دیر سے بیٹھا ہوں ہاتھوں میں لیے اپنے قلم
کیا لکھوں؟ کیسے لکھوں؟ دل پر ہے طاری شامِ غم
زندگی مجموعہ غم ہائے فراق ہے، اِس میں بہت سے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں، مگر کوئی حادثہ ایسا ہوتاہے کہ مجموعی زندگی کومتاثر کر دیتاہے، نہ بھرنے والے زخموں سے آشنا کر جاتا ہے، نہ بھولنے والے دکھوں سے ہمکنار کر دیتاہے۔ وقت کا پہیہ صدیوں سے محوِ گردش ہے، قافلہ آدم یوں ہی رواں دواں ہے، لوگ ملتے اور بچھڑتے رہتے ہیںمگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیںجو اپنی گونا گوں خوبیوں اور خدمات کی بنا پر دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں، وہ چمن میں ہمیشہ گلاب کی طرح کھِلتے رہتے ہیں، اِبنی المکرم، فنا فی الخدمت، خادم الاساتذہ حضرت مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ نوراللہ مرقدہ و برد اللہ مضجعہ بھی اُنہی میں سے ایک تھے۔ٹریفک حادثے میں جن کی ناگہانی وفات نے ہمارے قلوب و اذہان پر ایسے گہرے اور اَن مِٹ نقوش چھوڑے ہیںکہ اُنھیں ماہ و سال کی گردش دُھندلا نہ سکے گی۔
یہ بھی ٹھیک ہے کہ اِس فانی دنیا میں انسان آتے اور جاتے رہتے ہیںلیکن بعض جانے والے نَمی بن کر ہمیشہ آنکھوں میں موجود رہتے ہیں۔
وہ اشک بن کر میری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
خاندانی پسِ منظر:
حضرت مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ رحمۃ اللہ علیہ، سرگانہ برادری کے چشم و چراغ تھے،سرگانہ برادری سیال راجپوتوں کی ذیلی شاخ ہے۔ آپؒ کے خاندان میں سے آپؒ کے پردادا، مہر گہنہ سرگانہ (مرحوم) موضع کُنڈ سرگانہ تحصیل کبیر والہ ضلع خانیوال سے نقلِ مکانی کرکے بستی فیاض نگر، عیسے والہ شمالی نزد بنگلہ یاسمین تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ میں سکونت پذیر ہوئے۔ موصوفؒ کے خاندان کا پیشہ زراعت و کاشت کاری تھا۔
وطنِ مالوف اور ولادت باسعادت:
تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ کا ایک مردم خیز خطہ ہے،جہاں استاذ الکل، فخر السادات حضرت مولانامفتی سید احمد حسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ (شاگرد خاص مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) جیسے اہلِ علم و عرفان بزرگ گزرے ہیں۔
احمد پور سیال کے نواح میں واقع بستی فیاض نگر، عیسے والہ شمالی نزد بنگلہ یاسمین، حضرت مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ رحمہ اللہ کا آبائی علاقہ ہے۔یہیں محترم جناب مہر حق نواز سرگانہ صاحب کے گھرانے میں تقریباً ۱۴۲۳ھ مطابق ۲۰۰۲ء میں ایک سعادت مند فرزند متولد ہوا، جس کا نامِ نامی اسمِ گرامی محمد عاصم تجویز کیا گیا۔
مت سہل ہمیں جانو! پِھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں
اسم با مُسمّٰی اور سلسلہ نسب:
حضرت مولاناقاری محمد عاصم سرگانہ قدس اللہ سرہ، اسم با مسمی تھے،وہ اس طرح کہ ’’عاصم‘‘ بمعنی بچانے والا اور محفوظ رکھنے والا، تو آپؒ نے اپنی حیاتِ مستعار میں اپنے آپ کو اخلاقِ رذیلہ،گناہ و جرم، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نیز ہر قسم کی جسمانی اور روحانی برائیوںسے حتی الامکان بچایا اور محفوظ رکھا، بفضل اللہ تعالی، بس آپؒ کو صرف ایک ہی دُھن تھی ’’تعلیم و تعلم‘‘
گناہ و جرم سے محفوظ تھا ضمیر اُن کا
تھا اُن کاقلب فقط علم و آگہی کے لیے
آپؒ کا نسب نامہ یوں ہے، مولانا محمد عاصم سرگانہ رحمۃُ اللہ علیہ بن مہر حق نواز بن مہر امیر احمد بن مہر گہنہ بن اللہ دتہ بن غازی بن مہامند بن نجابت بن اللہ یار بن سارنگ۔۔۔۔۔۔۔
موصوفؒ سے راقم کا تعلق و رشتہ:
سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے سیدنا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا مُتبنّٰی (لے پالک)بنایا تھا، اور اُن کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی تھی، بعد ا زاں اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے اُن کا نکاح بھی کرایا تھا، جوکامیاب نہ ہوا۔ پھر دوسرانکاح اپنی باندی حضرت اُمِ ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنھاسے کرایا، جن کے بطن سے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنھما پیدا ہوئے، جن کو ’’حِبِّ رسول اللہ‘‘رسول اللہ ﷺ کا پیاراکہا جاتا تھا۔
راقم نے بھی اِسی سنت کے اتباع میں حضرت مولانا محمد عاصم سرگانہ رحمۃاللہ علیہ کو اپنا متبنی بنالیااور کسی حد تک پرورش اور تعلیم و تربیت بھی کی لیکن راقم نہ تو اپنے بیٹے کی شادی کراسکا اور نہ ہی اُن کی اولاد دیکھ سکا، کیونکہ عین جوانی میں رشتہ ازدواج سے قبل ہی میرا بیٹا وفات پاگیا۔ گویا راقم نے آدھی سنت پر عمل کیا، شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔ اِس وقت بہادر شاہ ظفر کی غزل کا ایک شعر ذہن میں آگیا ہے ۔ اِس شعر سے میری مراد اِس شعر کا دوسرا مصرعہ ہے جو تھوڑے سے تصرف کے ساتھ ہے،
ابھی جامِ عمر بھرا نہ تھا، کفِ دستِ ساقی چھلک پڑا
رہیں دل کی دل ہی میں حسرتیں کہ خدا نے اُن کو بلا لیا
ابتدائی تعلیم و تربیت:
موصوفؒ کے ذاتی اور فطری کمالات کے ساتھ ساتھ،استاذ الحفاظ حضرت مولانا قاری محمد ثناء اللہ صاحب مد ظلہ ۔ اور راقم الحروف محمد اشفاق وسیر گھوٹوی، کی زیر سرپرستی حضرتؒ کی تعلیم و تربیت ہوئی۔
حضرت مولانامفتی سید احمد حسن شاہ ؒ کا قائم کردہ ادارہ، اور احمد پور سیال کی قدیم دینی درس گاہ مدرسہ عربیہ شمسیہ فخر المدارس میں موصوفؒ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ راقم سے نورانی قاعدہ اور قاری ثناء اللہ صاحب سے حفظِ قرآن مکمل اور ازبر کرنے کی سعادت حاصل کی۔
درسِ نظامی کاآغاز:
درسِ نظامی کا آغاز آپؒ نے راقم کے پاس کیا، عصری تعلیم اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اِسی طرح صرف و نحو کی تمام کتب آپؒ نے راقم کے پاس پڑھیں۔ مختلف مدارس میں آپؒ تحصیل علم کرتے رہے جن کے نام یہ ہیں۔
(۱)… مدرسہ عربیہ شمسیہ فخر المدارس (احمد پور سیال ضلع جھنگ)
(۲)… مدرسہ خالد بن ولید المعروف جامع مسجد تقوٰی (قاسم بیلہ ضلع ملتان)
(۳)… مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن (اڈا ٹال احمد پور سیال ضلع جھنگ)
(۴)… شاخ جامعہ خیر المدارس ملتان (کوٹلہ رحم علی نزد گردیزی موڑضلع ملتان)
(۵)… جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام (چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
اساتذہ کرام:
درج ذیل اساتذہ کرام سے موصوفؒ نے کسبِ فیض کیا۔
(۱)… استاذ العلماء حضرت مولاناخورشید احمد تونسویؒ (سابق مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان)
(۲)… استاذ الحفاظ حضرت مولاناقاری محمد ثناء اللہ صاحب مد ظلہ (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۳)… راقم الحروف محمد اشفاق وسیر گھوٹوی (فاضل جامعہ عمر بن خطاب ملتان)
(۴)… حضرت مولانا اللہ دتہ صاحب (فاضل جامعہ دار العلوم عید گاہ کبیر والہ ضلع خانیوال)
(۵)… حضرت مولاناجمشید علی صاحب (فاضل جامعہ دار العلوم عید گاہ کبیر والہ ضلع خانیوال)
(۶)… حافظ انیس الرحمن صاحب (مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن احمد پور سیال ضلع جھنگ)
(۷)… استاذ العلماء حضرت مولاناسعید اللہ ارشد صاحب (فاضل جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا ضلع لودھراں)
(۸)… حضرت مولانا مفتی محمد شاکر صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۹)… حضرت مولانا محمد خالد صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۱۰)… حضرت مولانا غلام اکبر صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۱۱)… حضرت مولانا محمد عمران صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۱۲)… حضرت مولانا مفتی حفظ الرحمن صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۱۳)… حضرت مولانا محمد اختر حنفی صاحب (فاضل جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)
(۱۴)… حضرت مولانا محمد جنید انور صاحب (فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان)
(۱۵)… حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب (فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان)
وقت کی قدر اور اشاعتِ دین:
اللہ تعالیٰ بعض بچوں میںایسی صلاحیتیں ودیعت کرتا ہے کہ جنھیں دیکھ کر رشک آتا ہے، اور بعض بچے بڑے ہوکر بھی بے سلیقہ رہتے ہیں۔ حضرت مولانا حافظ محمد عاصم سرگانہ علیہ الرحمۃ کو بھی اللہ تعالیٰ نے چھوٹی عمر میں ہی بہت سی صلاحیتوںسے نوازا تھا، مثلاً موصوفؒ وقت کے بہت قدر دان تھے، وقت ضائع نہیں کرتے تھے، اور اشاعتِ دین کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ابھی آپؒ حفظ میں ہی زیر تعلیم تھے ، مدرسے کی ترتیب کے مطابق ایک مہینے بعد جمعرات والے دن چھٹی ہوتی اور جمعہ شا م کو واپسی ہوتی تھی ، موصوفؒ اِس ایک چھٹی کو بھی قیمتی بناتے ، وہ اس طرح کہ جب گھر جاتے تو خادم بن کر جاتے، والدین کی جسمانی خدمت کے ساتھ ساتھ گھریلوکام کاج میں بھی اُن کا ہاتھ بٹاتے۔ والدین اور بہن بھائیوں کو کلمہ،نماز، وضو، غسل اور دعائیں وغیرہ سکھاتے ۔اسی طرح مقامی مسجد میں اپنے ہم عمر بچوں کو جمع کرکے اُن کو بھی یہی کچھ سکھاتے۔ یہ تو ایک دن کی چھٹی کی کار گزاری ہے،جب آپؒ درجہ کتب میں آئے تو شعبان و رمضان دو ماہ کی سالانہ تعطیلات میں کبھی کچھ وقت تبلیغی جماعت میں لگاتے اور باقی ایام یا کبھی مکمل چھٹیاں گھر میں رہ کر تراویح میں قرآن سنانے کی تیاری کے لیے قرآن مجید پڑھتے رہتے اور مقامی بچوں کو جمع کرکے اُن کو کلمہ، نمازوغیرہ کے علاوہ نورانی قاعدہ اور قرآن پاک سکھاتے تھے۔ موصوفؒ کا یہ معمول تادمِ آخر رہا ہے، گویا کہ طالب علمی کے زمانے میں دو مہینے کے لیے آپؒ مدرس اور مبلغ بن جاتے تھے۔
یا رب کس دیس میں یہ ہستیاں بستی ہیں
جنھیں دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں
علم اور اہلِ علم کی قدر دانی:
آپؒ علمائے کرام اور اہل اللہ کے بہت زیادہ قدر دان تھے۔اکابر علمائے کرام اور مشائخ عظام سے ملاقات کے لیے راقم کے ساتھ دور دراز کاسفر کرتے، اُن سے اپنے لیے دعائیںکراتے۔ مدرسہ میںعلمائے کرام تشریف لاتے تو اُن کی خدمت میں پیش پیش رہتے۔اِسی طرح آئی گئی تبلیغی جماعتوں کی نصرت کرنا اور اُن سے دعائیں کرانا یہ آپؒ کا عام معمول تھا۔
محض اِس لیے یاری ہے خدا والوں سے میری
میں دیکھوں جو اُن کو مجھے آتا ہے خدا یاد
حُسنِ ظاہر و باطن کامرقع:
اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ نوراللہ مرقدہ کو ظاہری وباطنی خوبیوں سے مزین کیا تھا، بٹا ہوابدن، نازک اور تراشیدہ نقوش، روئے منور، باوقار پیکر، دراز قد، مناسب سر، کشادہ پیشانی، گھنیری بھنویں، ہلکی داڑھی، کھِلتا ہوا گندمی رنگ،لمبی اور اونچی خوبصورت ناک، چہرے پر معصومیت، گفتگو میں نرمی اور دھیما پن، حیاء، عفت و پاکیزگی، طہارت و نفاست، احترام و تعظیم، برتائو میں تہذیب و شا ئستگی کی تراوش، درویشی، سادگی، سنجیدگی، زہد و استغناء، ورع و تقوٰی، اتباع سنت، شفقت و رحمت، عفو و در گزر،رفقاء کی حوصلہ افزائی، حُسنِ انتظام، محنت و جفا کشی، حلم و برد باری، شرافت و نجابت، فطرتاً نیک و صالح، انتہائی متواضع اور منکسر المزاج،خیر خواہی، اخلاص و للہیت، صبر اور خاموشی کا پُتلا، حُسنِ اَخلاق میں صحرائے نا پیدا کنار کی وسعت، ہر کسی سے خندہ پیشانی اور مسکراتے لبوں سے ملنا، پُر تپاک استقبال، خوش طبعی و محبت کی دلوں کو موہ لینے والی ادا، ستائش کی تمناء سے خِلقتاًبے نیاز،صلے کی پرواہ سے ناآشنائے محض، سخاوت و دریا دلی، قوم و ملت کی خدمت سے سرشار، بالخصوص خدمتِ اساتذہ کے لیے بِچھ جانا، اور اساتذہ کی ہر ضرورت کی تکمیل کے لیے فکر مندی اور اُن کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر اُنھیں حل کرنے کی کوشش، آپؒ کے خلاقِ کریمانہ کے وہ گوشے ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو مقبولیت اور محبوبیت سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ بایں وجہ اساتذہ ہی سے آپؒ نے خادم الاساتذ ہ کا لقب پایا تھا۔
ھَیْھَاتَ لَا یَاْتِیْ الزَّمَانُ بِمِثْلِہٖ
اِنَّ الزَّمانَ بِمِثلہٖ لَبَخِیْلٗ
مدرسہ ہے وطن اپنا:
جو شخص اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کی خاطر تُج دیتا ہے تو پروردگار بھی اُس کو ایسا چمکاتا ہے کہ دنیا رشک کرتی رہ جاتی ہے۔حضرت مولانا محمد عاصم سرگانہ علیہ الرحمۃ رحمۃً واسعۃً نے تحصیل علم دین کے لیے اپنے آپ کو ایسا وقف کیا کہ پھر دوسری چیزوں کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ زبانِ حال سے آپؒ یہی کہتے رہے۔
ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
مریں گے ہم کتابوں میں ورق ہوگا کفن اپنا
درج بالا شعر موصوفؒ پر حقیقتاً صادق آتا ہے۔ تحصیل علم سے رسمی اور عرفی فراغت آپؒ نے ابھی نہیں پائی تھی، بلاد ِپاکستان کے تمام مدارس میں تعلیمی سال اختتام پذیر ہوکر سالانہ تعطیلات ہو چکی تھیں لیکن آپؒ مدرسہ میں ہی مقیم تھے، ایک تو مسجد میں امامت اور صبح و شام بچوں کو پڑھانے کی وجہ سے دوسرا آپؒ اپنے وقت کو اِدھر اُدھر ضائع کرنے کی بجائے قیمتی بناتے ہوئے جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ، میں جاری دورہ صرف ونحو میں شریک تھے۔ لہذا تحصیل علم کے دوران ہی اپنے استاذ صاحب کے کسی کام کے سلسلے میں تین افراد موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ راستے میں ٹریفک حادثہ پیش آگیا جس میں آپؒ کی وفات ہو گئی (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)یوں خادم الاساتذہ کا جنازہ مدرسہ سے نکلا۔
سفرِ آخرت و انتقال پُر ملال:
موت جتنی یقینی ہے اِس کا وقت اُتنا ہی غیر یقینی ہے۔ ۷؍ شعبان المعظم ۱۴۴۴ھ مطابق ۲۸؍فروری ۲۰۲۳ء ، بروز منگل بعد از نماز ظہر، حضرت مولانا قاری محمد ثناء اللہ صاحب نے راقم کو موبائل فون پر اِس افسوسناک، اندوہناک، کربناک، المناک، دلدوزاور جان گسل واقعے کی اطلاع دی کہ جامعہ قاسمیہ میں زیر تعلیم، حضرت مولانا محمد عاصم سرگانہ رحمۃ اللہ علیہ ، اپنے استاذ حضرت مولانا مفتی حفظ الرحمن صاحب کے کسی کام کے سلسلے میں دو ساتھیوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ راستے میں اچانک ٹریفک حادثہ پیش آگیا،جس میںدو ساتھی تو زخمی ہو گئے لیکن مولانا محمد عاصم سرگانہ نور اللہ مرقدہ جائے حادثہ پر ہی ’’شہادتِ اُخروی‘‘ کا درجہ حاصل کرتے ہوئے اِس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر ہمیں روتا، بِلبلاتا اور سسکتا چھوڑ کر وہاں تشریف لے جا چکے ہیں جہاں جاکر کبھی کوئی واپس نہیں آیا، مگر اپنے محبین و اقرباء اور علماء و اساتذہ کو داغِ مفارقت دے گئے ہیں (ان للّٰہ ما اخذ ولہ ما اعطی وکل شیء عندہ باجل مسمی)
صبر کر عاجز خدا کو بس یہی منظور تھا
آخرت کا کر گئے اب تو سفر عاصم شہیدؒ
اِس خبر کے بعد جو کیفیت راقم پر طاری ہوئی وہ ناقابلِ بیاں ہے، یہ خبر صاعقہ آسمانی بن کرقلبِ راقم پر کوند پڑی اور ایک دم تمام خیالاتی محلات دھڑام سے گر پڑے، تمام کے تمام پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے، اور کچھ بھی سُجھائی نہ دیا۔ اِس خبر سے جو دُکھ اور درد ہونا چاہیے تھا وہ ایک فطری امر تھا کیونکہ موصوفؒ صرف میرے شاگردہی نہیںتھے بلکہ چہیتے اور لاڈلے ’’لے پالک‘‘ بھی تھے(وانا بفراقک یا ابنی لمحزونون)
تجہیز و تکفین:
حادثے کی یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جامعہ قاسمیہ میں سناٹے کا عالم تھا، ہردل غمگین تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔ جامعہ ہی میں آپؒ کو غسل دیا گیا اور سنت کے مطابق تکفین کی گئی۔ اساتذہ کے مشورے سے آپؒ کی پہلی نماز جنازہ بعد از نماز عصر جامعہ ہی میں ورثاء کی رائے سے استاذ العلماء حضرت مولانانذیر احمد میر پوری صاحب دامت برکاتہم (شیخ الحدیث جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ)کی اقتداء میں ادا کی گئی، جس میں علماء، قراء، طلباء، صلحاء، اتقیاء اور عوام الناس نے شرکت کی۔ جب کہ دوسری نماز جنازہ آپؒ کے آبائی وطن بستی فیاض نگراحمد پور سیال میں رات نو(۹) بجے ، حضرت مولانا سید محمود علی شاہ صاحب (مہتمم مدرسہ عربیہ شمسیہ فخر المدارس احمد پور سیال) نے پڑھائی،جس میں علماء و محبین ، خلقِ کثیر اور جمِ غفیر نے شرکت کی سعادت حاصل کی ،موصوفؒ کے دونوں جنازے اور اِسی طرح تدفین ، رِم جِھم برسات کے موسم میں عمل میں آئے۔
زمین و آسماں ایسے ہی جانبازوں پہ روتے ہیں
سحابِ غم برستا ہے شہیدوں کا لہو ہو کر
تدفین و مدفن:
بعد ازاںآپؒ کے جسدِ خاکی کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آہوں ، سسکیوں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ ، آپؒ کے آبائی قبرستان میں آپؒ کے خاندان کے بزرگوں کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ (سقی اللّٰہ ثراہ و جعل الجنۃ مثواہ)
ہے دعا مرقد تیرا جنت کا ایک گلز ار ہو
تا ابد ہوں رحمتیں تجھ پر خدا کا پیار ہو
میرے اللہ ہے دعا تجھ سے یہی شام و سحر
ساقیِ کوثر پلائیں خود، اُنھیں کوثر کا آب
اللہ تعالیٰ اُنھیں غریقِ رحمت کرے، کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور دنیا کی ساری محرومیوں اور لذت نا آشنائیوں کا بے پناہ بدلہ، جنت الفردوس کی ناقابلِ تصور اور ناقابلِ شمار نعمتوں کے ذریعے عطا فرمائے، پسماندگان، متعارفین و محبین کو موصوفؒ کا نعم البدل، صبرِ جمیل و اجرِ جزیل اور صلاح و فلاحِ دارین سے نوازے (آمین)
پُر فضائل رِحلت:
فنا فی الخدمت، خادم الاساتذہ حضرت مولانا قاری محمد عاصم سرگانہ نور اللہ مرقدہ و برد اللہ مضجعہ کی وفات پر غم اور افسوس تو بہت شدید ہے۔ لیکن بہرحال یہ وفات قابلِ صد رشک بھی ہے۔ حقیقی معنوں میں شہید وہ ہے جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتے ہوئے قتل کیا جائے یا ظالموں نے اُس کو ظلماً قتل کیا ہو، اِس کے علاوہ شہید کی جو باقی اقسام ہیں وہ صرف شہیدِ اُخروی ہیں، شہداء کے احکامِ دنیویہ تو اُن پر جاری نہ ہوں گے لیکن آخرت میں فی الجملہ شہداء میں محسوب ہوں گے (ان شاء اللّٰہ)
علامی سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مستقل رسالہ ’’ابواب السعادۃ فی اسباب الشہادۃ‘‘ تحریر کیا ہے، جس میں پینتالیس (۴۵) سے زیادہ شہید کی اقسام بیان کی ہیں، من جملہ اُن کے یہ بھی ہے کہ!
(۱)… حالتِ سفر میں فوت ہونے والا شہید ہے۔
(۲)… کسی حادثہ میں فوت ہونے والا شہید ہے، جیسے ایکسیڈنٹ وغیرہ۔
(۳)… طلبِ علم میں فوت ہونے والا بھی شہید ہے۔
مذکورہ تینوں چیزیں موصوفؒ میں پائی جاتی ہیں، چوتھی چیز ہے ’’خدمت‘‘ ۔ ایک ہے عام خدمت اور ایک ہے اساتذہ کی خدمت ، اللہ تعالی تو عام خدمت پر بھی بہت کچھ عطاکرتا ہے، اور پھر اساتذہ کی خدمت تو ’’نور علی نور‘‘ہے ۔ یہ چیز بھی موصوفؒ میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ اِس لیے ’’رب غفور و رحیم‘‘ کی ذات جلیلہ سے قوی امید ہے کہ موصوفؒ کی آخری منزل بہت مامون اور قابلِ رشک رہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ آخرت کی تمام منازل آسان فرمائے (آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ)
فسھل یا الہی کل صعب
بحرمۃ سید الابرار سھل
سنِ وفات بحساب حروفِ ابجد:
اب ندا دی یاایتھاالنفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک
……… ……………………………………
۷۲ + ۱۳۷۲ = ۱۴۴۴ھ
123