Haseeba Anwar 0

بچیوں کا خوف زدہ بچپن/تحریر/حسیبہ انور

بچپن زندگی کا وہ حسین دور ہوتا ہے جس میں ہر بچے کو محبت، تحفظ ، تعلیم اور بے فکری نصیب ہونی چاہئے ۔ مگر افسوس ہمارے معاشرے میں بہت سی بچیاں ایسا بچپن گزارنے پر مجبور ہیں جہاں ہنسی کی جگہ خوف، اعتماد کی جگہ بے یقینی اور آزادی کی جگہ ڈر نے لے لی ہے ۔

وہ صرف سات برس کی تھی…

اس کی آنکھوں میں رنگ برنگے خواب تھے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بستہ، اور دل میں دنیا کو جاننے کی معصوم خواہش۔ مگر ایک دن کسی ظالم نے صرف اس کی مسکراہٹ ہی نہیں چھینی، بلکہ اس کے بچپن کو بھی خوف کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔

کتنا عجیب معاشرہ ہے ہمارا…

جہاں ایک بچی کو گڑیا سے کھیلنے کے بجائے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اجنبی سے بات نہ کرنا، اکیلے باہر نہ جانا، ہر وقت محتاط رہنا۔ آخر کیوں؟ کیا بچپن کا مطلب خوف ہے؟ کیا معصومیت کی قیمت ڈر بن چکی ہے؟

اس صورتحال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ بعض اَوقات ایسے جرائم اجنبی نہیں بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جن پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔یہی حقیقت معاشرے کے لیے ایک بڑا سوال ہے کہ آخر ہماری اخلاقی اقدار ، تربیت اور احساسـِں انسانیت کہاں کھو گئے ؟

ہر وہ خبر جس میں کسی معصوم بچی پر ظلم کی داستان ہوتی ہے، صرف ایک خبر نہیں ہوتی؛ وہ انسانیت کے چہرے پر ایسا زخم ہوتی ہے جو برسوں تک نہیں بھرتا۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کو نہیں رلاتے، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔

اس مسلے کا حل صرف سخت قوانین نہیں بلکہ مضبوط کردار سازی، دینی و اخلاقی تربیت ، بچوں کو ان کی حفاظت کے بارے میں آگاہی ، والدین کی ذمہ داری اور فوری ومنصفانہ انصاف بھی ہے۔ جب تک معاشرہ اجتماعی طور پر ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا ، خوف کی یہ فضا ختم نہیں ہوگئ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ایک بچی اپنے ہی معاشرے میں خود کو محفوظ محسوس نہ کرے، جب والدین ہر لمحہ اس کی واپسی کا انتظار بے چینی سے کریں، جب ہنستے کھیلتے بچے خوف کی زبان سیکھنے لگیں، تو پھر ترقی کے دعوے کس کام کے؟

یاد رکھیں، ظلم صرف وہ نہیں کرتا جو جرم کرتا ہے؛ خاموشی بھی کبھی کبھی ظلم کا ساتھ بن جاتی ہے۔ جب ہم بے حسی کو معمول بنا لیتے ہیں، تو ظالم کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور معصوموں کے خواب ٹوٹتے چلے جاتے ہیں۔

ضرورت صرف سخت قوانین کی نہیں، بلکہ ایسے کردار کی ہے جو عورت اور بچی کو عزت دے، ایسی تربیت کی ہے جو انسان کو انسانیت سکھائے، اور ایسے معاشرے کی ہے جہاں ہر ظلم کے خلاف بلا خوف آواز بلند کی جائے۔

ہر بچی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بلا خوف اپنے خواب دیکھ سکے ، تعلیم حاصل کرے، کھیل سکے اور ایک محفوظ ماحول میں پروان چڑھے۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اسکی عمارتوں یا ترقی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں بچے اور بچیاں خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتے ہیں ۔

آئیے عہد کریں کہ ہم ایسا معاشرہ تعمیر کریں گے جہاں ہر بچی مسکرا سکے، بے خوف اسکول جا سکے، آزادی سے کھیل سکے، اور اس کے والدین اسے رخصت کرتے وقت دعاؤں کے ساتھ خوف نہیں بلکہ اطمینان بھی محسوس کریں۔

کیونکہ جس معاشرے کی بچیاں خوف میں جیتی ہوں، وہاں صرف بچپن نہیں مرتا… وہاں انسانیت بھی آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔

بچپن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں