109

قادیانی کافر کیوں؟/تحریر/سیدہ فاطمہ طارق

مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرمادیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشادِخداوندی ہے:
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شی علیما (الاحزاب 40:33)
ترجمہ: ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔”
عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پوری ہو چکی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب تا قیامت کسی بھی انسان کو نبوت یا رسالت نہیں ملے گی۔ یعنی تا قیامت نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا اضافہ نہیں ہوگا۔
لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ پیشن گوئی فرمائی ہے کہ اس امت میں تیس سے زیادہ جھوٹے دعویدار پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہتا ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ وہ جھوٹا، کذّاب اور مثلِ دجّال ہوگا۔ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس دجاّل کذّاب افراد کا ظہور نہ ہوگا، ان سب کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ “
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشن گوئی کا ظہور مختلف وقتوں میں ہوتا رہا۔ جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
اسود عنسی:
اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دعوی کرنے والا پہلا شخص تھا۔ جس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر فیروز نامی شخص نے قتل کیا۔
مسیلمہ کذاب:
یہ شخص کذاب یمامہ کے لقب سے بھی مشہور ہے اسکی خود ساختہ نبوت کا فتنہ کافی عرصے تک رہا جسکو بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جڑ سے اکھاڑ دیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی:
مرزا غلام احمد قادیانی 1839 میں قادیان ضلع گورداسپور مشرقی پنجاب انڈیا میں پیدا اس کا تعلق اس خاندان سے تھا جس نے 1857 کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اور اسکے پیروکار کافر کیوں ہیں؟ تو کچھ نمایاں وجوہِ تکفیر مندرجہ ذیل ہیں:
(1) مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی نبوت
(2) حضرت عیسی علیہ السلام اور دیگر انبیاء خصوصا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی و گستاخی
(3) حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات سے انکار
(4) اسلامی فریضہ جہاد سے انکار
دعوی نبوت:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ (روحانی خزائن ج18ص231)
توہین سیدنا عیسی علیہ السلام:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ (روحانی خزائن ج3ص 255,254)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت:
خدا تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن، تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ (روحانی خزائن ج 19 ص 295)
حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزوں سے انکار:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھیں ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (روحانی خزائن ج11 ص290)
اسلامی فریضہ جہاد سے انکار:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا اب اس کے بعد جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نا فرمان ہے۔ (روحانی خزائن ج 16)
معزز قارئین! جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا اور مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کا حکم دیا تو کسی ایک صحابی نے یہ نہیں کہا کہ وہ کلمہ گو ہے اسکے خلاف جہاد نہیں ہونا چاہئیے۔ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کو کفار سمجھ کر کفار کی طرح ان سے جہاد کیا۔ لیکن آج ہماری امت مسلمہ ان قادیانیوں کے خلاف کیوں خاموش ہے؟ کیوں ہم مسلمان قادیانوں کے سارے عقائد پڑھ کے بھی انکے خلاف جہاد نہیں کرتے؟ مسلمان تو اپنے نبی کی حفاظت کے لیے جان تک لٹادیتے ہیں تو آج کے مسلمانوں کو کیا ہوا؟ کیوں وہ اپنا ضمیر بیچ کر سوگئے ہیں؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

قادیانی کافر کیوں؟/تحریر/سیدہ فاطمہ طارق“ ایک تبصرہ

  1. بہت اچھی ہے تحریر ہے ہماری زمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو بتائیں۔ اس کام میں اپنی پوری صلاحیت استعمال کرنی چاہیے

اپنا تبصرہ بھیجیں