0

عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے تناظر میں ایک جائزہ/تحریر/ڈاکٹر عثمان کاظمی

آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی کی دوڑ نے انسان کو سہولتیں تو بے شمار میسر کر دیں مگر بدلے میں فطرت کا سکون، موسموں کا توازن اور زمین کی سانسیں چھین لیں۔ کبھی دریا خاموشی سے بہتے تھے، جنگلات ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے، بارشیں رحمت بن کر برستی تھیں اور موسم اپنی حدود پہچانتے تھے مگر آج ہر موسم جیسے احتجاج کر رہا ہے۔ کہیں بے وقت بارشیں تباہی مچا رہی ہیں، کہیں شدید گرمی انسانوں اور جانوروں کو جھلسا رہی ہے، کہیں خشک سالی زمین کی زرخیزی نگل رہی ہے اور کہیں گلیشیئر پگھل کر آنے والے خطرات کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

انسان صدیوں سے فطرت سے سیکھتا آ رہا ہے۔ پرندوں نے اُڑنا سکھایا، دریاؤں نے آبی گزرگاہیں بنانا، پہاڑوں نے ڈٹے رہنا، درختوں نے خاموشی سے دوسروں کے لیے جینا، شہد کی مکھیوں نے نظم و ضبط، چیونٹیوں نے تدبیر کرنا اور موسموں نے تبدیلی کو قبول کرنا سکھایا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس فطرت سے انسان نے زندگی کے یہ انمول اسباق سیکھے، آج اُسی فطرت کو اپنے ہاتھوں روند رہا ہے۔ آج سائنس دان بھی یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے فطرت پر مبنی حل سب سے مؤثر ہیں۔ جنگلات کاربن جذب کرتے ہیں، دلدلی علاقے سیلاب کم کرتے ہیں، درخت گرمی کم کرتے ہیں، سمندر زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں، جبکہ حیاتیاتی تنوع پوری زندگی کے نظام کو قائم رکھتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں موسم پہلے ہی شدت اختیار کر رہے ہیں، فطرت کا تحفظ اب محض حسن و جمال کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ بقا کا ایک بنیادی سوال بن گیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے موسمیاتی تبدیلی کے وہ مناظر دیکھے ہیں جو کبھی محض خدشات سمجھے جاتے تھے۔ کہیں جنگلات مہینوں تک آگ کے شعلوں میں لپٹے رہے، کہیں سمندری طوفانوں نے آباد بستیاں لمحوں میں ویران کر دیں اور کہیں شدید گرمی کی لہروں نے ہزاروں زندگیاں نگل لیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت اپنے بگڑتے توازن کی داستان مختلف زبانوں میں سنا رہی ہو مگر انسان اب بھی اسے سننے کے لیے پوری طرح آمادہ نہیں۔ اس تمام صورتحال کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل نہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ کاربن خارج کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برداشت کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے۔ گویا جس آگ کو دوسروں نے بھڑکایا، اُس کی تپش ہم بھی محسوس کر رہے ہیں۔ یہی ناانصافی موسمیاتی بحران کو محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے عالمی انصاف، انسانی بقا اور مشترکہ ذمہ داری کا سوال بنا دیتی ہے۔

آج شہروں میں درختوں کی جگہ کنکریٹ کے جنگل پھیل رہے ہیں۔ زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدل رہی ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں سانسوں میں زہر گھول رہا ہے۔ پلاسٹک ہماری زمین، دریا اور سمندروں کو نگل رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے اکثر فیصلے وقتی، سیاسی یا معاشی فائدوں کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں جبکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پانی، خوراک اور صاف ہوا تک رسائی سب سے بڑے عالمی بحران ہوں گے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ سے بھی سوال کریں اور اقتدار کے ایوانوں سے بھی جواب طلب کریں کہ ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے کیسی دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
ایسی دنیا جہاں گرمی ناقابلِ برداشت ہو؟
جہاں پانی خریدنا پڑے؟
جہاں بارش رحمت کے بجائے تباہی بن جائے؟
جہاں درخت صرف تصویروں میں نظر آئیں؟

یہ سوالات محض ماحولیات کے نہیں، انسانیت کے مستقبل کے سوالات ہیں اور ان کے جواب ہمیں آج ہی اپنی ترجیحات اور اپنے رویّوں میں تلاش کرنا ہوں گے۔ ماحولیات کی جنگ صرف عالمی کانفرنسوں میں نہیں جیتی جائے گی۔ یہ جنگ گھروں، سکولوں، کھیتوں، بازاروں اور روزمرہ زندگی میں بھی لڑی جائے گی۔ اگر ہم واقعی مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی عادات بدلنا ہوں گی، پانی کا ضیاع کم کرنا ہوگا، پلاسٹک کا استعمال محدود کرنا ہوگا، درخت لگانے کے ساتھ ساتھ اُن کی حفاظت بھی کرنا ہوگی، توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے ہوں گے اور فطرت کو ترقی کا دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھنا ہوگا۔

شہروں کے شور، مشینوں کی گھن گرج اور اسکرینوں کی مسحور کن دنیا نے انسان کو فطرت کی آغوش سے کچھ یوں دور کر دیا ہے کہ اب سبزہ بھی اُسے اجنبی لگنے لگا ہے۔ اسی دوری کا نتیجہ ہے کہ بے چینی، ذہنی تھکن اور اضطراب انسانی زندگی پر سایہ فگن ہیں۔ حالانکہ فطرت آج بھی اپنے دامن میں وہ سکون سمیٹے ہوئے ہے جس کی تلاش میں انسان دنیا بھر کی خاک چھانتا پھرتا ہے۔ درختوں کی سرگوشیاں، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کی نرم لَے اور سبز مناظر انسان کے منتشر احساسات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک درخت صرف آکسیجن کا منبع نہیں بلکہ وہ تھکے ہوئے مسافروں کو سایہ دیتا ہے، پرندوں کو آشیانہ عطا کرتا ہے، بارشوں کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور بنجر ہوتے دلوں میں امید کی کونپلیں بھی اُگاتا ہے۔

بدقسمتی سے ترقی پذیر دنیا میں ماحولیات کو اب بھی ایک ثانوی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، گویا کہ یہ کوئی ایسی آسائش ہے جس پر توجہ دینا ضروری نہ ہو۔ حالانکہ بدلتی ہوئی دنیا میں پائیدار ترقی ہی حقیقی ترقی کا نام ہے اور آنے والے کل کی مضبوط معیشت بھی اُسی قوم کا مقدر بنے گی جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھنا سیکھ لے گی۔ فطرت کی سب سے بڑی خوبی اس کی حیرت انگیز قوتِ تجدید ہے۔ اسے اگر مناسب مہلت دی جائے تو یہ اپنے زخم خود بھرنے لگتی ہے۔ بنجر زمین پھر سے سبز چادر اوڑھ سکتی ہے، آلودہ دریا دوبارہ شفاف آئینوں کی طرح بہنے لگتے ہیں اور کٹے ہوئے جنگلات میں زندگی دوبارہ سانس لینے لگتی ہے۔ لیکن یہ معجزہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان فطرت پر حکمرانی کے بجائے اس کے ساتھ رفاقت کا راستہ اختیار کرے۔

عالمی یومِ ماحولیات 2026 ہمیں یہ احساس دلانے آیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی دور اُفق پر منڈلاتا ہوا اندیشہ نہیں بلکہ ہمارے آج کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ یہ مسئلہ صرف سائنس دانوں کی تجربہ گاہوں، حکمرانوں کے ایوانوں یا ماہرین کی کانفرنسوں تک محدود نہیں بلکہ ہر اُس انسان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے جو اس زمین پر سانس لیتا ہے۔ دراصل یہ دن ایک دعوت ہے فطرت سے بچھڑے ہوئے رشتے کو پھر سے جوڑنے کی، زمین کے زخموں کی ٹیسوں کو محسوس کرنے کی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی دنیا چھوڑ جانے کی جہاں زندگی خوف کے سائے میں نہیں بلکہ امید کے اُجالے میں پروان چڑھ سکے۔

شاید اب ترقی کو نئے زاویے سے دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم نے ترقی کو اکثر بلند و بالا عمارتوں، وسیع و عریض شاہراؤں اور صنعتی پھیلاؤ سے جوڑ دیا ہے مگر کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر ہوا زہریلی ہو جائے، پانی ناپید ہو جائے اور زمین بنجر ہو جائے تو یہ ترقی کس کام کی؟ حقیقی ترقی تو اُس شعور کا نام ہے جو زمین کی زرخیزی، پانی کی پاکیزگی، ہوا کی تازگی اور انسان کی بقا کو یکساں اہمیت دے۔ کیونکہ فطرت کا تحفظ دراصل مستقبل کا تحفظ ہے اور مستقبل کی سلامتی ہی انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔ آج کا ایک پودا، پانی کی بچت کا ایک فیصلہ یا ماحول کے حق میں اٹھنے والی ایک آواز کل کی دنیا کا مقدر بدل سکتی ہے۔
لکھو کے ساتھ لکھو

ماحولیات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں