آج بندہ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے دفتر حضرت مولانا اللّٰہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضرہوا تو اس موقع پر حضرت سے خصوصی نشست رہی
اس سوال کے جواب میں کہ احتسابِ ناصبیت نامی جو کتاب جو مجلس کی طرف سے مرتب کی گئی ہے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کا مقصد کیا ہے؟
حضرت نے فرمایا:
“یہ کتاب میری نہیں ہے نہ میں اس کا مصنف ہوں نہ مؤلف اور نہ ناقل بلکہ ہم صرف اس کے ناشر ہیں یہ کتاب دراصل ہمارے اکابرین کی کتب و تحریرات کا مجموعہ ہے اور مقصد صرف یہ تھا کہ ان حضرات کی وہ تمام کتب اور تحاریر ایک جگہ جمع ہو جائیں جن میں اہلِ بیتِ اطہار کی فضیلت عظمت شان اور محبت کے تذکرے اور ان کا تحفظ و دفاع ہے
حضرت نے مزید فرمایا:
“اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس دور میں ناصبیت کس رنگ میں اور کہاں موجود ہے تو وہ ناصبیت کو سمجھے اور ان کی کھوج لگائے تو آپ آگاہ ہو جائیں گے کہ وہ کہاں کہاں اور کس کس رنگ میں موجود ہیں”
اس موقع پر عرض کیا گیا کہ اگر اکابرین کی کتب کے اس مجموعہ میں جہاں جہاں وضاحت کی ضرورت محسوس ہو وہاں مناسب وضاحت بھی شامل کر دی جائے تو نزاع رفع ہوجائے گا
حضرت نے فرمایا کہ کیا آپ نے کتاب پڑھی ہے تو سب خاموش ہوگئے تب انہوں نے فرمایا کہ ہم نے خود بھی نہایت کھل کر تنبیہات کی شکل میں تمام وضاحتیں لکھیں ہیں اور اکابرین کی طرف سے بھی جہاں جہاں وضاحتیں کی گئی ہیں وہ بھی کتاب میں موجود ہیں پھر حضرت نے کتاب منگوائی اور خود ان مقامات کی نشان دہی فرمائی جہاں وضاحتیں شامل کی گئی ہیں جس پر سب نے اظہارِ اطمینان کیا
دورانِ گفتگو یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے
حضرت نے فرمایا:
“کیا آپ نے وہ مقامات کو پڑھے ہیں ؟”
مجلس میں پھر خاموشی چھا گئی
اس پر حضرت نے فرمایا کہ جو حضرات اس کتاب کے بارے میں سوالات اور اعتراضات کر رہے ہیں دراصل انہوں نے کتاب کا مطالعہ نہیں کیا اگر وہ کتاب سیاق و سباق کے ساتھ اور علمی اصطلاحات کی روشنی میں پڑھ لیں تو ان کے ذہنوں میں موجود بہت سی شدت ختم ہو جائے گی اور ان کی گفتگو کا انداز بھی بدل جائے گا
حضرت نے مزید واضح فرمایا کہ:
“ہمارے اکابرین کی طرف سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی پر مشتمل کوئی عبارت نہیں ہے بلکہ جہاں گستاخانہ عبارات نقل کی گئی ہیں وہ ان لوگوں کی اپنی عبارات ہیں جنہوں نے گستاخی کی ہے اور ان کے جواب بھی ساتھ نقل کیے گئے ہیں”
حضرت نے فرمایا کہ یہ تمام تحاریر اکابرین کی ہیں اگر موجوہ اہلِ علم ان اکابرین کی تحریرات میں کسی مقام پر مزید وضاحت یا تشریح ضروری سمجھتے ہیں تو وہ اس کتاب میں اضافہ جات فرمادیں ہم اسے موجودہ اکابرین کے حوالے کے ساتھ من و عن شائع کرنے کے پابند ہونگے
حضرت نے یہ بھی بتایا کہ بعض حضرات نے انہیں فون کرکے بعض مقامات پر مزید اضافہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا حضرت نے ان سے فرمایا:
“آپ وہ وضاحتیں لکھ کر بھیج دیں ہم آپ کی تحریر کو آپ ہی کے نام سے بغیر کسی حرف کی تبدیلی کے شائع کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
دورانِ مجلس میں نے عرض کیا کہ عمار خان یاسر نے مفتی عبد الواحد قریشی صاحب کی پوڈکاسٹ نشر کی ہے میں نے ان سے بات کی کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی بھی پوڈکاسٹ نشر کریں تاکہ تمام الزامات ابہامات کا قلع قمع ہوجائے
انہوں نے بتایا کہ میری حضرت سے بات ہوئی ہے
حضرت نے فرمایا:
“جی ہاں انہوں نے مجھے دعوت دی تھی لیکن میں نے اسے اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں ایسی کوئی بات صادر نہ ہو جائے جو آگ پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ہو اور جس سے موجودہ حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو۔”
جب حضرت سے پوچھا گیا کہ بہت سے لوگ مجلس تحفظِ ختم کو نشانہ بنارہے ہیں
تو حضرت نے نہایت دکھ کے ساتھ فرمایا کہ اگر میں نے اہلِ بیت کی شان اور ان کی محبت میں اکابرین کا تحریری مواد یکجا کرکے جرم کیا ہے تو مجھے ذبح کردیتے میرا قیمہ بنا دیتے
میں میرے ماں باپ میری اولاد میرا سب کچھ صحابہ کرام و اہلِ بیت پر قربان
لیکن مجھے دکھ اور تکلیف اسی بات کا ہے کہ ہمارے اپنوں نے ختمِ نبوت کے کام اور مشن کو نشانہ بنایا ہے
فرمانے لگے کہ ہمارے بغض میں ناقدین نے ہمارے اکابر پرسب و شتم کیا ہے حالانکہ ہمارے اکابرین اور ان کی شامل کتب میں کہیں بھی کسی ایک صحابی کی شان میں بھی گستاخی کا تصور تک موجود نہیں
پھر فرمانے لگے کہ عنقریب عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے تحت حضرات اصحابِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و شان میں اور ان کے مخالفین کی نیندیں حرام کردینے والی والی کتب بھی شائع ہونے والی ہیں
اس سوال کے جواب میں کہ قریشی صاحب نے کہا ہے کہ ہم آپ سے کئی ماہ سے رابطہ کررہے ہیں مگر آپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا
تو حضرت نے فرمایا کہ واللّٰہ العظیم ایک بار بھی انہوں نے ہم سے رابطہ نہیں کیا
احباب نے عرض کیا حضرت معاملے کی وضاحت کے لیے جلسے کیے جانے چاہیے تو فرمایا کہ ہم مزید تناؤ پیدا نہیں کرنا چاہتے
آہستہ آہستہ دھول بیٹھے گی اور منظرنامہ صاف ہوجائے گا
مجلس میں موجود حضرات علماء کرام زیدشرفھم نے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے سوشل میڈیا پر فتنہ اٹھایا اور اس کو شہہ دی نہایت ہی بدگمانی عجلت پسندی شرپسندی کم علمی ہیجان انگیزی جذباتیت اور اصطلاحات سے ناواقفی اور شہرت پسندی قرار دیا
جس پر حضرت بلکل خاموش رہے
فرمایا کہ میں عند اللّٰہ مطمئن ہوں اور اپنا معاملہ اللّٰہ کے حوالہ کرتا ہوں
دورانِ گفتگو حضرت نے فرمایا کہ آپ کی یہ مجلسِ تحفظِ ختمِ صرف ختمِ نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانیت کا تعاقب نہیں کررہی بلکہ رافضیت خارجیت ناصبیت اور تمام باطل فرقوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے
الحمدللہ! حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی گفتگو عزم و ہمت اور بلند حوصلوں سے بہت اطمینان اور تسلی ہوئی کہ ہمارے اکابرین ان حالات میں بھی اکابرین کی آراء اہلِ علم کے مشوروں اور امت کے اتفاق و اجماع کی رعایت کو اہمیت دیتے ہیں
یہ طرزِ گفتگو اس بات کی واضح علامت ہے کہ مقصد کسی قسم کی کشیدگی پیدا کرنا نہیں بلکہ اکابرین کی علمی میراث کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقت کی وضاحت غلط فہمیوں کا ازالہ اور علمی انداز میں حق بات کو واضح کرنا ہے
اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کی حفاظت فرمائے ان کی مساعئ جمیلہ کو قبول فرمائے امت کو باہمی اختلافات اور فتنوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں حق بات سمجھنے کہنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہم سب کی حفاظت فرمائے
آمین یارب العالمین
محمد احمد ادریس مدیر جامعہ دارالعلوم رحیمیہ ملتان
0