یہ عجیب زمانہ آ گیا ہے…
جہاں مطالعہ چند صفحات کا، تجربہ چند مہینوں کا، اور شعور چند ویڈیوز کا ہو؛ مگر تبصرے صدیوں کے دانشوروں جیسے کیے جاتے ہیں۔
آج ہر شخص خود کو عقلِ کُل سمجھ بیٹھا ہے۔
جسے دیکھو، وہ کسی عالم پر گفتگو کر رہا ہے، کسی استاد کو کمتر ثابت کر رہا ہے، کسی بزرگ کی نیت پر سوال اٹھا رہا ہے، کسی محنتی انسان کی جدوجہد کا مذاق اڑا رہا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تبصرہ ہمیشہ وہ شخص زیادہ کرتا ہے جس نے خود زندگی میں کوئی بڑا بوجھ نہیں اٹھایا ہوتا۔
جن لوگوں نے زندگی کے تھپیڑے کھائے ہوتے ہیں، جو زمانے کی دھوپ میں جل کر کندن بنے ہوتے ہیں، جو راتوں کی تنہائی میں اپنے خوابوں کو سینچتے ہیں، وہ لوگوں پر فیصلے کم اور اپنے اوپر محنت زیادہ کرتے ہیں۔
آج کا سب سے بڑا فکری بحران یہ نہیں کہ نوجوان کے پاس وسائل کم ہیں؛
بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ نوجوان “سیکھنے” سے پہلے “بولنے” لگ گیا ہے۔
وہ شاگردی سے پہلے استادی چاہتا ہے، مطالعے سے پہلے تبصرہ، اور کردار سے پہلے شہرت۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو آواز تو دے دی، مگر افسوس!
بہت کم لوگوں کو یہ شعور دیا کہ کہاں بولنا ہے، کب بولنا ہے، اور کس کے بارے میں بولنا ہے۔
یاد رکھیے!
ہر میدان کے اپنے مجاہد ہوتے ہیں۔
دین کے میدان میں ایک عالمِ دین برسوں کی ریاضت، مطالعہ، اساتذہ کی صحبت اور جاگتی راتوں کے بعد مقام پاتا ہے۔
ایک حافظِ قرآن اپنی جوانی کے حسین لمحات قرآن کے سینے میں محفوظ کرنے میں صرف کرتا ہے۔
ایک استاد اپنی عمر نسلیں سنوارنے میں کھپا دیتا ہے۔
ایک لکھاری اپنے لفظوں کے پیچھے اپنی پوری سوچ اور مشاہدہ جلا دیتا ہے۔
ایک محنتی نوجوان اپنے خوابوں کی خاطر برسوں ناکامیوں کے پتھر سہتا ہے۔
اور پھر ایک ایسا شخص آتا ہے جس نے نہ وہ سفر دیکھا، نہ وہ قربانی جانی، نہ وہ درد محسوس کیا…
اور وہ چند جملوں میں پوری شخصیت کا پوسٹ مارٹم کر دیتا ہے۔
یہ انصاف نہیں، یہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
اختلاف ضرور کیجیے، مگر تہذیب کے ساتھ۔
تنقید ضرور کیجیے، مگر علم کے ساتھ۔
رائے ضرور دیجیے، مگر اپنے ظرف کے اندر رہ کر۔
کیونکہ جن لوگوں کو اپنے قد کا اندازہ نہیں ہوتا، وہ اکثر دوسروں کے سائے ناپنے لگ جاتے ہیں۔
نوجوانو!
اگر واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہو تو لوگوں کے عیب گننے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو جگاؤ۔
دوسروں کی کردار کشی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے کردار کو مضبوط بناؤ۔
ہر وقت تبصرے، طنز، حسد اور الزام کی فضا میں رہنے والا انسان کبھی بڑا نہیں بن سکتا۔
بڑے لوگ دوسروں کو گرانے میں نہیں، خود کو اٹھانے میں مصروف ہوتے ہیں۔
اپنے مشن سے وفادار ہو جاؤ۔
اپنے فن سے محبت کرو۔
خاموشی سے محنت کرو۔
لوگوں کی کامیابی دیکھ کر جلنے کے بجائے اپنے خوابوں کو زندہ رکھو۔
کیونکہ دنیا میں مقام شور مچانے والوں کو نہیں، کردار بنانے والوں کو ملتا ہے۔
یاد رکھو…
جو لوگ ہر وقت دوسروں پر پتھر پھینکتے رہتے ہیں، اُن کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔
اور جو لوگ انہی پتھروں سے اپنی عمارت تعمیر کر لیتے ہیں، تاریخ اُنہیں سلام کرتی ہے۔
اس لیے فیصلہ کر لو…
تمہیں تبصرہ نگار بننا ہے یا کردار؟
تماشائی بننا ہے یا تاریخ؟
کیونکہ وقت صرف اُن لوگوں کو یاد رکھتا ہے جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر مقصد کے لیے جیتے ہیں۔
یہ تحریر اُن لوگوں کے لیے نہیں جو علم، تجربہ اور شعور کی منزلیں طے کر چکے ہیں؛
بلکہ اُن کے لیے ہے جو کسی میدان میں چند قدم چلتے ہی خود کو قافلے کا راہبر سمجھنے لگتے ہیں۔
جو تجربے کے بغیر تجزیہ نگار، مطالعے کے بغیر نقاد، اور شعور کے بغیر منصف بن بیٹھتے ہیں۔
حالانکہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر رائے دینے والا صاحبِ بصیرت نہیں ہوتا، اور ہر بولنے والا اہلِ فہم نہیں ہوتا۔