0

ڈیجیٹل فحاشی اور موبائل فون کے منفی اثرات / تحریر /سید عدیل گیلانی

ڈیجیٹل فحاشی اور موبائل فون کے منفی اثرات
تحریر: سید عدیل گیلانی

دنیا آج ٹیکنالوجی کے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ سائنس اور ڈیجیٹل ترقی نے زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، مگر اسی سہولت نے ہماری اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔موبائل فون، جو کبھی محض رابطے، تعلیم اور معلومات کا ذریعہ تھا، اب فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا، ویڈیو شیئرنگ ایپس اور چیٹنگ پلیٹ فارمز نے نئی نسل کو ایسے جال میں جکڑ لیا ہے جہاں سے واپسی اب آسان نہیں۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، بیگو لائیو، ٹیلیگرام اور دیگر خفیہ ایپس پر عریانیت اور غیر اخلاقی مواد معمول بن چکا ہے۔ صرف ایک کلک انسان کو ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں نہ شرم ہے، نہ حیاء، نہ کوئی اخلاقی حد۔ ماہرین کے مطابق فحش مواد دیکھنے سے انسانی دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں میں برداشت، محنت، اور مثبت سوچ کی جگہ جلد بازی، بے صبری اور بے راہ روی لے لیتی ہے۔ تعلیم اور مقصدیت پیچھے رہ جاتی ہے، جبکہ ذہنی و اخلاقی انتشار بڑھنے لگتا ہے۔
آج ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ غیر اخلاقی ویڈیوز شیئر کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ “دوستی” کے نام پر بے حیائی عام ہو گئی ہے، اور معاشرتی اقدار تیزی سے زوال پذیر ہیں۔کبھی نیٹ کیفے تحقیقی کاموں کے مراکز ہوا کرتے تھے، مگر اب وہ بیشتر مقامات پر فحش ویب سائٹس دیکھنے، ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے اور خفیہ چیٹنگ کے اڈے بن چکے ہیں۔ کئی کیفے مالکان خود بھی اس غیر اخلاقی کاروبار میں شریک ہیں۔اگر پاکستان میں ایسی چیزوں کی روک تھام کی بات کی جائے، ان کے لئے قانون تو موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ درجنوں ویب سائٹس اور ایپس کھلے عام کام کر رہی ہیں جو نوجوانوں کے کردار کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ والدین کی مصروفیت، غفلت بھی اس بگاڑ میں بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ زیادہ تر والدین سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ صرف یوٹیوب یا گیمز کھیل رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ خفیہ ایپس کے ذریعے گمراہی کی راہوں پر جا رہا ہوتا ہے۔تربیت کا مطلب صرف کھانا، لباس اور تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کے ذہن، نظریات اور دوستیوں پر بھی نگاہ رکھنا ہے۔ اگر والدین خود ڈیجیٹل شعور نہیں رکھتے تو وہ اپنی اولاد کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟یہ فحاشی پھیلانے والے پلیٹ فارم صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی رویوں کا نتیجہ ہیں۔ جب ہم فحش مواد کو نظر انداز کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں تو دراصل ہم اس جرم کے شریک بن جاتے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فحش ویب سائٹس پر مستقل پابندی لگائے، انٹرنیٹ فلٹرنگ کو مؤثر بنائے اور تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل اخلاقیات شامل کرے۔ والدین بچوں کے موبائل فون میں نگرانی کے نظام لگائیں، جبکہ اسکول و کالجز میں اخلاقی تربیت کے پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔قوموں کی بنیاد کردار پر ہوتی ہے، اور جب کردار گر جائے تو قومیں بظاہر زندہ مگر حقیقت میں مردہ ہو جاتی ہیں۔فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے—
کیا ہم اپنی نئی نسل کو فحاشی کے سیلاب میں بہنے دیں گے یا ایمان، اخلاق اور علم کے ذریعے انہیں محفوظ کریں گے؟اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی تو آنے والا کل ہم سے ضرور سوال کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں