قرآن سرچشمہِ حیات، مکمل شفاء اور کامل ضابطہِ حیات ہے۔ تمام مسائل و مشکلات کا حل، ہدایت کا سرچشمہ۔
آسمانی کتابوں کی تعداد چار اور صحیفے لاتعداد ہیں۔ مگر ان سب میں بلند و برتر کتاب صرف قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ یہ ہمارے ماضی، حال اور مستقبل کا عکاس و رہنما ہے۔ میرے اور آپ کے تمام مسائل، خواہ وہ دینی ہوں، دنیاوی، مالی یا ذہنی، ان سب کا حل مصحف قرآںی میں موجود ہے۔ مصحف محض کتاب نہیں، یہ فلاح پانے کا ذریعہ ہے۔ کتابِ ہدایت، کتابِ نجات، زندگی کی تمام مشکلات اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
1449 سال پہلے اللہ کے رسول ﷺ پر یہ کتاب نازل ہونا شروع ہوئی۔ وحی کی صورت میں 610 عیسوی سے 632 عیسوی تک نازل ہوتی رہی۔ یہ آخری آسمانی جامع کتاب ہے جو نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس کے ساتھ نبوت اور کتابوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔
قرآن محض پڑھنے کے لیے نہیں۔ دورِ حاضر کی تمام بیماریوں کا حل بھی قرآن کریم کی آیات سے نکالا جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن شفاء ہے، روحانی بھی اور جسمانی بھی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “بے شک جب تم بیمار ہوتے ہو تو وہی شفاء بخشتا ہے۔” ہماری تمام مشکلات کا حل قرآن پاک میں موجود ہے۔ بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ نبھائے گا۔
قرآن پاک نے ہمیں صرف دین نہیں سکھایا، دنیا داری کا ہر راستہ بھی دکھایا ہے۔ والدین سے حسنِ سلوک، قرابت داروں سے صلہ رحمی، یتیموں سے شفقت، مسافر کی مدد، ضرورت مند کی اعانت، یہ سب معاملات قرآن مجید فرقان حمید نے کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیے۔ سود، ناپ تول میں کمی، رشوت، شراب نوشی، جوا، زنا اور دیگر منکرات سے نہ صرف منع کیا، بلکہ ان کے عذاب کی وعید بھی سنائی۔
قرآن پاک نے صرف مسلمانوں کو نہیں، دنیا کے تمام مفکرین کو بھی اپنی سچائی سے حیران کر رکھا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت سے آج تک کے تمام واقعات و حقائق جو سوائے مسلمانوں کے کوئی نہیں جانتا تھا، اب غیر مسلم بھی ان معجزات کو مانتے ہیں۔
ایک انگریز مفکر نے اپنی کتاب میں لکھا:
“اس سے زیادہ جامع اور مدلل کتاب روئے زمین پر ہے ہی نہیں۔”
مگر افسوس، دورِ حاضر کا انسان اس حقیقت سے ناآشنا ہے۔ پچھلی صدی کے لوگ نماز، روزے اور قرآن کو زندگی میں خاص اہمیت دیتے تھے۔ موجودہ صدی میں ہم نے قرآن کو اتنی بلندی پر رکھ دیا ہے کہ ہمارا ہاتھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ تلاوتِ قرآن جو سکونِ قلب ہے، وہ صرف بڑوں کا وصف رہ گئی ہے۔ نئی نسل اگر تلاوت کرنا بھی چاہے تو موبائل میں کر لیتی ہے۔ قرآنِ پاک تک اس کا ہاتھ یا دل نہیں مچلتا۔
اسی لیے دن بہ دن بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ہم تنہا، بیمار اور کمزور دل ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈپریشن دورِ جدید کی مہلک بیماری بن چکی ہے۔ اس کی شرح میں مسلسل اضافہ ہے۔ یہ ایک خاموش جنگ ہے جو انسان اپنے اندر لڑ رہا ہے۔ سائیکاٹرسٹ کے پاس اس کا علاج محض دوا ہے، مگر حقیقی علاج کتابِ ہدایت سے وابستگی ہے۔ تلاوتِ قرآن سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر جیسے امراض کنٹرول ہوتے ہیں۔
سورہ الرحمن اور سورہ مریم کی تلاوت دورانِ حمل زچہ و بچہ کے لیے بہترین مانی جاتی ہے۔
بے شک کلامِ الٰہی شفاء ہے۔
دینِ اسلام سے محبت و اپنائیت اور دین سے جڑ جانا ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ قرآن صرف باعثِ شفاء نہیں، تمام مشکلات کا حل بھی اس مصحف میں ہے۔ اگر کبھی مشکلات میں پھنس جاؤ تو سورہ یوسف پڑھ کر دیکھو۔ یاد آئے گا کہ اپنے ہی کیسے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ سورہ القص میں اللہ فرماتا ہے: “بے شک خدا کے فیصلوں کے آگے پوری دنیا بے بس ہے۔”
جب میں نے مصحف کھولا تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ جیسے میرا رب مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھ رہا ہو: “کیا میں تمہارا رب نہیں؟ تو پھر تم مجھے چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟” سورہ الاعراف، آیت 172۔
سورہ الرحمن میں بار بار اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا ذکر کرتا ہے: “تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟” وہ نعمتیں ماں باپ، بہن بھائی، اولاد، مال و دولت اور صحت کی صورت میں ہمارے پاس ہیں۔ صحت اللہ کے خزانوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔
سورہ طٰہٰ میں اللہ فرماتا ہے: “جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، میں اس کی زندگی سے سکون چھین لوں گا۔” سکون صحت سے مشروط ہے۔ دورِ جدید کی سب سے مہلک بیماریاں ڈپریشن، حسد، نفرت اور کینہ پروری ہیں۔ ان سب کا حل محض مصحف ہے۔
بعض اوقات گناہوں کا بوجھ ضمیر پر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دنیا کی ساری لذتیں بے معنی لگتی ہیں۔ انسان سکون کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے مگر افاقہ نہیں ہوتا۔ یہ روح کی تشنگی ہے۔ اور روح کی بیماری صرف کلامِ پاک سے ہی دور ہو سکتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔” اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا گناہ ہے۔ وہی ذات ہر بیماری کے بعد شفائے کاملہ عطا کرتی ہے، چاہے وہ روحانی ہو یا جسمانی۔
شفائے کاملہ کے لیے ہمیں اس کے بتائے ہوئے تمام طریقوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ مصحف یعنی قرآن پاک کی۔