0

اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی

اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں/تحریر/خواجہ مظہر صدیقی/کالم نگار و موٹیویشنل ٹرینر

کل شام میں حسین آگاہی کے چوک بازار سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک برقع پوش خاتون نے مجھے روک لیا۔ میں ایک ضروری کام سے پیدل ہی رحیم سینٹر جا رہا تھا۔ خاتون کے ساتھ ایک چار سالہ بچہ تھا، جس نے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ وہ بچہ نہایت خوبصورت اور معصوم لگ رہا تھا مگر مسلسل روتا جا رہا تھا۔

خاتون نے بتایا کہ یہ بچہ اُسے گُڑ منڈی میں روتا ہوا ملا ہے اور اب اس کا اعلان کروانا ضروری ہے تاکہ گھر والے آ کر لے جائیں۔ میں نے کہا آپ ساتھ چلیں، یہاں قریب ہی کئی مساجد اور بازار یونین کے سپیکر ہیں، ہم اعلان کروا لیتے ہیں۔ مگر خاتون نے معذرت کی اور کہا کہ اس کے اپنے بچے گھر پر اکیلے ہیں، وہ واپس جانا چاہتی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے بچے کو میرے ہاتھ میں تھما دیا اور خود چلی گئی۔

اب بچہ میرے پاس تھا اور اس کا رونا مزید تیز ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی، میں بار بار اپنے جیبی رومال سے اس کی ناک صاف کرتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹےآنسو بہہ رہے تھے اور وہ کسی طرح خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ میں نے اسے جوس، بسکٹ اور موبائل فون پر گیمز دکھا کر بہلانے کی کوشش کی، لیکن وہ کچھ بھی لینے کو تیار نہ تھا۔ صرف رونا ہی اس کے لبوں پر تھا۔

میں نے ہمت کی اور چوک بازار کی مساجد میں اعلان کروایا، پھر یونین کے سپیکر پر بھی۔ ایک دوست کے ساتھ بائیک پر قریبی علاقوں کی مساجد میں جا جا کر اعلان کروائے۔اس کام اور کشمکش میں دو گھنٹے گزر گئے مگر بچے کے گھر والوں کا کوئی سراغ نہ ملا۔ میری تھکن بڑھتی جا رہی تھی اور صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا، مگر اس معصوم کی بے بسی مجھے قابو میں رکھے ہوئے تھی۔ دو تین بار تو مجھے بچے پر شدید قسم کا غصہ آیا لیکن میں اسے پی گیا۔

آخر میں نے سوچا کہ بچے کو پولیس کے حوالے کر دوں۔ میں اسے کبوتر منڈی کے تھانے لے گیا، لیکن جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا تو مزید زور زور سے رونے لگا۔ شاید اسے بھی پولیس کا ڈر تھا۔ اس نے چند سپاہی اندر جاتے ہوئے دیکھ لیے تھے ۔ میں سخت کشمکش میں تھا کہ اچانک بازار یونین کے صدر کا فون آیا۔ انہوں نے خوشخبری دی کہ بچے کے والدین آ گئے ہیں اور کہا کہ آپ اُسے میری دکان پر لے آئیں۔

میری جان میں جان آئی۔ میں فوراً وہاں پہنچا۔ بچے کی ماں کا حال دیکھنے والا تھا۔ وہ روتی اور سسکتی ہوئی بیٹے سے لپٹ گئی۔ کچھ دیر کے لیے تو وہ بے ہوش ہو گئی۔ بھائی نے پانی پلایا تو ہوش آیا۔ ماں اور بیٹے کی ملاقات کے وہ لمحات اتنے جذباتی تھے کہ ہر آنکھ نم ہو گئی۔

معلوم ہوا کہ بچے کا باپ دبئی میں ہوتا ہے اور یہ معصوم محلہ آغا پورہ دہلی گیٹ سے چلتے چلتے گُڑ منڈی تک پہنچ گیا تھا۔ جیسے ہی ماں نے اسے گود میں لیا، اس نے میرے ہاتھ میں پکڑے جوس اور بسکٹ خوشی سے قبول کر لیے۔

ماں اور ماموں نے میرا شکریہ ادا کیا، مگر بچے نے میری طرف دیکھا تک نہیں۔ شاید وہ اپنی ماں کی گود کے سوا کسی اور کو ماننے پر راضی نہ تھا۔ میں مسکراتے ہوئے اپنے گھر واپس آ گیا۔ رحیم سینٹر کا کام اگلے دن کے لیے رہ گیا۔

یہ واقعہ میرے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ گیا۔ میں یہ واقعہ لکھتے وقت سوچ رہا ہوں کہ بچپن کتنا نازک اور محبت بھرا دور ہے۔ ذرا سی دیر کے لیے بھی اگر بچہ ماں سے بچھڑ جائے تو دونوں کی جان پر بن جاتی ہے۔ مگر یہی بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو تعلیم، روزگار اور مصروفیات کے باعث مہینوں والدین سے دور رہتا ہے۔ اس دوران نہ وہ روتا ہے، نہ والدین بے قرار ہوتے ہیں۔ شاید یہ وقت اور حالات کی سختیاں ہیں جو انسان کو برداشت سکھا دیتی ہیں۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ محبت اور رشتوں کی اصل قیمت بچپن میں ہی نظر آتی ہے۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ بڑے ہو کر بھی والدین اور اولاد کے رشتے کو وہی اہمیت دیں، وہی قربت اور محبت قائم رکھیں جو بچپن میں ہمیں ایک دوسرے کے بغیر جینے نہیں دیتی۔ کیونکہ آخرکار یہی رشتے ہی ہماری زندگی کا اصل سکون ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں