
ڈگری کا رد کیوں کرتے ہیں؟/تحریر/سدرہ نسیم
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کچھ لوگ اتنی شدت سے ڈگری کا رد کیوں کرنے لگے ہیں؟ کہ یونیورسٹی نہیں جائیں، کالج نہیں جائیں، بزنس شروع کرلیں، یہ کرلیں وہ کرلیں۔۔۔
یار سیریسلی؟؟؟؟؟ سارے انسانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا یہ کون سا فارمولا ہے؟ ہر انسان اپنے آپ میں ایک انجمن ہے، خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے ۔۔سب بزنس کیسے کرسکتے ہیں؟ اور سب جاب کیسے کرسکتے ہیں؟ ہر بندے کے ذاتی رحجانات ہوتے ہیں۔۔اور میں سمجھتی ہوں کہ اپنے بزنس سے پہلے بھی آپ کو جاب کا تجربہ ضرور حاصل کرنا چاہیے، آپ کا وقت اور ریسورسز بچیں گے اور بےحد سیکھیں گے، اچھا پھر جس نے بزنس کرنا ہے وہ کیوں نہ پڑھے؟؟؟ ایک طرف میٹرک پاس بزنس مین ہے اور ایک طرف ایم ایس یا ایم بی اے ڈگری ہولڈر ہے اور دونوں کا کامیاب بزنس ہے، لوگ اس کی بات زیادہ سنیں گے جو پڑھا لکھا ہے، جس کو اپنی بات کی دلیل دینی آتی ہے، جو نیشنل انٹرنیشل لیول پر اپنے بزنس کی نمائندگی انتہائی سلجھے ہوۓ اور پڑھے لکھے انداز میں کرسکتا ہے۔۔۔جو نہیں پڑھے گا، سیٹھ بنے گا کل کو اس کی لیڈرشپ اتھارٹی بیسڈ ہوگی، ڈر کی وجہ سے لوگ اس کی عزت کریں گے مگر دل سے اس کی بات کو ویلیو نہیں دیں گے۔۔کیوں؟ کیوں کہ اس کے بزنس/کمپنی کے ایمپلائز اس سے زیادہ پڑھے لکھے اور عقلمند ہوں گے، فرنٹ پر وہ خود آ ہی نہیں پاۓ گا کہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق نہ وہ بول سکتا ہے نہ وہ سوچ سکتا ہے۔۔۔
اس کے برعکس ایک پڑھا لکھا شخص انسپایریشنل لیڈر ہوتا ہے، اس کی ٹیم دل سے اس کو فالو کرتی ہے اس کے ساتھ چلتی ہے کیوں کہ وہ راستہ بناتا ہے، دکھاتا ہے اور ساتھ لے کر چلتا ہے۔۔
ایسے ہی پڑھ کر بہت سارے بچے ڈاکٹر بنتے ہیں، اور ہمیں ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے، ٹیچرز بنتے ہیں ہمیں ان کی بھی ضرورت ہے، انجینیرز بنتے ہیں ہمیں ان کی بھی ضرورت ہے، فیشن ڈیزائنر بنتے ہیں، آرٹسٹ بنتے ہیں بہت کچھ بنتے ہیں اور سب شعبوں کی بے حد اہمیت ہے،
ہم نے کیوں سب کو ہی بزنس کروانا ہے یا فری لانسر بنانا ہے یا پھر ان پڑھ رکھنا ہے؟؟؟ ہر ایک فیلڈ سب کے لیے نہیں ہوتی، ہاں جاب کے ساتھ ، یا سٹوڈنٹ لائف کے ساتھ پارٹ ٹائم فری لانسنگ کریں، بزنس کریں کوئ ہنر سیکھیں، یہ بہت ضروری ہے کہ ڈگری مکمل ہونے تک ساتھ ساتھ کما بھی رھے ہوں گے۔۔۔لیکن ڈگری کے پیچھے پڑجانا، تعلیم سے قوم کو دور کرنا، متنفر کرنا یہ کسی طور بھی درست عمل نہیں ہے۔۔۔جن ممالک کی آپ مثالیں دیتے ہیں وہ ہم سے لاکھ گنا زیادہ پڑھےلکھے، اور ہنر مند ہیں، تعلیم اور تحقیق دونوں میدانوں میں ہم سے آگے ہیں۔۔اور بے حد پروڈکٹو ہیں۔۔
ہم ان کو فالو نہ بھی کریں، اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اسوہ حسنہ کو فالو کریں تب بھی قرآن کی پہلی وحی اقراء یعنی پڑھ کی ہے۔۔علم حاصل کرنا مردوعورت دونوں پر فرض ہے۔۔اور علم درسگاہوں میں ہی ملتا ہے، خود سے پڑھ کر کوئ ارسطو یا افلاطون نہیں بن جاتا ، سب کو استاد کی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔۔
خدارا ، اپنا بیانہ پروموٹ کرنے کے لیے تعلیم کے میدان کو جنگ کا میدان نہیں بنائیں اور نہ ہی لوگوں کو اس سے دور کریں۔