
صدائے استاد کی تاثیر تو دیکھیے…/تحریر/محمد عبدالودود
دو روز قبل میں لاہور میں تھا کہ مغرب کے بعد مجھے ایک انجان نمبر سے میسج آیا، انہوں نے اپنا نام بتایا اور بات کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں مصروف تھا تو عذر کیا کہ فری ہو کر کرتا ہوں اور مصروفیت ایسی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اور یہ صاحب مسلسل کالز کر رہے تھے اور میرے پاس سوائے اگنور کرنے کے کوئی راستہ نہیں تھا…رات کے تقریباً 12 بجے بالآخر میں نے کال اٹھائی تو بڑی زور دار آواز گونجی:
“عبدالودود بھائی ابراہیم کاکڑ بات کر رہا ہوں، پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کا ڈپٹی ڈائریکٹر ہوں آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے”
اس ابتدائی گفتگو میں ہی اتنی اپنائیت تھی جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں…
خیر بات چیت شروع ہوئی تو بتانے لگے کہ:
“میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور میں اسلام آباد میں ہوتا ہوں، میرے بڑے بھائی بیوروکریٹ ہیں جو حافظ قرآن بھی ہیں اور ان کے تحت ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 22 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں…ہمارے ملک کے موجودہ حالات میں مجھے آپ کے جے ٹی آر سے بہت راہنمائی اور امید ملتی ہے…ایسے وقت میں جب کوئی بھی ہمارے بچوں کو اپنے وطن اور ریاست کے متعلق کچھ نہیں بتا رہا، جہاد اور فساد کا فرق خلط ملط کر دیا گیا ہے ہمیں جے ٹی آر اور حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب واحد امید نظر آتی ہیں…تو میری اور میرے بڑے بھائی صاحب کی خواہش ہے کہ آئندہ مفتی عبدالرحیم صاحب کی ہر نشست میں ہم اپنے 22 ہزار بچوں کو بھی لائیو ویڈیو لنک کے ذریعے شریک کیا کریں کیونکہ ہماری نئی نسل کو اسی راہنمائی کی ضرورت ہے جو حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دے رہے ہیں…!”
ابراہیم کاکڑ صاحب کی یہ گفتگو میرے لئے صرف مسرت ہی نہیں بلکہ امید کی بہت روشن کرن تھی کہ جب اپنوں میں ناقدری ہو تو اللہ باہر والوں کی دل موم کرتے ہیں اور وہ سچ کو سچے دل سے قبول کرنے کے واسطے خود بخود چلے آتے ہیں ماشاءاللہ
میں نے کاکڑ صاحب سے عرض کیا کہ یہ تو نہایت خوش آئند ہو جائے گا ان شاءالله تعالیٰ اور ان شاءالله ہم اس کی ترتیب بناتے ہیں…
بات ختم ہی ہونے والی تھی کہ کاکڑ صاحب نے کہا کہ جب بھی اسلام آباد آنا ہو تو قیام میرے ہاں ہو گا…میں نے بھی جواب میں ان شاءالله کہہ کر رسم نبھائی اور فون بند…
اتوار کے روز شام کو اسلام آباد پہنچا، ایک ایونٹ میں شرکت کے بعد مخلص دوست کمیل احمد معاویہ بھائی عشائیے پر لے گئے…ہم کھانا شروع ہی کرنے والے تھے کہ کاکڑ صاحب کا فون آیا:
عبدالودود صاحب کہاں ہو…؟
میں نے بتایا کہ ابھی شام میں اسلام آباد پہنچا ہوں، کچھ دوستوں کے ساتھ ڈنر پر ہوں ان شاءالله کل ملاقات کی ترتیب بناتے ہیں…
میرا اتنا کہنا تھا کہ میرے فون کے اسپیکر گونجنے لگے:
“عبدالودود صاحب آپ نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے، آپ نے سیدھا میرے پاس آنا تھا، آپ کہیں اور کھانا کیسے کھا سکتے ہیں، مجھے لوکیشن بھیجیں میں ابھی آ رہا ہوں… “😊
خیر بڑی مشکل سے انہیں اس وعدے کے ساتھ نارمل کیا کہ کل ان شاءالله رات کا کھانا آپ کے پاس ہو گا…
جواب میں دھمکی ملی کہ اگر آپ کل نہیں آئے تو میں چالیس پٹھان لے کر آپ کے پاس آؤں گا…😆
اس دھمکی کے بعد کچھ گنجائش تھی بھلا وعدہ خلافی کی…؟
خیر ہم پیر کی شام بھائی کمیل، بھائی عاصم اور بھائی ریحان کی ہمراہی میں کاکڑ صاحب کے دولت کدے میں جا پہنچے…ایسا محبت بھرا ویلکم اور ایسی مہمان نوازی کہ سبحان اللہ…
اس محفل میں ہمیں ابراہیم کاکڑ صاحب کے بڑے بھائی اسماعیل کاکڑ صاحب(بلیک کپڑوں والے) اور ان کے چھوٹے بھائی کیپٹن شعیب کاکڑ صاحب (ٹراؤزر شرٹ والے) نے بھی ہمیں جوائن کیا اور سب کی محبتیں لازوال و بے مثال تھیں…
ابراہیم کاکڑ صاحب خود ایک بہت بڑے ادارے کے اعلیٰ افسر ہیں ماشاءاللہ… پاکستان سے پہلے ابو ظہبی میں 6 سال اسی ڈیپارٹمنٹ کو لیڈ کرتے رہے ہیں… ان کی رپورٹنگ میں بہت سے محکمے کام کرتے ہیں، پھر ان کے باقی بھائی کوئی بیوروکریٹ کوئی کیپٹن اور کوئی بڑا بزنس مین… سب ہی حضرت استاد صاحب کے پیغام کو سینے لگائے ہوئے تھے…سبھی کو جامعۃ الرشید سے امیدیں وابستہ تھیں…یہ سب اپنے بچوں کے لئے جامعۃ الرشید اور اس کے پیغام کو نجات دہندہ مانتے تھے…ان سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اور یہ پیغام انہیں حضرت استاد صاحب کے سوا کہیں سے نہیں مل پایا اور اب صرف وہ خود نہیں بلکہ 22 ہزار طلباء بھی حضرت استاد صاحب کا ہر لیکچر اور پوڈ کاسٹ لائیو سنا کریں گے اور وہاں سے وہ روشنی پائیں گے جو اس ملک کے اندھیروں کا خاتمہ کرے گی ان شاءالله تعالیٰ…
ابراہیم کاکڑ صاحب کی یہ نشست صرف میرے لئے نہیں میرے ساتھ موجود ہر دوست کے لئے بہت خوشگوار تھی…
اگرچہ ابراہیم کاکڑ صاحب کا اصرار تھا کہ رات یہیں رکیں صبح ائیر پورٹ میں خود چھوڑ کر آؤں گا لیکن اگلی بار قیام کا وعدہ کر کے اور چالیس پٹھانوں کی دھمکی لے کر ہم نے اجازت لی…
واپسی پر بھائی کیمل احمد معاویہ نے ایک بہت پیارا جملہ کہا جس دل باغ باغ کر دیا…
وہ کہنے لگے کہ:
“آج کی ملاقات سے یہ یقین ہو گیا کہ اگر آپ لوگوں کی خواہش کے مطابق بولنے کے بجائے حق اور سچ بولیں تو پھر اللہ وہ بات ایسے لوگوں تک پہنچاتا ہے جو تنہا ہزاروں کے ہجوم سے بہتر اور مؤثر ہوتے ہیں اور اللہ حضرت استاد صاحب کے پیغام واقعی پہنچا رہا ہے الحمدللہ… ”
الحمدللہ میں خود ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ لوگوں کے جذبات اور خواہشات کے مطابق چلنے کے بجائے جسے حق سمجھوں اس کے مطابق لوگوں کو چلانے کی کوشش کروں ں…اور یہ سفر قطعا آسان نہیں ہے…گالم گلوچ، ذاتیات پر حملے، جان لینے کی دھمکیاں یہ سب سہنا پڑتا ہے…آپ کو اپنے ہی حلقوں میں مشکوک بنا دیا جاتا ہے…آپ ناقابلِ قبول قرار دیے جانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر وہ ہے نا جو ہر چیز پر قادر ہے…جس کے پاس عزت و ذلت کے خزانے ہیں…جو جس کے دل کو جس سمت چاہے پھیر دینے کا مختار ہے…وہ اپنے مخلص بندوں کی کوششوں کو ہمیشہ ثمر آور کرتا ہے…