Ismat Usama 0

کیمرہ ہر جگہ،بصیرت کہیں کہیں! کیپٹن عاصم طارق کی شہادت/تحریر/عصمت اسامہ

معاشرے میں اخلاقی تربیت اور ضمیر کے معیار کا فقدان خطرے کا الارم ہے۔ پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت غور وفکر کے کئی دریچے وا کر رہی ہے۔ کیپٹن عاصم اسلام آباد میں اپنی گاڑی میں محو_سفر تھے جب انھوں نے سڑک پر ایک مؤثر سائیکل سوار لڑکے کو اپنی ساتھی سے بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا۔وہ اس کا بازو کھینچتے ہوئے اسے کہیں لے جانا چاہتا تھا مگر لڑکی انکار کر رہی تھی۔کیپٹن عاصم نے گاڑی روکی ،اس لڑکے کو اپنا تعارف کروایا اور اسے لڑکی پر تشدد سے باز رہنے کو کہا۔ وہ لڑکی کیپٹن عاصم کی گاڑی کے پیچھے چھپ گئی۔ بدبخت لڑکے نے دیکھا کہ وہ اپنے ناپاک ارادے میں ناکام ہوگیا ہے تو اسی وقت پستول نکال کر کیپٹن عاصم کے پاکیزہ سر میں گولی مار کے قوم کو ایک اعلیٰ دماغ سے محروم کردیا۔یہ واقعہ مارگلہ تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ چوں کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس تھا اس لئے پولیس اور انٹیلیجنس کے ادارے فوری حرکت میں آۓ اور شہادت کے آٹھ گھنٹے کے اندر قاتل کو گرفتار کرلیا گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق قاتل سعد اور اس کی کولیگ نمرہ قریبی کیش اینڈ کیری میں جاب کرتے تھے۔سعد اکثر اس لڑکی کو پک اینڈ ڈراپ دیتا تھا مگر اس بار وہ اسے کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا جہاں وہ لڑکی جانے سے انکار کر رہی تھی۔ قانونی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق سعد پر پہلے بھی ایک خاتون کے اغوا کا الزام تھا مگر بعد میں فریقین میں صلح نامہ ہوگیا تھا۔ قاتل نے فرار ہوتے وقت راستے میں اپنا پستول اور سامان کا بیگ اپنے دوست کی فارمیسی میں رکھوایا ،ایک نئی شرٹ خرید کر اپنا حلیہ تبدیل کیا۔ موٹر سائیکل پر کپڑا ڈال کر اسے چھپا دیا اور بائیکیا سے روانہ ہوا۔ دوسرے شہر لاہور جانے کے لئے ٹکٹ خریدا مگر لاہور پہنچنے سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا۔ اس سارے معاملے میں کئی غور طلب پہلو موجود ہیں:
1: پاک فضائیہ کے ایک قیمتی آفیسر نے ایک اجنبی خاتون کی جان وآبرو بچانے کے لئے خود کو خطرے میں ڈالا مگر وہی کیا جو ایک باضمیر اور باکردار انسان کو کرنا چاہئیے تھا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ وہ جس طرح ” مادر_وطن” کے محافظ ہیں ،اسی طرح ” دخترانِ وطن” کے بھی محافظ ہیں۔ بیٹییاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔کیپٹن عاصم طارق نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ،ان کا رویہ ایک مثال ہے کہ ظلم و زیادتی کسی پر نہ ہونے دیں۔ اگر وہ چاہتے تو دیگر کار سواروں کی طرح وہ بھی نظر بچا کے گزر جاتے لیکن وہ رکے اور قوم کی بیٹی کو بچالیا۔
2:قاتل نے جس طرح پولیس اور انٹیلیجنس اداروں کو غچہ دینے کی کوشش کی ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی عادی مجرم ہے ،آخر وہ اپنے ساتھ پستول رکھے ہوئے تھا اور پہلے بھی کسی خاتون کو اغوا کرچکا تھا۔ اسے سخت سزا ہونی چاہیئے جو مظہر_ عبرت بنے۔
3: کئی برس پہلے اسمبلی میں زینب ریپ کیس کے قاتل کے لئے سزاۓ موت کا بل پیش کیا گیا تھا جو اس وقت منظور نہیں ہوسکا تھا،اب وہ بل منظور کیا جاۓ تاکہ قوم کی بیٹیوں کا تحفظ ممکن ہوسکے اور ہر مجرم کو سزا کا خوف ہو۔سزا کا خوف ہی جرم کو ہونے سے روکتا ہے۔یہ قانون بنایا جائے تاکہ ہماری فضائیہ کے شاہینوں کو اپنی جان سے نہ جانا پڑے۔
4: وزارتِ اطلاعات و نشریات سے گذارش ہے کہ سائیبر سیکیورٹی کی مد میں ایسے اقدامات کیے جائیں کہ انٹرنیٹ پر ہر قسم کی بیہودہ ویب سائٹس کو بلاک کیا جاۓ۔وی پی این تک رسائی کو بند کیا جائے تاکہ اس طرح کے ذہنی مریضوں کا علاج ممکن ہوپاۓ۔
5: جاب کرنے والی لڑکیو، اپنا تحفظ کرنا سیکھو۔ کسی اجنبی کی آفر قبول نہ کرو، موجودہ دور میں کوئی کولیگ بھی قابلِ اعتبار نہیں ہے۔
There are no free lunches!

6:عصر_حاضر میں ہر جگہ کیمرے لگے ہوتے ہیں ،سٹورز میں ،سڑکوں پر ،راستوں میں لیکن کیا کوئی اہل_بصیرت بھی ہے جو محض کنٹرول روم میں نہ بیٹھا رہے بلکہ کسی بھی جرم کو ہونے سے روک سکے ؟

پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں