محرومی/افسانہ/الطاف میر 0

محرومی/افسانہ/الطاف میر

محرومی/افسانہ/الطاف میر

اسلم کے گردے فیل ہوچکے تھے۔ وہ بستر مرگ پر لیٹے کراہ رہا تھا۔ والدہ کو تو چند دن پہلے زچکی کے دوران موت ثابت نگل چکی تھی۔اب گھر کا بوجھ اکلوتی بہن پر تھی۔ وہ شام کے وقت شہر کے مضافات سے ایندھن چنتی اور رات گئے تک دیا جلا کر کپڑے سیتی۔ ایک دن ناگہانی سے دروازے پر دستک ہوئی۔ ہانی کی خوشی کے مارے چیخ نکل گئی، بلال براث اسلام آباد سے تشریف لائے ہیں۔ اسلم کے داخل میں خوشی کی تازہ لہر دوڑ گئی وہ کانپتے ہوئے اٹھے، دونوں دوست گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے پھر مصافحہ کرکے بلال برابر کی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
بلال: طبیعت کیسی ہے ؟
اسلم: میں برابر ہوں جان۔ اسلم ایک باہمت نوجوان تھا انھوں نے کبھی بھی ہار نہیں مانی۔ پھر خاطر تواضع کے بعد اسلم نے بے تکلفانہ انداز میں کہا:
یاد ہے یونی ورسٹی میں بحث و مباحثہ ہوتی تھی، میں کہتا تھا بھائی ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نا بجلی ہے، نا پانی ہے، نہ معیاری تعلیم ہے، نا روزگار ہے، دنیا تو دور آپ تک بھی ہماری محرومیوں کی صدا نہیں پہنچتی بھئی ہمیں پریس کلب و میڈیا کی اشد ضرورت ہے، انٹرنیٹ کی ضرورت ہے۔ مگر اب یقین آیا؟!
بلال نے سوال کے تعاقب میں ازراہِ تفنن کہا جی جی بھرا، مگر اس سے بڑھ کر ششدر رہا کہ جیسے ہی میں شہر داخلہ ہوا آپ لوگ کسی پنجرے میں پرندے کی مانند بند نظر آئے،
بکل محفوظ!
بکل بے خطر!
اسلم نے جھوٹے مسکرہٹ چہرے پر چڑھائی، جی ہاں اب جب چاہے مالک شہر کے دیگر پرندوں سے لڑوائے، جب چاہے باہر نکالے یا پھر کسی دوست، یار کو سوغات کے طور پر پیش کرے، جہاں وہ ہماری ہڈیاں تک چبالے۔ چوں کہ ہم حلال ہیں، ہمارا خون بھی حلال ہے شوق سے پیا جاتا ہے۔ جیسے سردی اور گرمی کے موسموں میں “پخنی اور روح افزا”۔ بلال نے یک دم موضوع بدلا اچھا آپ کو کیا ہوا کیسے بیمار ہوئے؟:
اسلم نے پہلو بدلتے ہوئے کہا:
یار سوئی گیس کی بدبو نے ہمارے ناک میں دم کردی۔ یہاں گیس جلانے کےلیے نہیں سونگنے کےلیے ملتی ہے۔ تاکہ ججججج ــــــــــــــــــ بلال اور ہانی دونوں کی چیخ بلند ہوئی اسلم! اسلم، اسلم کے منہ، ناک اور کانوں سے بالترتیب خون بہہ رہا تھا۔ اور جسم نیلا پڑ چکا تھا۔

فرہنگ:
برابر ـــــــ بلکل ٹھیک
جان ــــــــ بھائی
براث ـــــــ بھائی
بھرا ــــــ بھائی
سوغات ــــــــ قیمتی تحفہ
محرومی/افسانہ/الطاف میر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں