دوچار کیا، جبکہ ہنگور آپریشن میں پاک بحریہ کی آبدوز نے بھارتی جنگی جہاز ککری کو سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا اور ایک دوسرے جہاز کو شدید نقصان پہنچا کر دشمن کے حوصلے پست کر دیے۔
بحری دفاعی حالات کے جائزے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان نیوی آج بھی دشمن کو زیر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان خطے کا پہلا ملک تھا جس نے اپنے بحری بیڑے میں آبدوز شامل کی اور بعد میں انہیں ایئر پروپلشن ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ کیا۔ گزشتہ برس پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس نے آٹھویں مرتبہ ’’امن مشقوں‘‘ کی میزبانی کی۔ انہی دنوں بین الاقوامی کانفرنس اور نمائش میں سرمایہ کاری، پورٹ آپریشنز میں اشتراک، میری ٹائم لاجسٹکس، جہاز سازی اور مرمت، شپ بریکنگ، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، ایکوا کلچر، سمندر کی تہہ سے وسائل کے حصول، قابلِ تجدید توانائی، ماحول کے تحفظ، میری ٹائم انجینئرنگ اور ٹریننگ پر خاص توجہ دی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف پاکستان کے سمندری دفاع کی ضامن ہے بلکہ علاقائی امن، سمندری حفاظت اور عالمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے.
یہ حقیقت ہے کہ 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف ملک کا دفاع کیا بلکہ دشمن کو ایسی شکست دی جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ اور آج بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے شاہین ہمہ وقت تیار ہیں۔ اس کی قریب ماضی میں ایک مثال دنیا نے فروری 2019 میں اپنی آنکھوں سے دیکھی جب پاکستان کے جانبازوں نے دشمن کو پھر ایک بار ناکوں چنے چبوا دیے۔ جبکہ حالیہ آپریشن ”بنیان مرصوص اور معرکہء حق“ میں بھی دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کی نہ صرف معترف ہو گئی بلکہ بڑے بڑے عسکری تجزیہ کار دنگ رہ گئے، پاک بحریہ کے آفیسر ز ہی پی اوز / سیلرز اور نیوی سویلیز جشن آزادی و فتح معرکۂ حق کے موقع پر قوم کو مبارک باد پیش کرتے رہے، اور ملک کے بحری دفاع کے عہد کی تجدید کرتے رہے۔ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور کے دوران بھارتی بحریہ نے اپنے جنگی جہازوں ، طیارہ بردار جہازوں بشمول مقامی سطح پر تیار کردہ آئی این ایس و کرانت اور آبدوزوں کو اگلی سرحدوں پر تعینات تو کیا مگر ہمت نہ بندھی، اس دوران پاکستان بحریہ کی مدبرانہ حکمت عملی، اولو العزمی، نگرانی و نگہبانی کی بدولت دشمن نے حجم و تعداد میں کئی گنا بڑا ہونے کے باوجود بحری محاذ پر معمولی کاروائی کی جرات تک نہ کی۔ پاکستان بحریہ کے آفیسرز اور جوان ہر لمحہ تیار تھے۔ صمیم عزم ، حب الوطنی اور حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا جذ بہ لیے وطن کے بحری دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے ہوئے تھے۔ اور اسی عزم کے ساتھ پاکستان بحریہ ہر دن ، ہر وقت تیار رہتی ہے۔
قارئین کرام ! 8 ستمبر یومِ بحریہ ہماری تاریخ کا وہ دن ہے جو پاک بحریہ کے جانبازوں کی جرات، قربانی اور عزم کی یاد بھی دلاتا ہے۔ آپریشن ”سومنات“ اور آبدوز غازی کی شاندار کارکردگی اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کو ہر محاذ پر ناکام بنایا۔ یہ دن نہ صرف ان شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عزم و حوصلے کا روشن مینار بھی ہے۔ اللہ کریم پاکستان کی حفاظت فرمائے، اور اس کی حفاظت کرنے والوں کی بھی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
آپریشن سومنات اور یوم بحریہ/تحریر/محمد اویس شاہد