Usman Amir 0

افسانہ/جنگ کا سایہ/عثمان عامر

قادری محلہ میں آج بھی ہمیشہ کی طرح شور سے صبح کی شروعات ہوئی تھی۔ گلی کے نکڑ پر دودھ والے کی آواز، دور کہیں بس کے ہارن کی آواز اور محلے کی مسجد سے آتی نعت شریف کی مدھم گونج سماعتوں کو منور کر رہی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا مگر زندگی کی رفتار پہلے ہی تیز ہو چکی تھی۔ کامران نے آنکھیں ملتے ہوئے چارپائی سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ٹھنڈی سی ہوا اندر آئی، اس نے شال کو کندھوں پر اچھی طرح جما لیا۔ کچن سے چائے کی خوشبو آ رہی تھی۔ اٹھ گئے؟ اس کی بیوی ندا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ کامران نے سر ہلایا اور سامنے بیٹھے اپنے دو بچوں کو دیکھنے لگا جو اسکول کے بستے تیار کر رہے تھے۔ بیٹا علی پینسل ڈھونڈ رہا تھا اور چھوٹی بیٹی مریم اپنی کتابوں کو ترتیب دینے میں مصروف تھی۔ چھوٹا سا گھر، دو بچے، ایک بیوی اور صبح سے شام تک کی نوکری، یہ کامران کی کل دنیا تھی۔

کامران ایک نجی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھا۔ صبح جلدی گھر سے نکلتا، بسوں کے ہجوم میں دفتر پہنچتا اور شام تک فائلوں اور حساب کتاب میں مصروف رہتا۔ اس کی زندگی کا حساب بھی کسی دفتر کے رجسٹر کی طرح سیدھا سادہ تھا۔ مہینے کے آخر میں تنخواہ، اسی سے گھر کا خرچ، بچوں کی فیس، بجلی اور گیس کے بل، اور اگر کچھ بچ جائے تو کبھی کبھار بچوں کے لیے کوئی چھوٹی سی خوشی خرید لی جاتی تھی۔ اس کے خواب بھی زیادہ بڑے نہیں تھے۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور اس کی بیوی کو زندگی میں زیادہ پریشانی نہ دیکھنی پڑے۔ وہ نہ سیاست میں دلچسپی رکھتا تھا اور نہ دنیا کی بڑی خبروں سے اسے کوئی سروکار تھا۔ اس کی نظر میں زندگی صرف اتنی تھی کہ مہینے کا حساب برابر رہے اور شام کو گھر آ کر بچوں کے ساتھ سکون کے چند لمحے مل جائیں مگر ان دنوں ایک چیز بدل گئی تھی۔ ہر ٹی وی چینل پر جنگ کی خبریں تھیں۔
کہیں بم گر رہے تھے، کہیں شہر جل رہے تھے، کہیں لوگ اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ تصویروں میں تباہ عمارتیں، خوفزدہ چہرے اور چیختے بچے دکھائے جاتے تھے۔ ایک دن دوپہر کے وقفے میں جب دفتر کے کمرے میں ٹی وی چل رہا تھا تو کامران کی نظر بھی اس پر پڑ گئی۔ خبر پڑھنے والا کہہ رہا تھا: دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں پر پڑ رہے ہیں۔ کامران نے چند لمحے سکرین کو دیکھا اور پھر مسکرا کر اپنے ساتھی سے کہا، یہ بڑی بڑی جنگیں ہیں بھائی! ہمارا ان سے کیا تعلق؟ ہم تو بس اپنی تنخواہ کے غلام ہیں۔ساتھی بھی ہنس دیا اور بولا، بالکل، ہمیں تو بس مہینے کے آخر کا انتظار ہوتا ہے۔

شام کو جب وہ گھر پہنچا تو بچے دروازے پر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کامران نے بیگ ایک طرف رکھا اور بچوں کو گود میں اٹھا لیا۔ ٹی وی پر پھر وہی جنگ کی خبریں چل رہی تھیں۔ ندا نے ریموٹ اٹھا کر آواز کم کر دی۔ ہر وقت یہی خبریں! دل گھبرا جاتا ہے نہ جانے دنیا کہاں جا رہی ہے۔ کامران نے بے فکری سے کہا،
ہماری زندگی ان چیزوں سے کہاں بدلتی ہے۔ جنگیں تو سرحدوں پر ہوتی ہیں، گھروں میں نہیں۔ اسی وقت ان کا بڑا بیٹا علی بولا،
بابا! ہمارے سر کہہ رہے تھے کہ جنگ ہو تو پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ کامران نے ہنستے ہوئے کہا: بیٹا، استاد لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ ہماری دنیا تو بس یہی گھر ہے۔ اس نے چائے کا گھونٹ لیا اور بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے لگا۔ اس لمحے اسے واقعی محسوس ہوتا تھا کہ اس کی چھوٹی سی دنیا ہر بڑی خبر سے محفوظ ہے؛ مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ دنیا کی بڑی خبریں خاموشی سے گھروں کے دروازے بھی کھٹکھٹا لیتی ہیں۔

چند ہفتوں بعد شہر کی فضا بدلنے لگی۔ بازار میں چیزیں مہنگی ہو گئیں۔ آٹا، چاول، تیل سب کی قیمت بڑھ گئی۔ بجلی کے بل بھی پہلے سے زیادہ آنے لگے۔ گیس کے بل دیکھ کر تو کامران خود حیران رہ گیا۔ ایک شام ندا نے آہستہ سے کہا: پہلے جو پیسے پورے مہینے کے لیے کافی ہوتے تھے، اب وہ بیچ مہینے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کامران نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ اگلے دن دفتر میں میٹنگ تھی۔ کمپنی کے مالک نے سنجیدگی سے کہا: عالمی حالات کے باعث کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ درآمدی اخراجات بڑھ گئے ہیں اور منافع کم ہو رہا ہے۔ ہمیں اخراجات کم کرنے پڑیں گے۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ہر شخص سمجھ رہا تھا کہ اس جملے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے! کچھ دن بعد ایک فہرست جاری ہوئی اور اس فہرست میں کامران کا نام بھی تھا، اس کی نوکری ختم ہو گئی تھی۔ جب وہ دفتر سے باہر نکلا تو شام کا سورج ڈھل رہا تھا۔ سڑک پر ہجوم تھا، گاڑیاں دوڑ رہی تھیں، لوگ اپنی اپنی منزلوں کی طرف جا رہے تھے مگر کامران کو لگا جیسے دنیا کی رفتار اچانک بہت تیز ہو گئی ہو اور وہ کہیں پیچھے رہ گیا ہو۔ وہ دیر تک شہر کی سڑکوں پر چلتا رہا۔ ہر گزرتا ہوا چہرہ اسے اجنبی لگ رہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے کوئی ایسی چیز چھن گئی ہے جس پر اس کی پوری زندگی کا سہارا تھا۔ گھر پہنچا تو بچے ہمیشہ کی طرح دروازے پر کھڑے تھے۔ کامران نے مسکرا کر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا، مگر اس کی مسکراہٹ میں وہ گرمی نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ندا نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور کہا: سب خیریت ہے؟ کامران کچھ دیر خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا، آج میری نوکری ختم ہو گئی۔ کمرے میں اچانک سناٹا چھا گیا۔

باہر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ٹی وی پر پھر وہی خبریں چل رہی تھیں۔ جنگ کے باعث دنیا بھر میں معاشی بحران! کامران نے پہلی بار ان خبروں کو پوری توجہ سے سنا۔ اسے اچانک محسوس ہوا کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں ہوتیں۔ ان کی گونج ہزاروں میل دور گھروں تک بھی پہنچتی ہے۔ وہ خاموشی سے بیٹھا بچوں کو دیکھتا رہا جو اس کے قریب آ کر بیٹھ گئے تھے۔ اس نے دونوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس لمحے اسے شدت سے احساس ہوا کہ دنیا کے نقشے پر لڑی جانے والی جنگوں میں صرف فوجی ہی نہیں ہارتے، کبھی کبھی ایک عام آدمی بھی ہار جاتا ہے۔ اس کے خواب ہار جاتے ہیں۔ اس کے منصوبے ہار جاتے ہیں اور سب سے زیادہ وہ سکون ہار جاتا ہے جو شام کے وقت ایک چھوٹے سے گھر میں بیٹھے ہوئے ملتا ہے۔

باہر رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ ٹی وی پر جنگ کی خبریں اب بھی جاری تھیں۔ مگر کامران نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا؛ کیونکہ اب جنگ کی آواز سننے کے لیے ٹی وی کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اس رات کامران بہت دیر تک جاگتا رہا۔ کمرے میں ہلکی سی خاموشی تھی۔ بچے سو چکے تھے اور ندا بھی تھکن سے گہری نیند میں تھی مگر کامران کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ چھت کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ صبح جب سورج نکلے گا تو اس کی زندگی پہلے جیسی نہیں ہوگی۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ دنیا کی بڑی جنگوں میں گولیاں صرف سرحدوں پر نہیں چلتییں بلکہ ان کی آواز کبھی کبھی ایک عام آدمی کے گھر کے اندر بھی سنائی دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں