101

معصوم بہنوں کاایک بدبخت بھائی/تحریر/فیصل رمضان اعوان

زمانہ جہالت کا ایک مشہور واقعہ ہے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جہالت کے دورمیں ہم بتوں کی پوجا کرتے تھے بچیوں کوزندہ دفن کردیتے تھے پھراس شخص نے اپنی بیٹی کا واقعہ سنایا کہ میں جب بھی اپنی ننھی منی بیٹی کو بلاتا تھا تو وہ خوش ہوجایا کرتی تھی ایک روز میں نے اسے بلایا تو وہ میرے پیچھے پیچھے چل پڑی قبیلے کے ایک قریبی کنویں پر پہنچ کر میں نے اس معصوم کو کنویں میں پھینک دیا وہ معصوم بچی کہتی رہی اے میرے ابا اے میرے ابا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوگئیں آپ روپڑے ساتھ بیٹھے شخص نے کہا کہ اس آدمی نے آپ کو غمگین کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے کہنے دو یہ اپنی پریشانی یاد کررہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے دوبارہ واقعہ سنانے کا فرمایا تب آپ کی آنکھیں چھلک پڑیں اور رو رو کر آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی
الحمداللہ ہمارا مسلم معاشرہ عورت کی عزت واحترام کو عین اسلام کے مطابق بلند مقام دیتا ہے عورت ہرروپ میں ایک عظیم ترین مقدس رشتے میں بندھ گئی آج کی معصوم بچی کل ایک ماں کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگی
یوں تو وطن عزیز کے بہت سے علاقوں سے بہت ہی دردناک خبریں ملتی رہتی ہیں معصوم بچیوں کے ساتھ زناکے واقعات تو متواتر ہورہے ہیں بعدازاں یہ درندے ان معصوم بچیوں کو قتل کرکے پھینک دیتے ہیں یہ یہاں کی معمول کی خبریں ہیں جو ہمارا میڈیا روزانہ بریکنگ نیوز کے طورپر ایسی منحوس خبریں دے کرہم والدین کے دکھوں میں مزید اضافہ کردیتاہے گزشتہ کچھ روزسے ایسی ہی ہولناک خبریں سننے کو ملتی رہیں کہ اللہ رحم کرے پہلی خبرمیرے گاؤں کوٹ گلہ ضلع تلہ گنگ کی ایک ملحقہ دیہی آبادی چکی شاہ سے ملی کہ وہاں کے کوئی اغواکار والدین راولپنڈی سے ایک نومولود بچی کو اغوا کرکے لے آئے ہیں یعنی وہ ماں اور اس بچی کا دادا اس اغوا میں ملوث تھے جنہیں بعدازاں پولیس کے ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے بازیاب کرالیا گیا خبر سن کر دلی رنج ہوا لیکن یہ پھیلائی گئی خبر بالکل بے بنیاد نکلی ایسا ہرگز نہیں ہوا بلکہ ہمارے صلاحیتوں سے مالامال پیرامیڈیکل سٹاف نے کسی اورکی بچی مذکورہ والدین کو دے دی اور ان کی بچی آئی سی یو وارڈ میں ہی رہنے دی اغوا کی بے بنیاد خبردینے والے نے بھی خوب عزت کمالی
ان معصوم بچیوں کے اصل والدین گر تبدیل ہوجاتے تو اس سے بڑا غم اور کیا ہوسکتا ہے لیکن چلیں الحمداللہ یہ معاملہ بہرحال حل ہوگیا لیکن ہمارے اپنوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا خوب تر منوایا ہے دوسرا دردناک دل خراش اور ہولناک واقعہ جو ہم جیسے حساس اور چھوٹے سے دل والے باپ کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں اور یہ حقیقت ہے کہ یہاں الفاظ نہیں مل پاتے جن کی مدد سے تحریر مکمل کی جاسکتی ہو میرے گاؤں کے قریب ترین اور شمال مشرقی علاقے ملتان خورد سے متعلق ایسی ہولناک خبر نے مجھے دوروز تک سوشل میڈیا سے دور رکھا کیونکہ میرے اندر اتنی سکت نہیں تھی کہ میں اس دکھ کو برداشت کرسکتا ان ننھی کلیوں کی تصاویر دیکھ سکتا کوٹ ادو تھرمل پارمل مظفرگڑھ کے ملازم کی تین معصوم بچیاں جن کی عمریں باالترتیب چھ آٹھ اور گیارہ سال تھیں اپنے ہی بدبخت بھائی کے ہاتھوں ذبح ہوگئیں میں اس غم میں ان والدین کا کیسے غمگسار بنوں یہ معصوم کلیاں جس گھر کا نصیب ہوتی ہیں یہ جہاں کھلتی ہیں وہ گھر تو رحمت سے بھرا ہوتا ہے وہ باپ یا وہ مائیں ہی ان پھول کلیوں سے بھرے آنگن سے واقف ہوتے ہیں میں بھی ان جیسی معصوم بے گناہ اور حسین کلیوں کی طرح ایک پھول سی بیٹی کاباپ ہوں میں ان پریوں کے دکھوں کو سمجھ سکتا ہوں ان ان کی معصومانہ خواہشات ان کی خوشیوں کو محسوس کرسکتا ہوں یہ بیٹیاں تو جس گھرکا مقدر ہوتی ہیں وہ گھر توان کی موجودگی سے ہروقت مہک رہا ہوتا ہے لیکن یہ معصوم سے وجود والی چڑیوں کی طرح جلد اڑ جاتی ہیں تب بابل کا آنگن ویران ہوجاتا ہے اللہ تعالی تمام بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے ملتان خورد کی پیاری بیٹیاں زہرا ابیہہ اور اریشہ غمزدہ والدین سمیت ہم سب کو رنجیدہ کرکے منوں مٹی کے تلے جاسوئیں ہیں اللہ تعالی ان غمزدہ والدین کو صبردے تقدیر سے بھلا کب کوئی گلہ کرسکتا ہے اس بدبخت بھائی کو کیا میسج دیا جاسکتا ہے جس نے اپنی ذلالت کے تمام سامان خود ہی پیدا کئے ہیں جس نے زمانہ جہالت کی یاد تازہ کردی ہے
اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں