ہنستا بستا مدرسہ تباہ ہو گیا/تحریر/ظفر جی
شب 9 بجے مولوی عبداللّه سے ملاقات طے ہوئی- فون پر انہوں نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس سمجھایا اور میں نکل پڑا- اجتماعی قربانی کے اشتہار سے ان کا نمبر ملا تھا- میرا ارادہ گائے میں حصّہ ڈالنے کا تھا-
گھر کی نشانیاں بہت واضح تھیں- فلٹر پلانٹ سے تھوڑا آگے کمانڈنٹ ہاؤس سے دائیں جانب ٹرانسفارمر والی گلی میں ڈیڑھ دو سو قدم پر کیلے کا جھنڈ ہے- اس کی مخالف جانب تین جامن کے درخت جن کے نیچے ایک پختہ بنچ بنا ہوا ہے- اس کے ساتھ جو کالا دروازہ ہے اسے کھٹکانا ہے-
خدا کا شکر کہ مولوی صاحب گھر سے باہر گلی میں ہی مل گئے- مزید شکر کہ ہم دونوں نے دیکھتے ہی ایک دوسرے کو پہچان لیا- 5 سال قبل وہ ہمارے محلے کے پیش امام ہوا کرتے تھے- پھر دوبئی میں کہیں امامت آفر ہوئی تو وہاں چلے گئے اور ہم بھی کراچی چلے آئے-
مولوی صاحب بڑے تپاک سے ملے- حال احوال دریافت کیا- کراچی سے کب آئے؟ یہاں کب سے ہو- بیٹا کیسا ہے؟ وغیرہ- میں نے پوچھا، آپ دوبئی سے کیوں لوٹ آئے؟
اس بات پہ وہ دکھی ہو گئے اور بولے، اچھا سلسلہ بن گیا تھا وہاں لیکن ظفر بھائی لوٹنا پڑا- مدرسہ تباہ ہو رہا تھا- بس اس پریشانی نے وہاں ٹکنے نہ دیا کہ برسوں کی محنت برباد ہو رہی ہے-
کہاں ہے مدرسہ آپ کا؟
نیشنل ہائی وے پر ٹول پلازہ کے پاس-
میں نے کہا ، دوبئی جانے سے پہلے مدرسہ کسی کو سونپ کر جاتے تو بہتر تھا-
فرمایا ، ظفر بھائی سونپ کر ہی گیا تھا ، لیکن غلطی سے ایک تبلیغ والے بزرگ کو سونپ بیٹھا- انہوں نے پورا نظام ہی برباد کر دیا- مجبوراّ مجھے واپس آنا پڑا-
یہاں تک پہنچ کے مولوی صاحب سانس لینے کو رکے تو میں نے اپنا مدعا پیش کر دیا- “اچھا چھوڑیے- یہ بتائیے کہ کس جانور میں ہمارا حصّہ ڈال سکتے ہیں- گائے بیل ویہڑا بھینس کٹا ؟
یہ سن کر وہ کھلکھلا اٹھے- گھر کے باہر بنے پختہ بنچ پہ ہمیں بٹھایا اور فرمایا، ابھی تک صرف تین ہی جانور ہوئے ہیں- تیسرے میں آپ کو شامل کر دیں گے- قربانی کی ٹینشن نہ لیں- آپ بیٹھیں میں آپ کےلیے پانی لے کر آتا ہوں-
یہ کر وہ اندر چلے گئے اور میں ان کا باغیچہ دیکھنے میں مصروف ہو گیا- کوئی 5 منٹ بعد واپس آئے تو ہاتھ میں روح افزا کا بھرا ہوا جگ تھا-
ٹھنڈے ٹھار تخم بالنگو والے شربت کا لطف لیتے ہوئے میں نے کہا، لگتا ہے آپ بھی میری طرح پھول پودوں کا ذوق رکھتے ہیں- بڑا ہی خوب صورت باغ بنایا ہے اور کیلوں نے تو خوب بہار بنا رکھی ہے-
اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں- میں نے قربانی کےلیے ادائیگی کی اور خدا حافظ کہا-
واپس گھر آتے ہوئے خیال ہوا کہ پوری کہانی تو سنی ہی نہیں- کاش سن لیتا- قربانی کی ٹینشن نہ ہوتی تو مولوی عبداللہ کو مزید کریدتا- خیر اب کیا ہو سکتا ہے- کانوں میں بار بار ان کا جملہ گونجنے لگا- “ایک تبلیغی بزرگ کو مدرسہ سونپ کر گیا تھا اس نے سارا نظام ہی تباہ کر دیا”
سوچا اس قصّے کی تفصیل معلوم کرنا چاہیے- کہانی بن سکتی ہے-
رات گئے تک یہ جملہ دماغ سے چپکا رہا اور سوچتا رہا کہ اگر پورا قصّہ مل جائے تو ایک دھماکہ کہانی بن سکتی ہے- کاش تفصیل جان لی ہوتی- اب تو قربانی والے دن ہی ملاقات ہو گی- اس روز تو مصروف ہونگے- کریدوں گا تو شک کریں گے-
رات بھر اٹکل پچو لگاتا رہا- یوں بیٹھے بیٹھے ایک کہانی تیار ہو گئی- کمال کا پلاٹ تھا- کیسے ایک تبلیغی بزرگ نے ہنستا بستا مدرسہ برباد کر دیا- ضرور مدرسہ ہاتھ میں آتے ہی فضائلِ اعمال کا درس شروع کروا دیا ہو گا- مدرسے میں تبلیغی جماعت کا آنا جانا بڑھ گیا ہو گا- انہوں نے طلباء کو بتایا ہو گا کہ خدا کا دین مٹ رہا ہے اور تم مدرسے میں بیٹھ کر صیغے یاد کرتے ہو؟ کل قیامت کو کیا جواب دو گے- طلباء جو پہلے ہی سبق سے تنگ ہوں گے بستر باندھ کے چل پڑے ہونگے- مدرسہ خالی ہو گیا ہو گا-
مولوی عبداللہ جو دوبئی کی ٹھنڈی ٹھار مسجد میں امامت کر کے ریال سمیٹ رہے ہوں گے انہیں بچوں کے والدین کی شکایات پہنچی ہونگی کہ نورِ نظر آپ کے حوالے کیا تھا- بھیجا اوکاڑے تھا، گھوم زیارت میں رہا ہے- پیدل جماعت میں- یا سوات کی کسی مسجد میں خدمت پہ مامور ہے-
صبح صادق تک کہانی تیار ہو چکی تھی- سوچا پوسٹ کر دوں- فیس بک پہ لگا کے بٹن دبانے ہی لگا تھا کہ خدا کا خوف لاحق ہوا- جھوٹ لکھ کر واہ واہ سمیٹنا بھلا کون سی کامیابی ہے- پھر معاملہ بھی خاص دینی جماعت کا ہے- اٹکل پچو سے پرہیز کرنا چاہیے- ہاں مولوی عبداللّہ صاحب اگر مہرِ تصدیق ثبت کر دیں تو اور بات ہے-
سوچا اب کہاں ملیں گے؟ دن بھر تو مدرسے میں ہوتے ہیں- 2 بجے گھر آتے ہیں- ساڑھے تین بجے کچھ دھوپ کم ہو گی تو نکلوں گا- مگر بہانہ کیا کروں گا؟ یوں سیدھ سبھاؤ جا کر کہنا کہ کل والی کہانی سنائیں ، انہیں شک میں ڈال دے گا- تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے !!
سوچتے سوچتے دن گزر گیا- شام ہوئی تو اک بہانہ ہاتھ آ ہی گیا اور کہانی پر مہرِ تصدیق ثبت کروانے نکل پڑا-
ٹرانسفارمر والی گلی میں مڑا اور کیلے کے جھنڈ کے پاس جا کر بریک لگائی – کچھ دیر وہاں کھڑے ہو کر باغیچے کو دیکھتا رہا- پھر ڈرتے ڈرتے دستک دی- کافی دیر بعد جا کر پٹ کھلا- ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ، سفید عمامہ سنبھالتے مولوی صاحب باہر نکلے اور پوچھا ، خیریت؟
میں نے کہا ، بے وقت آمد کےلیے معذرت خواہ ہوں- دراصل کل شب آپ کے باغیچے میں کیلے کا جھنڈ نظر آیا تو دل میں ایک آرزو مچل اٹھی- ایک کیلا چاہیے … مطلب کیلے کا پودا-
سکون کی ایک لمبی سانس لے کر وہ بولے، اچھا اچھا- میں ابھی کھرپا لے کر آتا ہوں-
کچھ دیر بعد وہ لوٹے تو لمبا سا ایک کھرپا ہاتھ میں تھا- ہم دونوں کیلوں کے جھنڈ کی طرف چل پڑے- چپ چاپ انہوں نے کیلے کا ایک پودا نکال کر مجھے دیا اور بولے ، اور کوئی خدمت؟
یہ آخری موقع تھا ورنہ کہانی ادھوری رہ جاتی- بمشکل الفاظ جوڑتے ہوئے کہا، حضرت وہ رات آپ کسی تبلیغی بزرگ کا ذکر فرما رہے تھے جنہوں نے آپ کے مدرسے کو برباد کیا- وہ کہانی سننا چاہتا ہوں- کیا وہ طلباء کو چِلّے کی جماعت میں لے گئے تھے؟
” ارے نہیں نہیں … ایسا کچھ نہیں ہوا ” وہ کھرپا جھاڑتے ہوئے بولے-
یہ سنتے ہی میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا- یوں لگا جیسے قاری صاحب نے میری بنی بنائی کہانی کو لات مار دی ہو- موہوم سی امید پر پوچھا:
“شب جمعہ پر تو ضرور لے کر گئے ہوں گے؟”
“ارے نہیں یار ، بچوں کو کون لے کر جاتا ہے تبلیغ پہ- ہمارے اور ان کے بیچ صرف چندے پہ اختلاف ہوا تھا”
یہ سن میں مایوس سا ہو گیا- پوری کہانی اب تبدیل کرنا پڑے گی اور موضوع تبلیغ کی بجائے چندہ ہو گا- چنانچہ کریدنے کو مزید پوچھا:
“چندے پہ کیا اختلاف ہوا تھا حضرت؟”
وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولے:
“ظفر بھائی ، وہ صاحب مدرسے کو چندے پہ چلانا چاہتے تھے جب کہ میں فی سبیل اللّه چلاتا آیا ہوں-”
“فی سبیل اللّه ؟ یعنی آپ اپنے مدرسے کو بغیر چندے کے چلاتے ہیں؟”
“جی ہاں- میں کوئی چندہ مہم نہیں چلاتا !!”
“یعنی …. اپنے پاس سے سارا خرچہ پورا کرتے ہیں؟”
” اللّه پورا کرنے والا ہے، ہم کون ہیں”
” وہ تو ٹھیک ہے- اللّه ہی پورا کرتا ہے لیکن اس کےلیے کوئی سورس آف انکم بھی تو ہونی چاہیے- کیا آپ بڑے زمین دار ہیں ؟
نہیں..
بزنس کرتے ہیں؟
نہیں ….
کوئی دیگر ذریعہِ آمدنی؟
کچھ نہیں ….
پھر مدرسہ کیسے چلا رہے ہیں؟
اللّه چلا رہا ہے ….
مثلاً … کیسے؟ … روٹی کیسے پوری کرتے ہیں؟
کمال بات کرتے ہو ظفر صاحب ! آپ دین کا کام کر رہے ہیں اور اللّه پاک سے روٹی کے دو لقمے نہیں لے سکتے تو جنّت کیسے لیں گے؟
آپ پہ من و سلوی اترتا ہے؟
نہیں … لیکن مالک بہت اچھا کھلا پلا رہا ہے- اپنے مدرسے کےلیے میں نہ تو کسی سے چندہ مانگتا ہوں نہ صدقہ کےلیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں- پورے خلوص سے طلباء کو پڑھاتا ہوں- ان کےلیے اللّه سے مانگتا ہوں- پھر جو کچھ آ جاتا ہے تو من جانب اللّه تصوّر کر کے قبول کر لیتا ہوں-
تو اس تبلیغ والے بزرگ نے کیا کیا تھا؟
” سب سے پہلے انہوں نے علاقے بھر کا سروے کیا- صاحبِ استعطاعت لوگوں کی لسٹ بنائی- پھر طلباء کو رسیدیں پکڑائیں اور ایک ایک کے پاس بھیج کر چندہ مانگنا شروع کر دیا- آج کے طلباء کل کے استاد ہیں- مانگنے کی لت لگ گئی تو کل یہی درس وہ اپنے طلبا کو دیں گے”
لیکن چندہ تو آپ بھی لے رہے ہیں؟
“ظفر بھائی چندہ مانگنے اور صدقات قبول کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے- میں اپنے طلباء کو توکل کا درس دیتا ہوں کہ اپنی ضرورریات رب تعالی کے آگے رکھو وہ پوری کرنے والا ہے- جب کہ وہ انہیں چندے کی لت لگا رہے تھے- بس یہ اختلاف تھا”
میں نے کہانی لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا- قاری صاحب سے ہاتھ ملایا ، کیلے کا پودا ہاتھ میں لیا اور گھر واپس آ گیا-
مگر یہ کہانی کنڈلی مار کے میرے دماغ میں بیٹھ گئی- جتنا اس پہ غور کرتا گیا ، اتنے ہی اسباق مجھ پہ ظاہر ہوتے گئے- سب سے بڑا سبق یہ ملا کہ مجھے خود بھی قاری صاحب کے نقشِ قدم پہ چلنا چاہیے-
صدقات کا ایک نظام میں بھی چلا رہا ہوں- غریب مریضوں کا خاطر خواہ علاج کراتا ہوں اور اس کےلیے کبھی کبھار فیس بک پہ چندہ بھی مانگ لیتا ہوں-
اکثر لوگ تصاویر اور ویڈیوز پسند کرتے ہیں- چندہ دینے والے دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کا دیا ہوا پیسہ کہاں اور کیسے سرف ہو رہا ہے- اس کےلیے آئے روز کوئی نہ کوئی نوٹنکی کرنا پڑتی ہے-
اس سب سے بہتر نہیں کہ بندہ اپنی کیپسٹی میں اپنے پیسوں سے یہ کام کرے- ہاں کوئی بڑا تقاضا آ جائے تو رب تعالی سے سوال کرے- اگر آپ کے کام میں خلوص ہوا تو وہ کسی نہ کسی کو دستگیری کےلیے بھیج دے گا- پھر جو مدد پہنچے اس کےلیے رب تعالی کا شکرگزار ہوا جائے-
صبح شام چندے کی کاپی اٹھا کے پھرنا ضروری ہے کیا ؟
مولانا عبداللّه کا دیا ہوا سبق سمجھنے میں اگرچہ کافی وقت لگ گیا لیکن یہ ایک بہترین سبق ہے اگر کوئی سمجھے-
ہنستا بستا مدرسہ تباہ ہو گیا/تحریر/ظفر جی